Image result for monument valley
ہر چیز سے عیاں ہے،ہرشے میں نہاں ہے،خالِق کائنات، مالِک کائنات
عقلِ کُل،توانائی کُل، ہمہ جہت، ہمہ صِفت،خالِق کائنات، مالِک کائنات
آنکھیں کہ جِن سے میں دیکھا ہوں میری نہیں، عطائے خُداوندی ہے
  پاؤں کہ جِن سے میں چل تا ہوں میرے نہیں،عطائے خُدا وندی ہے
غرض یہ کہ میرے  وجود کا ذرہ  ذرہ   میرا  نہیں ،عطائے خُداوندی ہے
میرے خالِق میرے مالکِ میرے پروردگارانِ نعمتوں کا بے انتہا شُکریہ  


Wednesday, August 31, 2011

٭ منٹو کے خط سے مُختصر اقتباس ٭

منجاب فکرستان:قارئین کرام،اردو سیارہ کی انتظامیہاور بلاگرزساتھی 
٭عیدکی مُبارکباد قبول فرمائیں٭

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سعادت حسن منٹو کے وہ فرضی خطوط جو کہ" چچا سام" کے نام لکھے گئے اردو ادب میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔انہیں خطوط میں سے ایک خط میں منٹو ایک نیک کام کی تکمیل کیلئے امریکہ سے مدد کی درخواست کرتے ہیں۔دو دن پہلے یعنی رمضان میں مُجھےاُسی خط  کا کردار  نظر آیا تو یہ اقتباس  بھی یاد آگیا۔۔۔
ایک چھوٹا سا ننّھا منا ایٹم بم تو میں آپ سے ضرور لونگا۔ میرے دل میں مدت سے یہ خواہش دبی پڑی ہے کہ میں اپنی زندگی میں ایک نیک کام کروں۔ آپ پوچھیں گے یہ نیک کام کیا ہے ؟۔۔۔آپ نے خیر کئی نیک کام کئے ہیں۔اور بدستور کئے جارہے ہیں ۔آپ نے ہیرو شیما کو صفحہ ہستی سے نابود کیا ۔ ناگا ساکی کو دُھویں اور گرد و غبار میں تبدیل کردیا۔ اسکے ساتھ ساتھ آپ نے جاپان میں لاکھوں امریکی بچّے پیدا کئے ۔ فکر ہر کس بقدرِ ہمت اوست ۔۔۔ میں ایک ڈرائی کلین کرنے والے کو مارنا چاہتا ہوں ۔ ۔۔ہمارے یہاں بعض مولوی قسم کے حضرات پیشاب کرتے ہیں تو ڈھیلا لگاتے ہیں ۔۔۔ مگر آپ کیا سمجھیں گے ۔۔۔ بہر حال معاملہ کچھ یوں ہوتا ہے کہ پیشاب کرنے کے بعد وہ صفائی کی خاطر کوئی ڈھیلا اُٹھاتے ہیں اور شلوار کے اندر ہاتھ ڈال کر سر بازار ڈرائی کلین کرتے چلتے پھرتے ہیں ۔۔۔ میں بس یہ چاہتا ہوں کہ جونہی مُجھے کوئی ایسا آدمی نظر آئے ۔۔۔جیب سے آپکا دیا ہُوا سنی ایچر ایٹم بم نکالوں اور اُس پر دے ماروں تاکہ وہ ڈھیلے سمیت دُھواں بن کر اُڑ جائے ۔۔۔۔   
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کاش مُجھے بھی ایک عدد بم مل جائے تو میں بھی ۔ تمام مکار سیاست دانوں اور تمام انا پرست اور فرقہ پرست عُلماء کو دُھواں بنادوں۔ ۔ ۔آپکا بُہت شُکریہ ۔ 
۔( ایم ۔ڈی)۔



٭ ذوالفقار مرزا کی پریس کانفرنس میں ہنگامہ آرائی ٭

حیدر آباد میں ذوالفقار مرزا کی پریس کانفرنس میں ہنگامہ آرائی جس کے نتیجہ میں ایک صحافی شدید زخمی ہوگیا ۔۔۔۔  
Close

Friday, August 26, 2011

٭ خوبصورت تصویر / دلچسپ خبر ٭

 فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز: دلچسپ/ 22سال /11ماہ/ماں بننا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ما ہرینِ نفسیات کہتے ہیں کہ حواس خمسہ کے زریعے اچّھے یا بُرے جو بھی تاثرات انسانی دماغ کو پُہنچتے ہیں وہ پورے انسانی جسم کو مُتاثر کرتے  ہیں ۔امریکی علاقہ  ٹینسی کی نہ صرف یہ خوبصورت" تصویر" بلکہ یہ" خبر"بھی کُچھ ایسی ہی انوکھی اور دلچسپ ہے کہ کُچھ دیر کے لیے آپ کے اندر مسرت کے احساس کو جنم دیگی۔۔۔
خاص طور پر سب سے آخر میں کھڑی بچّی کو دیکھیں جیسے وہ اپنے وجود کا احساس دِلا رہی  ہو اور کہہ رہی ہو کہ میں بھی اس دُنیا میں آئی ہوئی ہوں ۔ مُجھے بھی اس تصویر میں ہونا ہے۔ اب آپ یہ ہنستی مسکراتی خوبصورت  تصویر دیکھیں اور ہنستی مسکراتی خبر پڑھیں ۔اور مُجھے دیں اجازت  ۔۔۔ آپکے خلوص کا طالب ۔(ایم ڈی)۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
خبراورتصویرشمالی امریکہ کےاخباراردو ٹائمزسےکاپی پیسٹ ہے (بچّوں کے چہرے ضرور دیکھیں )۔
   ٹینسی: مو جودہ دور میں جہاں اکثر جوڑے کم بچے خوشحال گھرانے پر یقین رکھنے ہیں وہیں ایک امریکی جوڑا ٹھارہ بچوں کے بعد بھی مزید دو بچوں کا خواہشمند ہے۔ امریکی ریاست ٹینسی کے رہائشی گل اور کیلی کل اٹھارہ بچوں کے والدین ہیں جن کے سب سے بڑے بچے کی عمر بائیس اور سب سے چھوٹا صرف گیارہ ماہ کا ہے۔ چوالیس سالہ کیلی کا کہنا ہے کہ اسے ماں بننے کا عمل بے حد اچھا لگتا ہے اور وہ مزید دو لڑکوں کی خواہشمند ہے۔ جس سے ان کے لڑکے اور لڑکیوں کی تعداد دس، دس ہو جائے گی۔ گل اور کیلی کے چار ہزار اسکوائر فٹ پر پھیلے ہوئے گھر میں ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ موجود نہیں اور فارغ وقت میں پورا خاندن ایک ساتھ موسیقی سے لطف و اندوز ہوتا ہے۔
آئیں ہم بھی موسیقی سے لطف اندوز ہوں / کافی دن گُزرگئے کہ میں نے اپنی پوسٹ پر کوئی وڈیو نہیں لگائی ۔وڈیو/آڈیو حاضر ہے دل چاہے تو سُنئے۔

Wednesday, August 24, 2011

برمودا ٹرائی اینگل اور کراچی

فکرستان سےپیش ہےپوسٹ ٹیگز:انائیں/ کمزور پڑتی گرفت/فردوس عاشق اعوان
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 کراچی کے مکینوں نے کراچی کے مسائل کے حل کیلئے  ایم کیو ایم ، پیپلز پارٹی اور اے این پی کے نمائندوں کو ووٹ دیکر کامیاب کرایا جب تینوں پارٹیوں کے بڑوں نے اتحاد کا فیصلہ کیا تو کراچی کے مکین خوش ہوئے کہ اس اتحاد سے کراچی کے مسائل کے حل کو ایک موثر آواز مل جائے گی ۔لیکن یہ اتحاد تو کراچی کے مکینوں کیلئے برمودا ٹرائی اینگل ثابت ہورہا ہے جو کراچی کے شہریوں کو ہی نِگل رہا ہے ۔ اس صورت حال کو کُچھ دانشور بیرونی سازش قراردے رہے ہیں تو کُچھ اندرونی سازش  قرار دے رہے ہیں ۔ لیکن میرے نزیک کراچی کو اس صورت حال میں مبتلا کرنے  میں ٹرائینگلی اناؤں کا دخل ہے۔ ہر اینگل اور اُسکے کارندے  یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بُہت بڑی طاقت ہیں ۔ اور اپنی طاقت کا مظاہرہ چاہتے ہیں، مظا ہرہ کر رہے ہیں ۔
  میرے خیال میں اسکی ایک بڑی وجہ پارٹی سربراہوں کی  اپنی پارٹی پر کمزور پڑتی گرفت  بھی نظر آرہی ہے ۔اگر ایسا ہے تو یہ نہ صرف کراچی بلکہ پورے پاکستان کیلئے بُہت نقصان دہ بات ہے۔ چونکہ بقول محترمہ فردوس عاشق اعوان کراچی کے حالات سے ملک کو یومیہ 3 ارب کا نقصان پہنچ رہا ہے ۔۔
بُہت شُکریہ۔ 
میں یہ تو نہیں کہتا کہ میرے اِس تجزیہ کوصحیح سمجھیں ٭ میں تو یہ کہتا ہوں کہ میرا تجزیہ یہ ہے ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تبصروں کی پبلشنگ بند ہے ۔( ایم ۔ ڈی )۔     

Sunday, August 21, 2011

شیخ رشید صاحب انا ہزارے کیوں نہیں بن سکتے ؟؟؟

فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز:اناہزارے/ عمران خان / عدالتیں/شیخ رشید   
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
ضرورت ہے۔۔ضرورت ہے۔ ۔ ۔ سخت ضرورت ہے ۔۔۔ ارے بھئی کس کی ضرورت ہے ۔ ۔؟ضرورت ہے۔ ایک عدد انا ہزارے کی۔۔۔کیوں کیوں۔۔۔کیوں ؟اس لیے کہ ہمارے ملک میں بھی کرپشن ہے ؟ کرپشن  ہے تو پھر انا ہزارے کیوں نہیں ہے ؟   چونکہ کرپشن اور اناہزارے کا ساتھ چولی دامن والا ساتھ ہے۔  کہا  یہ جاتا ہے کہ پاکستان میں انڈیا سے زیادہ کرپشن ہے ۔ تو پھر  کسی اناہزارے کو یہاں بھی ہونا چاہئیے ۔۔۔گو ہماری عدالتیں کرپشن کو روکنے کی تمام تر کوششیں کر رہی ۔۔۔ عمران خان اور نواز  شریف  نے بھی حکومت پر اپنا دباؤ رکھا ہُوا ہے۔ لیکن یہ دباؤ انا ہزارے جیسا دباؤ نہیں ہے ۔ کہتے ہیں کہ محلے پڑوس کے اثرات پڑوسیوں پر پڑتے ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انا ہزارے کے اثرات پاکستان پر کب پڑتے ہیں اور پاکستان میں کون انا ہزارے بنتا ہے ؟؟؟ ۔ ویسے میری نظر شیخ رشید کی طرف اُٹھ رہی ہے۔  وہ اس لیے کہ اناہزارے اور شیخ رشید میں ایک  بات مشترک پائی جاتی ہے  وہ یہ کہ  دونوں  نے ہی شادی جیسے بکھیڑوں میں پڑ کرعقل سے فارغ نہیں ہوئے ہیں ۔دونوں ہی کورے اور کنوارے ہیں ۔  شیخ صاحب کیلئے اناہزارے بننے کا یہ شاندار موقع ہے۔
 آپکا بُہت شُکریہ
تبصروں کی پبلشنگ بند ہے ۔( ایم ۔ڈی )۔  

Friday, August 19, 2011

جدید سائنسی تحقیق کا کہنا ہے دماغ روزہ نہیں رکھتا ہے ۔

فکرستان سےپیش ہےپوسٹ ٹیگز:/جدیدتحقیق/سحر/ دودھ جلیبی/افطار
_____________________________________________________________
زاویہ والے دانشور اشفاق احمد صاحب کہتے تھے کہ اُنہوں نے بُہت سی حکمت کی باتیں غیر مکتبی علم والے بڑے بوڑھوں سے سیکھی ہیں ۔ سائنس کی جدید تحقیق نے بھی کُچھ ایسی بات کہی ہے کہ مُجھے بھی اپنے بڑے بوڑھے یاد آگئے ۔ہمارے بڑے بزرگ کہتے تھے کہ سحر میں دودھ جلیبی کھانا چاہئیے لیکن وہ یہ نہیں جاتے تھے کہ اس میں کیا حکمت ہے ۔ بڑے بوڑھوں  کی باتیں جب سائنس پُروف کرتی ہے تو حیرت ہونے لگتی ہے ۔ جدیدسائنسی تحقیق   کہتی ہے کہ اگر دماغ کو اُسکی غِذا گلوکوز نہ ملے تو وہ اپنے ہی خلیے کھانے لگتا ہے ۔ اس لئے سحر میں دودھ جلیبی کھانے سے ممکن ہے اُسکو افطار تک غِذا ملتی رہے اور ممکن ہے اس طرح اسکو اپنے ہی خلیئے کھانے کی باری نہ آنے پائے۔ جو قاری اس تحقیق کی  زیادہ تفصیل چاہتے ہیں وہ ذیل لنک پر جائیں۔ آپکا بُہت شُکریہ ۔ 
تبصروں کی پبلشنگ بند ہے۔ ۔ ( ایم ۔ ڈی )۔ 
       

Friday, August 12, 2011

جس شاخ پر بیٹھے ہیں اُسی کو کاٹ رہے ہیں

 فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز:آزادی/غُلامی/ہڑتال کافارمولا/ریلی/معیشت والا شعور 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ایک طرف ہم غلامی دور سے چُھٹکارے پر آزادی کا جشن منارہے ہیں تو دوسری طرف ہم غلامی دور کے نظام  کی حمایت میں ہڑتال بھی کرا رہے ہیں، ہیں نا عجیب بات !!! کراچی میں ہڑتال کامیاب کرانے کا فارمولا یہ ہے کہ کل ہڑتال کرانی ہو تو آج رات کے شروع ہونے کے ساتھ ہی کُچھ لوگ ہتھیاروں سمیت نکل آتے ہیں ۔ خوب فائرنگ کرتے ہیں ، گاڑیاں جلاتے ہیں کُچھ انسانی جانوں کو تلف کرتے ہیں اس طرح شہر بھر میں اتنا خوف پھیلا دیتے ہیں کہ دوسرے دن کوئی گھر سے باہر نہ نکل سکے ۔ اس طرح کی ہڑتال کو کامیاب ہڑتال کہا جاتا ہے ۔
اب ہڑتال کرانے والی پارٹی کا دعویٰ آجاتا ہے کہ عوام نے مکمل ہڑتال کرکے نا صرف ہمارے موقف کی حمایت کی ہے بلکہ باشعور ہونے کا ثبوت بھی دیا ہے ۔ ساتھ میں یہ مُطالبہ بھی دوہرا دیا جاتا ہے کہ رات کو خوف و ہراس پھیلانے والے شر پسند عناصر کو فوراً  گرفتار کیا جائے ۔
آج کی ہڑتال کے لیے بھی رات کراچی میں یہی سب کُچھ ہُوا ہے ۔ لہٰذا ہڑتال کامیاب ہے۔ 
ہم دُنیا پر نظر ڈالتے ہیں تو احتجاج رکارڈ کرانے کیلئے ریلی کا مہذب اور باشعور طریقہ نظر آتا ہے ۔ چونکہ وہ لوگ جانتے ہیں کہ کاروبار بند کرانے سے معیشت کو جو بھی نقصان ہوگا وہ ہمارا اپنا ہی نقصان ہوگا، اُسے ہمیں ہی برداشت کرنا پڑے گا ۔ لیکن ہمارے لیڈروں کے پاس یہ معیشت والا شعور نہیں ہے ۔ یا پھر اُنکا شعور یہ کہتا ہے کہ مُلک اور قوم جائے چولہے بھاڑ میں ہمیں طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے ۔ اسی لیے تو جس شاخ پر بیٹھے ہیں اُسی کو کاٹ رہے ہیں ۔۔۔
نوٹ: میری سابقہ پوسٹ پر" فرقان زئی " صاحب نے  تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ احادیث کے بارے میں مولانا مودودی  کیا رائے تھی وہ تو آپنے لکھا نہیں کہ مولانا کی فکر سے آگاہ ہوں اور حوالے دے دیئے ۔ بہتر یہ ہوتا کہ من و عن اقتباس دیکر حوالے دیتے ۔بات اُنکی معقول ہے اس لیے اُن سے عرض ہے کہ انشااللہ جلد ہی اُنکی من وعن والی بات پوری کروں گا۔ بُہت شُکریہ۔
تبصروں کی پبلشنگ بند ہے ۔( ایم ۔ ڈی )۔ 

Monday, August 8, 2011

٭ قُرآن کا ترجمہ/ نو مسلم اور کالم نگار کا تجربہ٭


 فکرستان سے پوسٹ ٹیگز: قُرآن کا ترجمہ/ نو مسلم/ تجربہ/ کالم نگار کا لنک
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
قُرآن کے بارے میں کل ایک ایسی تحریر میری نظر سے گُذری  کہ جس میں کالم نگار  نے ایک نو مسلم  کا قُرآن فہمی سے متاثر ہونے کا تذکرہ کیا ہے کہ جس کے بعد وہ مسلمان ہوگیا / اسکے بعد کالم نگار نے قُرآن فہمی کے بارے میں اپنا ذاتی تجربہ بھی  بیان کیا ہے ۔ جسے پڑھنے کے بعد مجھے بھی اپنی 31 مئی 2011 کی لکھی اپنی پوسٹ یاد آگئی جس میں / میں نے بھی قُرآن پڑھنے کے حوالے سے اپنی ذاتی رائے لکھی تھی جسکا متعلقہ حصّہ پیسٹ کر رہا ہوں اسکے علاوہ متعلقہ کالم نگار کا لنک بھی  فراہم کر رہا ہوں ۔
درج ذیل میری ذاتی رائے ہے ۔
__________________________
 میرے نزدیک قُرآن فہمی کے  دوہی طریقے ہیں/ پہلا بہترین طریقہ تو یہ ہے کہ عربی سیکھ کر قُرآن کو پڑھا جائے / دوسرا  طریقہ یہ ہےکہ ترجمہ کے ساتھ پڑھا جائے ۔ یعنی ایک صفحہ تلاوت پھر اُسی صفحہ کا ترجمہ۔ / تفسیروں کے زریعے قُرآن سمجھ میں نہیں آسکتا ہے۔ / چونکہ وہ مفسر کے خیالات سے آلودہ ہوجاتا ہے۔/قُرآن کوسمجھنے کے لیے خود کو ہی کوشش کرنا ہوگی  چونکہ خُدا کے کلام سےآپ کا براہ راست تعلق ہونا ضروری ہے۔ تب ہی آپ خُدا اور اسکے کلام سے جڑ پائیں گے ۔ تب ہی آپ کا تصّور خُدا اسٹرونگ ہوگا ۔۔۔  ورنہ وہ بات پیدا نہ ہوگی جو کلامِ خُدا کا منشا ہے ۔ چونکہ یہ میرا ذاتی تجربہ ہے اسی لیے میں اتنے اعتماد سے کہہ رہا ہوں ۔  عُلماء  نے تو مسلمانوں کو قُرآن سے یہ کہہ کر دور کردیا کہ یہ آپ کے سمجھ میں آنے والی کتاب نہیں ہے اور اِسکا دائرہ اتنا سمٹا دیا گیا ہے کہ جیسے یہ کتاب صرف / بے سمجھےتلاوت اور حفظ کرنے کے لیے آئی ہے /غوروفکر ، حکمت ،تدبر اور خُدا کے ساتھ جوڑنے سے اِسکا کُچھ تعلق نہیں / ان لوگوں نے مسلمانوں کو خُدا اور کلامِ خُدا سےجوڑنے کے بجائے حدیثوں اورتفسیروں سے جوڑدیا  اور ہماری آنکھوں پر ایسا چشمہ چڑھا دیا  گیا ہے کہ جس کا ایک شیشہ عقیدت کا ہے تو دوسرا تقدس کا/ اس لیے ہم یہ  تک نہیں دیکھ پا رہے  ہیں/  کہ اسلام کی پوری عمارت قُرآن سے ہٹ کر/حدیثوں اور تفسیروں  پر آگئی ہے ۔۔۔
 (احادیث کے بارے میں مولانا مودودی کے خیالات /درج ذیل صفحات پڑھنے سے عیاں ہوجاتے ہیں۔)
 (تفہیم القُرآن۔ 170،171/6،۔۔۔243،244/3 ۔،۔ ۔۔337/4۔)۔(رسائل و مسائل۔57،58،196،233/1۔۔۔97/3۔)۔(تفہیمات۔356/1۔)۔(ثروت صولت  457/2 )۔


ایکسپریس کے کالم نگار کا لنک / تبصروں کی پبلشنگ بند ہے/۔( ایم ۔ ڈی )۔

Friday, August 5, 2011

کراچی کے مکینوں کا بلڈ پریشر

فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز: شعلہ شبنم/اسم بامسمیّٰ /قائم علی شاہ/ رحمان ملک
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
صوبہ سندھ اور خاص کر کراچی کے لوگوں کے بلڈ پریشر کا تعین ذوالفقار مرزا  اور الطاف حُسین اپنے بیانات کے زریعے طے کرتے ہیں ۔ جیسا کہ بلڈ پریشر کا قانون ہے کہ یہ ہمیشہ یکساں حالت میں نہیں رہتا ہے ۔بالکل اُسی طرح سے یہ حضرات اس بات کا مکمل خیال رکھتے ہیں کہ بیانات میں یکسانیت نہ آنے پائے کبھی شعلہ کبھی شبنم جیسے بیانات دیتے رہتے ہیں ، جس سے کراچی کے مکینوں کے بلڈ پریشر کبھی ہائی تو کبھی نارمل ہوتے رہتے ہیں۔  ہمارے وزیر اعلیٰ  جناب قائم علی شاہ صاحب ما شااللہ سے  مکمل اسم بامسمیّٰ ہیں وہ اپنے نام کی لاج رکھتے ہوئے ہمیشہ قائم پوزیشن میں رہتے ہیں ۔ کراچی میں کُچھ بھی ہوتا رہے ،وہ ہلتے جلتے نہیں اپنی پوزیشن برقرار رکھتے ہیں جس بنا رحمان ملک  صاحب آکر اُنکے کرنے کے کام کر جاتے ہیں ۔ یوں یہ وزارتِ اعلیٰ قائم دائم ہے ۔  
تبصروں کی پبلشنگ بند ہے ۔( ایم - ڈی )۔

یہ انسانی جذبات ہیں یا کہ سیاست ؟ ؟؟

فکرستان سے پیش ہے پوسٹ ٹیگز: سیاست / انسانی جذبہ/ شک / ذمہ دار
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 ہیلری کلنٹن نے بیان دیا ہے کہ شام کے صدر اسد دو ہزار افراد کے قتل کے ذمہ دار ہیں ،خاص طور پر ایک سالہ بچّہ کی ہلاکت پر اپنے رنج اور غُصّہ کا اظہار کیا ہے ۔ ہم ہیلری کے اس جذبہ کی قدر کرتے ہیں ، لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ اِس انسانی جذبہ میں صداقت کی کتنی حرارت ہے؟
 اس دور کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ صداقت کو سیاست نے ہائی جیک کیا ہُوا ہے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ انسانی جذبہ عراق میں کیوں نظر نہ آیا جہاں صرف شک کی بنیاد پر دو ہزار نہیں لاکھوں جانیں تلف  کی  گئیں  اور کئی معصوم بچّے بھی مارے گئے ، اسی طرح افغانستان اور پاکستان میں بھی مار ے جانے والے بے گُناہ انسانوں اور معصوم بچّوں کی روحیں سوال کرتی ہیں کہ تب یہ انسانی اور مامتا بھرا جذبہ کہاں تھا ؟؟؟  آپ کا کہنا ہے کہ اسد دو ہزار افراد کے قتل کے ذمہ دار ہیں تو پھر کیا آپ  عراق ، افغانستان اور پاکستان کے کتنے ہی بے گُناہ اور معصوم جانوں کے قتل کے ذمہ دار نہیں ہیں ؟؟؟
تفصیل کیلئے لنک پر جائیں شُکریہ ۔(ایم ۔ ڈی )۔