Image result for monument valley
ہر چیز سے عیاں ہے،ہرشے میں نہاں ہے،خالِق کائنات، مالِک کائنات
عقلِ کُل،توانائی کُل، ہمہ جہت، ہمہ صِفت،خالِق کائنات، مالِک کائنات
آنکھیں کہ جِن سے میں دیکھا ہوں میری نہیں، عطائے خُداوندی ہے
  پاؤں کہ جِن سے میں چل تا ہوں میرے نہیں،عطائے خُدا وندی ہے
غرض یہ کہ میرے  وجود کا ذرہ  ذرہ   میرا  نہیں ،عطائے خُداوندی ہے
میرے خالِق میرے مالکِ میرے پروردگارانِ نعمتوں کا بے انتہا شُکریہ  


Wednesday, February 29, 2012

" مکالمہ کو چھوڑیں ٭ حقیقت کو دیکھیں "

منجانب فکرستان پیش ہے: بحث کرنا نہیں چاہتا تھا ٭آئینہ دکھانا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وڈیو پوسٹ" وڈیو" پر تبصرہ آیا ۔ گاناسن کر تو میری دُنیا جادو جادو سی ہوگئی ہے ۔وڈیو پوسٹ "خوبصورت دُھن" پر تبصرہ  آیا۔موسیقی سے صرف لو بلڈ بریشرکا علاج ہوسکتا ہے۔۔۔وڈیو پوسٹ "پشتو کی لاجواب دُھن" پر تبصرہ میں۔حدیث کوٹ کی حوالہ نمبر نہیں دیا اور فرمایا کہ اسلام میں موسیقی کو پسند نہیں کیا جاتا۔۔۔آپ حدیث کوٹ کر رہے ہیں،اسلام میں موسیقی کو پسند نہیں کیا جاتا  بھی کہہ رہے ہیں ۔۔۔اور  پھر یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ گانا سُن کر تو میری دُنیا جادو جادو سی ہوگئی ۔۔۔ یہ کیسا تضاد ہے؟؟؟ آپ خود فیصلہ کریں۔۔۔اور مُجھے دیں اجازت۔۔۔ تبصرہ اور جواب درج ذیل لنک پر موجود ہے ۔
http://universe-zeeno.blogspot.com/2012/01/blog-post.html
نوٹ: تبصروں کی پبلشنگ بند ہے ۔۔۔

Wednesday, February 22, 2012

٭ ضمنی اثرات کے بارے میں ٭

منجانب فکرستان پیش ہے:ایکسپریس سنڈے میگزین میں شائع شُدہ اسپیشل رپورٹ سے چیدہ چیدہ باتیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
امریکہ میں ہر سال 20 تا 25 لاکھ افراد ضمنی اثرات کے زد میں آتے ہیں ،اِن میں سے کم وبیش ایک لاکھ مر جاتے ہیں ۔ مشہور گلوکار مائیکل جیکسن کو نیند کی شکایت تھی  ڈاکٹر " کونارڈ مرے" کی خدمات حاصل کیں لیکن" مرے "نے تو اُسے مار ہی دیا  ڈاکٹر مرے نیند کیلئے  "پروپوفل"  نامی دوا دینے لگا جبکہ مائیکل جیکسن ڈیپریشن کو بھگانے والی  دوا " لورازپام اور میڈازولم" بھی کھا رہا تھا۔۔۔ تینوں دواؤں کے ملاپ سے ایسا مضر صحت مواد پیدا ہُوا  کہ ہارٹ اٹیک کا باعث بنا اِس طرح لاکھوں افراد  کا محبوب فنکار اُن سے ہمیشہ کیلئے جُدا ہو گیا ۔۔۔
58 سالہ" لیری" لندن کا باسی پیٹ کی بیماری" باؤل سائنوڈریم" میں مبتلا ہُوا لندن کے  ڈاکٹر نے  سٹیلا زائن نامی دوا تجویز کی جبکہ پیٹ کی اس بیماری میں یہ دوا نہیں دی جاتی ہے ۔۔۔ اس دوا کے6 ماہ کے استعمال کے ضمنی اثرات سے لیری ایک نئے مرض   پارکنسونزم میں بھی مبتلا ہوگیا اس بیماری میں پٹھے اکڑ جاتے ہیں ،چلنے پھرنے، اُٹھنے بیٹھنے میں تکلیف ہوتی ہے ، اناڑی  ڈاکٹر کو اس  نئی بیماری کی دوا معلوم تھی لہٰذا اس مرض کی دوا" لیووڈوپا "بھی دی جانے لگی  مزید6 ماہ گُذر گئے لیری کو آرام نہ آیا تو اُس نے ڈاکٹر بدلنے کافیصلہ کیا اور وہ مرض پارکنسونزم کے اسپشلسٹ کے پاس گیا یہ تجربہ کار ڈاکٹر تھا مریض کی ہسٹری لینے پر وہ سمجھ گیا کہ بیماری دوا سٹیلا زائن کے ضمنی اثرات کی پیداوار ہے۔چُناچہ اسنے فوراً  دوا سٹیلا زائن کو بند کرا دیا اور اگلے 6 ماہ میں آہستہ آہستہ لیووڈوپا بھی روک دی چونکہ لیری اب صحت یاب ہوچُکا تھا ۔۔۔
جب ترقی یافتہ ممالک میں ڈاکٹروں کا یہ حال ہے تو ترقی پزیر اور پسماندہ ممالک کے ڈاکٹروں کیا حال ہوگا ؟؟؟۔۔۔ اب اجازت دیں آپکا بُہت شُکریہ۔۔۔( ایم ۔ ڈی)
  





Sunday, February 19, 2012

٭ مسلمان لفظوں کی جنگ لڑ رہے ہیں ٭

منجانب فکرستان پیش ہے: مسلمان اِسی میں مست ہیں، مسلمانوں کے احداف یہی ہیں !!!
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اقوامِ عالم کے درمیان (مسلمانوں کو چھوڑکر) سائنسی  میدان میں ترقی کے نئے سے نئے احداف حاصل کرنے کی ایک دوڑ لگی ہوئی  ہے خاص کر مائکرو چپ یا جادوئی چپ میں قومیں نتِ نئے جادوئی احداف حاصل کرکے  اپنی قومی برتری ثابت کر رہی ہیں مثلاً کوئی  قوم انسانی ذہن جیسی کاکردگی دکھانے والی چپ کی تیاری میں لگی  ہوئی ہے۔   تو کوئی قوم ایسی چپ تیار کررہی ہے  جو انسانی جسم میں موجود بیماری کی نشان دہی کردے اور کو ئی تو ایسی چپ تیار کر رہی ہے جو رموٹ کنٹرول کےزریعہ مریض کے جسم میں بر وقت  دوا  اُنڈیل دے، غرض کہ دُنیا کی قومیں اسی طرح کی سائنسی کارنامے انجام دینے پر اپنی ذہنی انر جی صرف کر رہی  ہیں۔۔۔ جبکہ مسلمان قوم آپس میں اس طرح لفظوں کی جنگ لڑ رہی ہے کہ ایک گروہ کہتا ہے" عید میلادالنبی " منانا صحیح ہے۔۔۔ جبکہ دوسرا گروہ کہتا ہے"عید میلادالنبی" نہ صرف منانا غلط ہے بلکہ عیدمیلادالنبی کہنا بھی غلط ہے۔۔۔غرض کہدو نوں گروہوں کی جانب سے صحیح / غلط ثابت کرنے کیلئے دلائل پر دلائل دیے جا رہے ہیں جس پر دو نوں گروہوں کے چاہنے والے دلائل فراہم  کنندہ کی مداح سرائی جزاک اللہ ،سبحان اللہ کہہ کر کر تے  ہیں ۔۔۔اور ساتھ میں دوسرے گروہ کے حق میں یہ دُعا بھی کرتے ہیں کہ خُدا انہیں عقل دے ۔۔۔اِس دُعا میں نفس کی یہ بڑائی پوشیدہ ہے کہ ہم تم سے بہتر ہیں ۔۔۔مسلمان اسی طرح کی بحثوں میں اُلجھے ہوئے ہیں اور اسی طرح کی بحثوں میں اپنی ذہنی انرجی  کوصرف کر رہے ہیں۔۔۔چونکہ ہمارے احداف یہی ہیں۔۔
خبر کےمُطابق آندھرا پردیش مسلم وقف بورڈ سے قادیانیوں کی جائدادیں خارج کرنے کی قرار داد منظور ہونے پر مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی  اور مسلمانوں نے بورڈ کےحق میں جبکہ قادیانیوں کے خلاف خوب نعرے بازی کی ۔۔۔ مسلمان      نعرے بازی سے دُنیا فتح  کریں گے ۔۔۔۔
ہم مسلمان اِسی میں مست ہیں ۔۔۔چونکہ ہمارے احداف یہی ہیں ۔۔۔اب اجازت دیں آپ کا بُہت شُکریہ۔
میں یہ تو نہیں کہتا میری سوچ سے اتفاق کریں ٭ میں تو یہ کہتا ہوں کہ میری سوچ یہ ہے۔(ایم ۔ ڈی) 

Thursday, February 16, 2012

٭ فرقے اور رشتے ٭

منجانب فکرستان پیش ہے : گھر اور خاندان انسان کے لیے اِس دُنیا کی جنّت ہے۔"ایک سچّا واقعہ"۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفرقہ بازی امتِ مسلمہ کو کئی پہلؤں سے نقصان پُہنچا رہا ہے۔ اِس کے نقصان کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ نوجوانوں کے لیے مُناسب "رشتہ تلاش" کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں مثلاً بڑی تگ ودو کرنے کے بعد کسی لڑکے یا لڑکی کا تعلیمی معیار اور طبقاتی معیار ، کے مُطابق میچنگ رشتہ مل جاتا ہے۔ لیکن اِس مُناسب رشتہ میں دیو بندی/ بریلوی دراڑ پڑ جاتی ہے۔ تو پھر دونوں خاندانوں کو نئے سرے سے مارے مارے پھرنا پڑتا ہے چونکہ میچنگ رشتوں کا ملنا آسان بات نہیں ہے ۔ آج کتنے ہی رشتے اس تفرقہ بازی کے بھینٹ چڑ رہے ہیں ۔۔۔۔
 ایک واقف کار کا سچّا  واقعہ لکھ رہاں ہوں  جو  کہ اُنہوں نے مُجھے سُنایا۔۔۔  یہ  میرا رب جانتا ہے کہ میں جھوٹ لکھ رہا ہوں یا کہ سچ ۔۔۔۔۔ میرے واقف کار کی والدہ کا انتقال ہو گیا واقف کار کا جوان بیٹا اپنے باپ سے لڑتا  ہے کہ گھر میں دادی کا سوئم/ چہلم  نہیں ہونا چاہئیے ۔۔۔جس کے جواب میں باپ کے الفاظ یہ ہیں " ماں میری مری ہے کہ تمہاری  میں تو سوئم بھی کروں گا اور چہلم بھی،تمہیں اس گھر میں رہنا رہو یا الگ ہوجاؤ۔۔۔تو اس طرح سے یہ فرقے  باپ بیٹے، بھائی بھائی ، ماں بیٹی، جیسے مُقدس رشتوں میں دراڑیں ڈال رہے ہیں ۔تو کہیں میچنگ رشتوں میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں,اورکہیں۔۔۔ ؟؟؟ یہ سب ہمارے عُلمائے کرام  کی مہربانیوں کا نتیجہ ہے۔۔۔ ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ: آیت۔ 102،103،105،آلِ عمران  / آیت۔ 159الانعام /آیت۔91تا93 ،الحجر میں اللہ تعلیٰ نے صاف صاف لفظوں  میں فرقے بنانے سے منع کیا ہے۔۔۔ یہی پیغام آپ ﷺ نے بھی  حجۃ الوداع پر اُمّت کو دیا ۔۔۔لیکن پھر بھی ہمارےعُلماء نے فرقوں  کو بنا کر ہی دم لیا ۔۔۔اب ان فرقوں کا ختم ہونا بُہت مشکل ہے۔۔۔ چونکہ اب اس میں عُلماء کی "اناؤں" کے ساتھ ساتھ فنڈنگ بھی شامل ہو گئی ہے۔۔۔ جسکا اثر ہر فرقے میں نظر آرہا ہے ۔۔۔ لیکن پھربھی میں نے { آگ بجھانے والی چڑیا کی طرح } اپنی ایک سابقہ پوسٹ بعنوان ٭" ورائٹی  اورفرقے " میں عُلمائے کرام سے درخواست کی تھی کہ تمام فرقوں کو قبول کرتے ہوئے فرقوں کا گُلدستہ بنالیں جس میں ہر فرقہ ایک پھول کے ماند ہو۔۔۔اور یہ فیصلہ کہ کونسا فرقہ یا  فرد جنتی ہے۔۔۔ یہ فیصلہ تو اللہ نے ہی کرنا ہے۔۔۔  تو پھر ہمیں چاہئیے کہ ہم اللہ کے فیصلے کے دن تک  کا انتظار کریں اور آپس میں رنجشیں نہ بڑائیں ،اس دُنیا کو جہنم نہ بنائیں، خاندان کے مقدس رشتوں میں دراڑیں نہ پڑنے دیں اور نہ ہی  گھرکے ماحول کو تکلیف دہ بنائیں ۔۔۔
چونکہ: گھر اور خاندان انسان کے لیے اِس دُنیا کی جنّت ہے۔۔۔(ایم۔ڈی)

Monday, February 6, 2012

" دلیل کی دلیل "

منجانب فکرستان پیش ہے: عالمی اُصولی ضابطے  ، طاقتور طبقے نہیں مانتے ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہمارے وفاقی وزیر خزانہ جناب ڈاکٹر  عبدالحفیظ شیخ نے پاکستان کی غریب قوم کو دیا عالمی اصول کا بے وزن دلیل والا مشورہ  وہ یہ کہ پٹرولیم  مصنوعات کی عالمی قیمتوں میں اضافہ کو قوم بالکل اُسی طرح سے قبول کرے جیسے سونے کی قیمتوں میں عالمی اضافہ کو قبول کرتی ہے۔ اگر وزیر خزانہ کا یوں عالمی حوالہ کی دلیل دینا جائز ہے۔۔۔ تو پھر عالمی حوالہ کی دلیل  یہ  بھی تو ہے کہ دُنیا بھرکی حکومتیں ٹیکس  امیروں سے وصول کرتی ہیں ۔۔۔جبکہ پاکستان میں ٹیکس بالواستہ یا بلا واستہ غریب اور متوسط طبقہ سے وصول کیا جاتا ہے ۔۔۔ آپ کا خود فرمانا ہے کہ امیر بااثر  طبقہ ٹیکس  نہیں دیتا ہے۔۔۔ ۔     یعنی  عالم میں رائج ٹیکس کے اُصولی  ضابطے پاکستان کے طاقتور ور طبقے نہیں مانتے ۔۔۔ ہے کوئی اخلاقی جواز ؟  ۔۔۔ایسی صورتِ حال میں جبکہ دولت مند طبقہ ٹیکس نہ دیتا ہو غریب  پاکستانیوں  سے کہنا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں  میں اضافوں کو قبول کریں کتنا جائز ہے  ؟؟؟ اور پھر آپ روز مرہ استعمال کی پیٹرولیم مصنوعات  کا موازنہ سونے جیسی مصنوعات سے کر رہے ہیں جسکی خریداری صرف شادی بیاہ کے موقعوں پر کی جاتی ہے۔آپکا اس طرح پر موازنہ کرنا میرے خیال میں کسی طرح بھی جائز نہیں ہے ۔۔۔ یہ ایک بے وزن دلیل ہے ۔۔۔  بُہت شُکریہ۔ (ایم ۔ڈی)
Daily Express 3 فروری 2012