Image result for monument valley
ہر چیز سے عیاں ہے،ہرشے میں نہاں ہے،خالِق کائنات، مالِک کائنات
عقلِ کُل،توانائی کُل، ہمہ جہت، ہمہ صِفت،خالِق کائنات، مالِک کائنات
آنکھیں کہ جِن سے میں دیکھا ہوں میری نہیں، عطائے خُداوندی ہے
  پاؤں کہ جِن سے میں چل تا ہوں میرے نہیں،عطائے خُدا وندی ہے
غرض یہ کہ میرے  وجود کا ذرہ  ذرہ   میرا  نہیں ،عطائے خُداوندی ہے
میرے خالِق میرے مالکِ میرے پروردگارانِ نعمتوں کا بے انتہا شُکریہ  


Friday, May 22, 2015

نّنھے پرندے کا دعو تِ" حمد"۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔

منجانب  فکرستانبرائےآگہی اور غوروفکر کیلئے      
ساتھ میں  خوبصورت ۔   "  حمد"   ۔وڈیو لنک

انسانی عقل کہتی ہے: میں نہ مانوں
۔۔۔۔میں نہیں مان سکتی !! 
خُدائ حکمت کہتی ہے: نہیں مان تی ہے ، تو جا پھر جا کے خود ہی اپنی آنکھوں سے دیکھ لے کہ تقریبًا 10 سے 12 گرام وزن کا حامل نّنھا سا پرندہ "بلیک  پول واربلر" جسکے پروں کا سائز تقریبًا 
 6۔cm6 ہے اسکے باؤجود یہ نّنھا سا ہجرتی پرندہ اپنے ہجرت کا سفر بِنا کہیں رُکے  (Non-stop)۔۔۔ دنِ ہو کہ رات لگاتار محو پرواز رہتے ہوئے 2770 کلو میٹر کا ہجرتی فاصلہ80تا85 گھنٹوں  میں طے کر لیتا ہے۔۔۔
اور نۓ مُقام پر پہنچ کر اپنی میٹھی سُریلی آواز میں اُن لوگوں کوحمد "  سُنا تا ہے جو کہ اللہ  کی  نشانیوں پر  غور کیا  کرتے       ہیں۔۔۔۔۔۔  
   وڈیو لنک: https://www.youtube.com/watch?v=5Ddv4LUAslE 
-----------------------------------------------------------------------------------------------
گوگل لنک: https://www.google.com.pk/search?q=blackpoll+warblers&oq=blackpoll+warblers&aqs=chrome..69i57j69i59l3&sourceid=chrome&es_sm=93&ie=UTF-8

{ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }






















Thursday, May 7, 2015

" فکرستان کی شیئرنگ "

فکرستان  کی شیئرنگ :  غور و فکرکیلئے ساتھ میں ویڈیو لنک

"قید میں ہم کسی کے بےگناہ یا گناہ گار ہونے کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔

 یہ سب تقدیر کے فیصلے  ہیں،

"سب کا یہ عذر کافی ہے کہ تقدیر کے سامنے تمام منصوبے ناکام ہوتے  ہیں" ۔

(ڈاکٹر ذوالفقار علی خان ) ۔ 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

19 سال بعد ڈاکٹر ذوالفقار کو پھانسی دے دی گئی

6 مئ 2015


ذوالفقار علی خان کو سنہ 1998 میں قتل کے جرم میں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی

ڈاکٹر ذوالفقار علی خان کو آج علی الصبح لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں تختۂ دار پر لٹکا دیا گیا اور یوں اُن کے بقول ’لکھے گئے تقدیر کے فیصلے کی سزا 19 سال کے طویل عرصے کے بعد پوری ہوئی۔‘
ذوالفقار علی خان کو ان کے جیل کے ساتھی قیدی اور عملہ احتراماً ڈاکٹر ذوالفقار کہتے تھے۔ ان کے پاس علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے حاصل کردہ ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی تھی جو انھوں نے قید کے دوران حاصل کی۔
ذوالفقار علی خان کو سنہ 1998 میں قتل کے جرم میں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی اور اس کے بعد سے وہ جیل میں تھے جہاں انھوں نے درجنوں قیدیوں کو تعلیم دی اور اپریل سنہ 2009 کے آخر تک ان کے 12 قیدی شاگردوں نے بی اے، 23 نے انٹر اور 18 نے میٹرک کے امتحانات پاس کیے۔



ذوالفقار علی خان نے ایک خط لکھا جو ان کے وکلا نے بی بی سی کو دیا جس میں انھوں نے اپنے جیل کے ایام کے بارے میں تفصیل لکھی، اپنے خدشات، اپنی لاوارث بچیوں کے مستقبل اور ان کی تعلیم کے حوالے سے پریشانیوں کا ذکر کیا۔
اس خط کے بی بی سی تک پہنچنے میں بہت دیر ہوئی کیونکہ فریقین میں مذاکرات آخری لمحے تک جاری رہے اور کبھی امید بنتی کبھی بگڑتی نظر آتی تھی اور اس تحریر میں بھی تاخیر ہوتی گئی۔ ہمارے پاس ان قیدیوں کے خطوط بھی پہنچے جنھوں نے ذوالفقار علی خان کے جیل میں مثالی کردار کے بارے میں لکھا اور اس بارے میں بھی لکھا کہ انھوں نے جیل میں تعلیم کیسے مکمل کی۔
بی بی سی کو موصول ہونے ان چند قیدیوں کے خطوط میں ذوالفقار علی خان کی شخصیت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں موت کی سزا کے منتظر قیدی عبدالرحمان نے انھیں ساتھی قیدیوں کے لیے روشنی کی علامت قرار دیا جبکہ ایک قیدی اشفاق حسین نے لکھا کہ جب وہ جیل میں آئے تو وہ میٹرک پاس تھے تاہم انھوں نے جیل میں ڈاکٹر ذوالفقار کی رہنمائی ایف اے فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا اور بی اے کے امتحانات دیے۔


اڈیالہ جیل راولپنڈی میں سزائے موت کے منتظر قیدی اشفاق حسین کا ڈاکٹر ذوالفقار کے بارے میں ایک خط

سزائے موت کے منتظر ایک دوسرے قیدی شکیل غضنفر نے اپنے خط میں لکھا کہ انھوں نے ڈاکٹر ذوالفقار کی زیرِ نگرانی ایف اے اور لسان العربی کے امتحانات پاس کیے۔
ذیل میں ذوالفقار علی خان کے خط کے کچھ اقتباسات پیشِ خدمت ہیں:
’قید میں ہم کسی کے بےگناہ یا گناہ گار ہونے کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ یہ سب تقدیر کے فیصلے ہیں سب کا یہ عذر کافی ہے کہ تقدیر کے سامنے تمام منصوبے ناکام ہوتے ہیں۔
’میں نے بحثیت طالب علم پڑھا تھا کہ علم حاصل کرو ماں کی گود سے قبر تک۔ اس طرح علم ایک لازوال دولت ہے، سو میں نے علم حاصل کرنے اور دینے کا سوچ لیا اور اس کو اللہ کا نام لے کر شروع کر دیا۔‘


ڈاکٹر ذوالفقار کے مختلف ڈپلوما جات اور ڈگریوں کا عکس
ڈاکٹر ذوالفقار کے مختلف ڈپلوما جات اور ڈگریوں کا عکس

’میں جب جیل آیا تو فطری بات ہے انسان بہت پریشان ہوتا ہے، اہل خانہ سے جدائی کا غم ہوتا ہے، آزادی چھن جانے کا دکھ ہوتا ہے، دنیا کا آرام و سکون دور بھاگ جاتا ہے اور دنیا کی چھوٹی سے چھوٹی نعمتیں روٹھ جاتی ہیں۔
’انسان وقت کے مرہم اور صبر سے جیل کے اندر وقت گزارنے کے طریقے تلاش کرتا ہے، ہر آدمی طبیعت کے مطابق دوست بناتا ہے، کچھ مطالعہ کرتے ہیں مگر جیل میں وہی کام ممکن ہیں جو یہاں کرنے کی اجازت ہو تی ہے۔‘
ڈاکٹر ذوالفقار کی اہلیہ نے ان کے جیل جانے کے بعد گھروں میں کام کاج کر کے اپنی دو بیٹیوں کی کفالت کی مگر 2006 میں وہ بھی کینسر کا نشانہ بن گئیں جس کے بعد ان کے ذہن پر بیٹیوں کے مستقبل کے حوالے سے خدشات اور فکر نے غلبہ پانا شروع کیا۔
اُن کی بڑی بیٹی نور فاطمہ 18 برس جبکہ چھوٹی فضا 17 برس کی ہیں اور اپنے رشتہ داروں کے پاس مقیم ہیں۔
انہوں نے لکھا: ’آج میں جس دکھ اور قرب میں مبتلا ہوں وہ یہ ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں علم سے پیار کیا اور علم کی روشنی بانٹی مگر میری اپنی بیٹیاں حالات کے رحم و کرم پر ہیں اور آج وہ اپنی تعلیم سلسلے کو جاری رکھنے میں مشکلات کا شکار ہیں، مگر مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی غیبی مدد فرمائے گا۔‘
ڈاکٹر ذوالفقار علی خان نے دورانِ اسیری میں جو ڈگریاں حاصل کیں ان میں ایم اے اسلامیات، ایم اے انگلش، اسلامک لا کورس، پوسٹ گریجویٹ ڈپلوما ان کلینیکل سائیکالوجی، مطالعہ اسلام، مطالعہ حدیث، مطالعہ قران، ترجمہ قرآن، تفسیر قرآن، علمِ تعزیر، ماس کمیونیکشن ڈپلوما، جرنلزم ، فارسی، عربی ، بینکنگ ڈپلوما شامل ہے۔
اس کے علاوہ انھوں نے دو کتابیں لکھیں جن کے مسودے تیار ہیں اور اشاعت کے منتظر ہیں۔

(بشکریہ:   بی بی سی)-
 _______________________________________________________
https://www.youtube.com/watch?v=AYmu59rorXo
{ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }