Image result for monument valley
ہر چیز سے عیاں ہے،ہرشے میں نہاں ہے،خالِق کائنات، مالِک کائنات
عقلِ کُل،توانائی کُل، ہمہ جہت، ہمہ صِفت،خالِق کائنات، مالِک کائنات
آنکھیں کہ جِن سے میں دیکھا ہوں میری نہیں، عطائے خُداوندی ہے
  پاؤں کہ جِن سے میں چل تا ہوں میرے نہیں،عطائے خُدا وندی ہے
غرض یہ کہ میرے  وجود کا ذرہ  ذرہ   میرا  نہیں ،عطائے خُداوندی ہے
میرے خالِق میرے مالکِ میرے پروردگارانِ نعمتوں کا بے انتہا شُکریہ  


Tuesday, July 31, 2012

٭ خواہش ٭

منجانب فکرستان: جیمز اسٹیفنز کے افسانے" خواہش" کی تلخیص۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جیمز اسٹیفنز کے ذہن میں آئے اچھوتے خیال نےانوکھا انجام پایا ۔ مجھے یہ کہانی  پسند آئی اسی لئیے قارئین دوستوں سے شئیرنگ ہورہی ہے اس یقین کے ساتھ کہ کہانی  ضرور پسند آئیگی۔۔
 اس نے بیوی سے کہا کہ آج بڑی عجیب بات ہوئی ہے،سنو گی تو حیرت میں آجاؤ گی، میں آفس سے لنچ کیلئے ریستوران کی جانب جا رہا تھا  میرے آگے ایک صاحب جا رہے تھے جو بڑی عمر کے تھے بغیر دیکھے اپنی دھن میں روڈ کراس کرنے لگے تھے کہ اچانک تیز رفتار کار آگئی میں نے فوراً ان صاحب کو پکڑ کر ہٹا دیا ورنہ ایکسیڈنٹ یقینی تھا ، وہ صاحب میرے بڑے مشکور ہوئے اور پھر ہم دونوں کے درمیان باتوں کا سلسلہ چل نکلا اتنے میں ریستوران آگیا تو اس نے مجھے لنچ کی دعوت دی اور ہم دونوں ریستوران میں  داخل  ہوگئے، ریستوران میں باتوں کے دوران اس نے کہا آپ نے میری جان بچائی ہے اس لیے میں تمہاری کوئی ایک خواہش پوری کرنا چاہتا ہو۔۔ چاہے وہ خواہش کیسی ہی کیوں نہ ہو۔۔  پوری ضرور ہوگی۔
میں نے اس شخص کو غور سے دیکھا وہ پوری طرح سنجیدہ تھا ،اب میرے دماغ میں کھچڑی پکنے لگی کہ کس خواہش کی تکمیل چاہوں ۔۔۔پہلے دولت کے بارے میں سوچا۔۔ پھر خیال آیا  کہ اسکی ہمیں کوئی خاص ضرورت  نہیں ہے چونکہ گُزارا تو ٹھیک ٹھاک ہورہا ہے۔۔بیوی نے ٹوکا ۔۔۔ہو نہ بیوقوف۔۔۔ میں اسی لیے تمہیں بے وقوف کہتی ہوں، دولت کی ضرورت کسے نہیں ہوتی ۔۔۔عقل مند مجھے بھی معلوم ہے۔۔ بحث چھوڑو اور آگے سُنو۔۔۔دولت کے بعد صحت کے بارے میں سوچا لیکن صحت بھی میری ٹھیک ٹھاک ہے کسی قسم کی کوئی بیماری نہیں ہے۔۔ اور آخر میں علم کے بارے میں سوچا اسکی بھی مناسب مقدار میرے پاس ہے۔۔ اور ویسے بھی زیادہ علم نقصان دہ ہوتا ہے ۔۔
جب مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو میں نے ان صاحب سے پوچھ لیا کہ اگر وہ میری جگہ ہوتے تو کیا مانگتے ۔۔۔جس کا جواب اُنہوں نے یہ دیا کہ میں کچھ نہیں مانگتا بس ایسے ہی ٹھیک ہے ۔۔۔جس سے فوراً میرے دماغ میں  یہ خیال آیا کہ میں یہ خواہش کروں کہ میں مرتے دم تک اسی حالت میں رہنا چاہتا ہوں جیسا کہ اب ہوں۔۔۔ مجھ میں کوئی تبدیلی نہ آئے ۔۔بیوی نے غصہ سے  کہا۔۔ ہائیں۔۔ یہ تم نے کیسی واہیات خواہش چاہی ہے ۔۔۔ واہ ۔۔تم تو ایسے ہی رہو گے اور میں بوڑھی ہوجاؤں ۔۔ ۔ یہ تو تم نے میرے  ساتھ سراسر زیادتی کی ہے ۔۔ شوہر نے کہا۔ پریشان کیوں ہوتی ہو۔۔ میں کوئی نئے عشق نہیں کروں گا ۔۔۔اچھا چلو چھوڑو اس موضوع کو دوسری باتیں کرتے ہیں ۔۔۔ویسے بیگم ایک بات بتا دوں آج مُجھے کچھ عجیب سا سرور محسوس ہورہا ہے ۔۔۔بیوی نے کچھ ہنستے کچھ اِٹھلاتے ہوئے کہا۔۔۔نرے احمق ہو۔۔۔اچھا چلو بُہت رات ہوگئی ہے اب سوجاؤ۔۔۔
شب خوابی کا لباس پہن کر دونوں سوگئے ۔۔۔بیوی کو ایسا ڈراؤنا خواب آیا کہ ڈر کر جاگ گئیں شوہر کے اور قریب ہوگئیں ۔۔۔یکلخت ایسا محسوس ہُوا کہ ہاتھ شوہر کے بجائے کسی برف کی سل پر رکھ دیا ہو ۔۔ اور چیخ نکل گئی۔۔ لائٹ جلا کر شوہر کودیکھا جو لاش میں تبدیل ہوچکا تھا ۔
مرتے دم تک ایسا ہی رہنے کی خواہش پوری ہوچکی تھی :grin:۔۔۔         
کیوں جناب کچھ مزاح آیا :grin:۔۔اب اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔(ایم۔ڈی)


Saturday, July 28, 2012

متضاد سوچیں ۔۔۔

منجانب فکرستان: دو ایجادیں متضاد سوچوں کی پہچانیں ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جس قوم میں جس طرح کی سوچ پائی جاتی ہے اُس قوم کے جینئس افراد اُسی سمت میں اپنی صلاحیتیں صرف کرکے اُسی سوچ کی حامل ایجادیں کرتے ہیں ،ابھی حال ہی میں دو  متضاد سوچ کی حامل ایجادات کی خبریں  پڑھیں ،متضاد ان معنی میں ہیں کہ ایک ایجاد  کا تعلق اسی موجودہ  دُنیا سے ہے تو دوسری کا تعلق مرنے کے بعد کی دُنیا سے ہے ۔ یہ دو ایجادیں دو الگ الگ سوچوں کی پہچانیں ہیں۔ 
 اِس دنیا کو بہتر بنانے کی سوچ کے حامل ، جنیاتی کوڈ کی کا پی فراہم کر رہے ہیں تا کہ آنے والی نسلیں بیماریوں سے پاک صحت مند  زندگی گُذارسکیں، جبکہ دوسری دنیا کو بہتر بنانے کی سوچ نے ایک ایسی جائے نماز ایجاد کی ہے جو قبلہ کا صحیح رخ بتاتی ہے کہ نماز کی ادائیگی صحیح سمت میں ہو، تاکہ عبادت قبول ہو اور جنت پائیں۔اِس سوچ کے حامل جینئس افراد قُرآن ،حدیث اور عبادات کے حوالے سے آ ئے دن نئی سے نئی ایجادیں کرکے جہاں دوسروں کیلئے جنت کے حصول کیلئے آسانیاں پیدا کرتے ہیں وہیں اس میں اپنے لیے ثواب کمانے کی سوچ بھی شامل ہوتی ہے۔۔۔اس سوچ کے حامل لوگوں کا محور آخرت ہوتا ہے۔۔ 
کیا جن لوگوں  کی سوچ کا "محور" آخرت ہے وہ اِس دنیا کو گذارنے کیلئے  ہمیشہ اُن لوگوں کے محتاج رہیں  گے کہ جن کی سوچ کا "محور" یہ دنیا ہے ،جو اِس دنیا کو بہتر  سے بہتر بنانے کی کوشش میں اپنی سوچ کی انرجی صرف کررہے ہیں ؟؟ کیا ہماری  قسمت میں محتاجی لکھ دی گئی ہے ؟؟ یا ہماری سوچ نے ہماری قسمت کو  محتاج بنادیا ہے ؟؟؟ 
 کیونکہ اللہ تعلیٰ نے تو  تمام انسانوں کیلئے اپنا پیغام النجم آیت  39  میں صاف لفظوں میں دے دیا ہے کہ   وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ﴿٣٩﴾  ترجمہ" ہر انسان کیلئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اُس نے کی " (ترجمہ محمد جونا گڑھی) اسی آیت کو علامہ اقبال نے اپنے  شعرمیں یوں ڈھالا ہے۔
خُدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی ٭ نہ ہو جس  کو خیال خود اپنی حالت بدلنے کا۔ 
دونوں خبروں کی تفصیلات لنک پر ۔۔ اب اجازت دیں۔۔ آپکا بُہت شُکریہ۔۔(ایم۔ڈی)

Thursday, July 26, 2012

یہ کیا معمہ ہے ؟؟؟

منجانب فکرستان:  کیا کسی کے پاس اِن سوالات کے جوابات ہیں ؟ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
برمی مسلمانوں کا ہزاروں کی تعدادمیں قتلِ عام کا  کالم (لنک پر) پڑھ کرحیرت زدہ سوالات ذہن میں گردش کرنے لگے کہ اس قتلِ عام کو انٹر نیشنل میڈیا اور انٹرنیشنل انسانی حقوق کی تنظیمیں دُنیا کے سامنے ہائی لاٹ کیوں نہیں کر رہے ہیں؟ پاکستان سمیت مسلم دنیا کیوں خاموش ہے؟ اقوام متحدہ میں قتلِ عام کو رکوانے کیلئے  کسی  ملک/مسلم ملک نے قرار داد پیش کیوں نہیں کی ؟
 حیرت اس بات پر بھی ہے کہ ایسے موقعوں پر عوامی لیڈروں  کی  لیڈری کام آتی ہے  جو ایک پُر امن راستہ نکالتی ہے۔ لیکن انسانیت کے علمبردار دلائی لاما اور آنگ سان سوچی اس وحشیانہ قتل عام کو کیوں نہیں رکوا رہے ہیں؟۔۔۔ حیرت اس بات پر بھی ہے کہ آسام فسادات 41 ہلاکتوں کو انٹر نیشنل میڈیا کوریج دے رہا ہے لیکن ہزاروں کی تعداد میں  وحشیانہ انداز کی ہلاکتوں پر پاکستان سمیت دنیا بھر کا میڈیا  خا موش کیوں ہے ؟؟؟ 
یہ کیا معمہ ہے ؟؟؟ 
نوٹ: اگر کسی قاری کے پاس درج بالا سوالات کے جوابات ہیں تو برائے مہر بانی میری معلومات میں اضافہ فرمائیں (صرف جوابات پبلش ہونگے)۔ لنک پر موجود کالم سے متاثر ہوکر یہ پوسٹ لکھی ہے ۔۔۔ اب اجازت دیں ۔۔
آپ کا بُہت شُکریہ۔( ایم۔ ڈی)

Tuesday, July 24, 2012

" ٹی وی چینل ماریہ کا۔۔۔۔اثر یقینی "

منجانب فکرستان:- ماریہ ٹی وی/ سعودی عرب/ امریکی/ مغربی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جس طرح دو سعودی خواتین اتھلیٹس کا اولمپک میں حصّہ لینا دُنیا کیلئے ایک بڑی  حیران کن خبر تھی، اسی طرح خواتین کے حوالے سے مصر کا "ماریہ ٹی وی چینل" بھی دُنیا والوں کیلئے کوئی چھوٹی خبر نہیں ہے، چونکہ اس چینل کو چلانے والی خُواتین نہ صرف برقعہ پوش ہیں بلکہ نقاب بھی لگا تی ہیں اور نقاب لگا کر پروگرام پیش کر تی ہیں اس ٹی وی چینل کے مقاصد یہ بتائے جا رہے ہیں کہ برقعہ پوش خواتین کو موقع فراہم کرنا ہے کہ وہ برقعے/ نقاب میں رہتے  ہوئے اپنی صلاحیتوں  کا بھر پور طریقے سے اظہار کر سکیں گی ۔۔۔۔
ماریہ چینل کا اثر نہ صرف عرب دنیا بلکہ مسلمانوں کی اکثریت رکھنے والے ممالک پر بھی پڑے گا۔ممکن ہے کہ ہمیں جلد ہی یہ خبر سننے کو ملے کہ سعودی عرب میں بھی ماریہ طرز کے چینل نے اپنی نشریات کا آغاز کردیا ہے۔۔۔سعودی عرب کے بعد کے ممالک۔؟۔؟۔؟۔؟۔؟ اور پھر پاکستان۔۔ :grin::grin:
امریکی اور مغربی تھنک ٹینکس کے بھی کان کھڑے ہوگئے ہونگے اور سوچ میں پڑ گئے ہونگے کہ خُدا جانے یہ نقاب پوش چینل کیا گل کھِلائے گا؟؟؟:grin::grin:
 ماریہ ٹی وی کی جھلک لنک پر ۔۔اب اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔(ایم۔ڈی) 

Monday, July 23, 2012

" دُعاؤں میں یاد رکھنا "

منجانب فکرستان:کسی شخص پر دُعاؤں میں یاد رکھنے کی ذمہ داری ڈالنا کہاں تک صحیح ہے؟؟؟
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بُہت سے الفاظ یا جملے جب عام بول چال میں کثرت سے استعمال ہو نے لگتے ہیں، تو ان کے معنوں میں فرق آجا تا ہے۔" دُعاؤں میں یاد رکھنا " ایک ایسا ہی جملہ ہے جو آجکل کثرت سے بولے جا نے والا جملہ ہے،اس جملے کے معنی میں اتنا زیادہ فرق آگیا ہے کہ ایک طرح سے یہ بے معنی ہوکر رہ گیا ہے۔شروع شروع میں اس "جملے" کو کسی خاص مسئلے مثلاً بیماری سے صحت یابی،  ،کاروبار ،نوکری وغیرہ کیلئے  قریبی رشتے دار یا خاص الخاص دوست ایک دوسرے سے نماز میں خصوصی دُعا کیلئے کہتے تھے، اور جس سے کہا جاتا تھا وہ اپنے پر فرض سمجھ کر اُسے ادا کرتا تھا  یعنی اُس شخص کا نام لیکر اُس مسئلے کے حل کیلئے دُعا کرتا تھا ،پھر یہ جملہ عام رواج پا گیا تواب یہاں پر آکر اس جملے  میں سے اسکی اصلی خصوصیت یعنی خصوصی مسئلے کیلئے دُعا والا تصور نکل گیا ۔۔۔
بازار سے کوئی چیز خریدی دُکاندار کہہ رہا ہے دُعاؤں میں یاد رکھنا یا خریدار دُکاندار سے کہہ رہا ہے دُعاؤں میں یاد رکھنا ،کسی سے ملاقات ہوئی ختم ہونے پر خُدا حافظ یا اللہ حافظ کہنے کی بجائے دُعاؤں میں یاد رکھنا کہنے کا رواج بڑھتا جا رہا ہے، جواباً لوگاثبات میں سر ہلاتے ہیں یعنی ہاں یاد رکھیں گے۔ اس  طرح آپ ذمہ داری  لے لیتے ہیں کہ آپ اُس شخص کو یاد رکھ کر اُس کیلئے دُعا کریں گے ۔۔ دن بھر میں نہ جانے کتنے لوگوں سے یہ جملہ سننے کو ملتا ہے کئی لوگوں کا تو یہ تکیہ کلام بن گیا  ہے،آپ کس کس کو یاد رکھیں گے؟؟ نتیجاً یہ جملہ رسمی اور بے معنی ہوگیا ہے۔ اس لیے۔۔کسی شخص پر دُعاؤں میں یاد رکھنے کی ذمہ داری ڈالنا کہاں تک صحیح ہے ؟؟؟
درج بالا خیالات سے اتفاق کرنا ضروری نہیں ہے۔ اب اجازت دیں ۔آپکا بُہت شُکریہ ۔(ایم-ڈی)  

Sunday, July 22, 2012

"گن کلچر "

منجانب فکرستان:"پروپیگنڈہ" بمعنی بڑھا چڑھا کر پیش کرنا۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
لگتا ایسا ہے کہ دہشت گردی ، دہشت گردی کی راگنی اتنی زیادہ الاپی گئی کہ اسکا اثر امریکی اورمغربی نوجوانوں میں بھی سرائیت کرگیا، جس کی انتہائی وحشیانہ مثال امریکی سینما میں 14 ہلاکتیں 70 زخمی/ناروے کی دہشت گردی بھی ایسی ہی سفاکانہ تھی،  امریکہ اور یورپ اپنے آپ کو محفوظ بنانے کے خبط میں لاشعوری طور پر اپنے  آپکو  غیرمحفوظ بنا لے رہے ہیں۔۔ چونکہ پروپیگنڈہ راگنی کے تنائج حسبِ منشا نکلنے کے بجائے اس کے بر خلاف نکل رہے ہیں۔۔۔
 اگردہشت گردی پروپیگنڈہ راگنی بند نہ ہُوئی تو یہ راگنی دُنیا بھر کے نوجوانوں میں سرایت کرجائے گی چونکہ دُنیا بھر کے نوجوانوں میں ویسے بھی معاشی بحران کے حوالے سے سخت فرسٹریشن پایا جاتا ہے، جس نے ان نوجوانوں کی سوچ کو مفلوج کیا ہُوا ہے،یہ راگنی بند نہ ہوا تو ان نوجوانوں کو دہشت گردی کی راہ دکھائے گی(ان فرسٹریشن زدہ نوجوانوں نے اپنےفرسٹریشن کی جھلک وال اسٹریٹ قبضہ تحریک میں بھی دُنیا کے دکھادی ہے) امریکی اوریورپی تھنک ٹینکس سر جوڑ کر بیٹھیں اور غیر جانبدارانہ بلا تعصبی حساب لگائیں کہ دہشت گردی پروپیگنڈہ پالیسی نے دُنیا میں خوف،دہشت اور گن کلچر کو بڑھاوا دیا  ہے یا کہ اس میں کمی کی ہے۔ جواب آسانی سے مل جائے گا۔ 
لنک پر کچھ اخبارات کی ہیڈ لائنز ہیں۔ اب اجازت دیں ۔ آپکا بُہت شُکریہ۔(ایم۔ڈی)

Friday, July 20, 2012

مسئلہ کیسے حل ہوگا ؟؟؟

منجانب فکرستان: کہیں یہ" مُک مُکا" کا مسئلہ تو نہیں ہے؟ خبر کیا کہتی ہے ؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 بیچارے بچے کہیں "انا" اور ضد کی وجہ سے  پولیو میں مبتلا نہ ہوجا ئیں شمالی وزیرستان کے ایک لاکھ 61 ہزار بچّوں کا کیا قصور ہے کہ جنہیں پولیو کے قطرے نہیں پلائے جارہے ہیں۔ پولیٹیکل انتظامیہ شمالی وزیرستان نے پولیو مہم کی بحالی کے لیے میران شاہ اتمان زئی قبیلے کا جرگہ طلب کیا، جرگہ میں پولیٹیکل ایجنٹ نے بتایا کہ حکومت نے تمام ترقیاتی فنڈ اس لیے  روک لیے ہیں کہ پولیو قطرے پلانے کی مہم شروع نہیں کی گئی، جواباً اتمان زئی جرگہ کے عمائدین نے پولیٹیکل ایجنٹ پر واضع کیا کہ جب تک ڈرون حملے بند نہیں ہو تے تب تک پولیو مہم کا بائیکاٹ جاری رہے گا ۔۔۔ڈر یہ ہے کہ کہیں اس بائیکاٹی ضد کی وجہ سے بیچارے بچے پولیو میں مبتلا ہوکر اپائج  نہ ہوجائیں ۔بے شک ڈرون حملے ظلم ہیں لیکن / کیا اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ ہم اپنے ہی بچوں کو پولیو کے قطرے نہ پلاکر زندگی بھر کیلئے معزور بنا ڈالیں ؟؟؟ 
 خبر کیلئے لنک پر جائیں، اور مجھے دیں اجازت۔۔۔آپ کا بُہت شُکریہ۔۔ (ایم۔ڈی)    

Thursday, July 19, 2012

* ٹرائینگلی محنت کی سول ٹچ تخلیق *

منجانب فکرستان: راجیش کھنہ پر پکچرائز ایسا گانا ، جس میں فلسفہ زیادہ ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جنہیں ہم جانتے ہیں چاہے وہ کسی حوالے سے ہو اُن میں سے کوئی اس دُنیا سے چلا جاتا ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہمارا کوئی چلا گیا ہے راجیش کھنہ کے چلے جانے کا احساس بھی ایسا ہی ہے۔اُن پر پکچرائز ایک ایسا پُر اثر گا نا جس میں فلسفہ زیادہ ہے۔اس گانے کی خاص بات یہ بھی ہے کہ اِسکو لکھنے والے آنند بخشی ،میوزک دینے والے آر۔ڈی برہمن اور آواز دینے والے کشور کمار تینوں اس دنیا سے چلے گئے ہیں لیکن اپنی ٹرائینگلی محنت کا ثمر روح کو چھو لینے والا یہ پُر اثر نغمہ ہمارے لئے چھوڑ گئے ہیں۔۔ آئیں کچھ دیر کیلئے اپنا وقت انکی تخلیق کے دائرہ اثر  میں گُذاریں۔
نوٹ :- اگر نیٹ کی اسپیڈ کم ہے تو وڈیو کی اسپیڈ 240 کرلیں شکریہ ۔ (ایم۔ڈی) 

Monday, July 16, 2012

" نا دیدہ مخلوق "

منجانب فکرستان:جن،بھوت،پری وغیرہ کے بارے میں"آئس لینڈی" باشندوں کی دلچسپ مختصر لوک کہانی۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ایک بارخُدا  نے"ایڈم اور ایو " سے ملاقات کی، اُنکا گھر دیکھا ، اُن کے بچوں کو دیکھا، پھر خُدا  نے ایو سے پوچھا "باقی بچّے کہاں ہیں ؟" ایو نے کہا" بس یہ ہی ہیں" وہ اس  بات  پر شرمندہ تھیں کہ باقی بچوں کو خُدا کے سامنے اس وجہ سے نہ لا سکیں کہ وہ نہائے ہوئے نہیں تھے اور نہ ہی صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔اس پرخُدا نے کہا " جو لوگ خُدا  سے چھپتے ہیں خُدا  بھی اُنہیں باقی لوگوں سے چُھپا دیتا ہے "اس طرح یہ بچّے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے پوشیدہ ہوگئے۔۔۔جن،بھوت، پری،بونے، وغیرہ انہیں پوشیدہ بچوں کی اولادیں ہیں اور جو بچے خُدا کے سامنے صاف ستھرے آئے تھے ، ہم انسان، اُنکی نسلیں  ہیں ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
یہ تاویلی لوک کہانی 15 جولائی کے سنڈے ایکسپریس میگزین میں چھپی، مُجھے دلچسپ لگی اس لیے اپنے اُن دوستوں کیلئے بلاگ پر سجائی ہے کہ جن کی نظروں سے یہ کہانی نہیں گُذری۔۔/اب اجازت دیں۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔
 (ایم۔ڈی)


Monday, July 2, 2012

پا جی " موجاں کرو "

منجانب فکرستان: انٹرویو سے اخذ/نعیم بُخاری کی چند دلچسپ باتیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
نعیم بُخاری:-۔کیا صرف نماز کی صفیں سیدھی کرنا ہی مذہب ہے؟ قرآن مجید کو احترام سے سنبھال کر رکھتے ہیں مگر اسکو سمجھ کر پڑھنے کی کبھی توفیق نہیں ہوتی،کسی کی بھی تفسیر پڑھ کر سمجھتے ہیں کہ قُرآن کو سمجھ لیا ہے۔ ہمارے ایک استاد نے کہا کہ ہر بندہ اس لیے نماز پڑھ رہا ہے کہ بدلے میں خُدا اسکے کام کرے گا، اس کی دُعائیں سُنے گا، ہم تو خُدا سے بھی  سودا کرتے ہیں ، میں تیرے لیے نماز پڑھ رہا ہوں ، تم میرے کام سیدھے کرو۔ 
٭ ہم نے گُلی ڈنڈا کھیلا، پتنگیں اُڑائیں، محلے کی عورتوں کو تاڑا (قہقہہ)۔۔ ۔والد صاحب ہم سے بڑی محبت کرتے تھے، مگر ہمیں، تھپڑ لگانے میں اُنکو ذرا دیر نہیں لگتی تھی۔۔میں بھی اپنے بچوں سے عشق کرتا ہوں مگرعشق اپنی جگہ اور تھپڑ اپنی جگہ  (ہنستے ہوئے) ۔۔
 ٭ والدصاحب کی خواہش پر فوج میں اپلائی کیا ، سارےٹیسٹ کلئیر ہوگئے جس سے ہمیں یہ اندازہ تو ہوگیا کہ ہماری مردانگی میں کوئی کمی نہیں ہے۔۔۔ لیکن انٹرویو میں فیل ہوگئے ۔۔سوال پوچھا گیا تھا کہ آرمی کیوں جوائن کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے بڑے تفاخر سے جواب دیا کہ ہم یونیفارم میں بہت وجیہہ دکھائی دیتے ہیں۔یہ بڑی معقول وجہ تھی جو  میں نے اُنہیں بتائی (ہنستے ہوئے) ۔۔ 
٭ ہمارے ایک دوست تھے وہ داتا صاحب بُہت جاتے تھے وہ لاہور ہائی کورٹ کے جج بنے پھر وہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہوگئے اور پھر سپریم کورٹ کے جج ہوگئے مگر وہ داتا صاحب پھر بھی جاتے رہے تو میں نے اُن سے کہا " راتیں داتا صاحب میرے خواب وچ آئے سن ، او کہندے سن ، اونوں روک، ہور میں اوندے لئی کُجھ نہیں کر سکدا "۔۔
٭ ٹی وی پر میرا حادثاتی طور پرآنا ہُوا، میری زندگی کے اکثر واقعات حادثاتی طور پر ہوئے،  ایک لطیفہ یاد آگیا جو مجھے احمد فراز نے سُنایا تھا وہ یوں تھا کہ ایک میراثی نے اللہ سے دُعا کی ، مجھے ایک کروڑ دے یا موت دے دے ۔اتنا کہنا تھا کہ فوراً زلزلہ آگیا ،میراثی بھاگتا ہُوا باہر نکلا اور کہنے لگا ، بُری باتیں کتنی جلدی مانتا ہے ۔۔۔
٭ میں بُہت خوش نصیب ہوں ، اللہ تعلیٰ کی دی ہوئی نعمتوں پر شُکر ادا کرتا ہوں  اور مجھے کسی سے حسد نہیں ہوا ،کسی کی گاڑی ہو یا بنگلہ حتیٰ کہ خوبصورت بیوی بھی ہُوتو دیکھ کر یہی دُعا نکلتی ہے"پاجی موجاں کرو"(قہقہہ)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
نوٹ: یہ انٹرویو"خُرم سُہیل" نے کیا تھا جسے اُنہوں نے اپنی کتاب "باتوں کی پیالی میں ٹھنڈی چائے " میں شامل کیا ہے ۔۔۔مجھے یہ پسند آیا تو اپنے دوستوں سے شئیر کرنے کیلئے اسکی چند باتیں اپنے بلاگ پر سجالیں ہیں۔۔۔۔۔
میرا ایسا خیال ہے کہ پنجابی کا لفظ" مُک مُکا " کو اردو زبان میں عام فہم بنانے میں محترم جناب نعیم بخاری صاحب  کا ہاتھ ہے۔۔آجکل اس لفظ پر جوانی آئی ہوئی ہے ۔اب اجازت دیں آپ کا بُہت شُکریہ ۔۔۔ (ایم۔ڈی)