Image result for monument valley
ہر چیز سے عیاں ہے،ہرشے میں نہاں ہے،خالِق کائنات، مالِک کائنات
عقلِ کُل،توانائی کُل، ہمہ جہت، ہمہ صِفت،خالِق کائنات، مالِک کائنات
آنکھیں کہ جِن سے میں دیکھا ہوں میری نہیں، عطائے خُداوندی ہے
  پاؤں کہ جِن سے میں چل تا ہوں میرے نہیں،عطائے خُدا وندی ہے
غرض یہ کہ میرے  وجود کا ذرہ  ذرہ   میرا  نہیں ،عطائے خُداوندی ہے
میرے خالِق میرے مالکِ میرے پروردگارانِ نعمتوں کا بے انتہا شُکریہ  


Thursday, August 29, 2013

محبت کی مثلث

 منجانب فکرستان: خوار ہونا:باچھیں کھِلنا: چار بچّے 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مرد کو عورت سے محبت ہوگئی،عورت کو بھی ہوگئی ۔۔اِسی عورت سے ایک اور مرد کو محبت ہوگئی۔۔عورت کو اِس دوسرے مرد سے بھی محبت ہو گئی ۔۔ محبت  بھی ایسی کہ خاتون دونوں  میں سے کسی ایک کو چھوڑنے تیار نہیں ۔۔ کسی فیصلے پر پہنچنے  کیلئے صورتِ حال اتنی پیچیدہ ہوگئی کہ  دن پہ دن گذرتے چلے گئے یہاں تک 4 سال کا عرصہ گُذر گیا۔
تینوں نے سوچا کہ بہت خوار ہولئیے  ہیں اب اِس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکالنا چاہئیے ۔۔تینوں سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔۔ تینوں کی نیت صاف تھی اور اِس بات پر فوکس تھی کہ حل ضرور نکالنا ہے، یوں حل نکانے میں کامیاب ہوگئے  کہ قانونی دستاویز تیار کریں گے کہ دونوں مرد خاتون سے شادی کریں گے اور باری باری خاتون کے ساتھ رہیں گے اور ہونے والے  بچوں کے باپ دونوں مرد کہلائیں گے ۔۔۔
یہ حل اُنہیں ایسا سُوجھا کہ تینوں کی باچھیں کِھل گئیں ۔۔۔ البتہ افسوس اس بات کا ہُوا کہ یہی فیصلہ چار سال پہلے کر لیتے تو اب تک چار بچوں کے باپ  ہوتے۔۔  
درج بالا کہانی درج ذیل لنک پر حقیقی خبر سے متاثر ہوکر لکھی گئی ۔۔۔اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔
نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

میرٹ قانونِ قدرت

 منجانب فکرستان: معیار؛ ثبوت؛ ناسور
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عظیم درسگاہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں فنڈ کی خاطر میرٹ کو نظرانداز کرکے کچھ داخلے دئیے گئے تھے،نتیجاً  ادارہ کا معیار گِرگیا۔۔ رپورٹ کے مطابق امیروں کے یہ نا اہل بچّے درسگاہ کی بدنامی کا باعث بنے ہیں (ایک خبر)
پاکستان اِسی قانونِ قدرت کی مار جَھیل رہا ہے، میرٹ کہ جگہ ہمارے بندے ہیں کہہ کر۔ ۔ نا اہل  لوگوں سے ادارے بھر دئیے گئے  ہیں ،اندازہ اس بات سے لگائیں کہ نگراں حکومت جس کا کام صرف الیکشن کرانا تھا ، اُسنے بھی موقع کو غنیمت جان کر تھوک کے بھاؤ سے اداروں میں اپنے لوگوں کو لگایا تھا۔۔ 
جس طرح آکسفورڈ درسگاہ نااہل بچوں کے داخلوں سے بدنام ہوئی ہے ۔۔(خبر کی تفصیل آخر میں لنک پر ہے)  اسی طرح پاکستان کے اداروں میں نا اہل لوگوں کی بھرتیوں نے پاکستانی ادراوں کو تباہ کردیا ہے۔۔
 ثبوت: کئی سالوں سے کراچی کے حالات کو کنٹرول نہ کر پانا، ڈی آئی خان جیل کا واقعہ، کرپشن کا بڑھتا ہُوا ناسور اور جرائم کا تیزی سے بڑھتا ہُوا گراف کیا کم ثبوت ہیں ؟؟؟ 
گذشتہ 5 سالوں میں۔۔ قائم علی شاہ کی کار کردگی کیسی رہی ہے، سب کے سامنے تھی ۔۔اِسکے باؤجود تعلقات کی بنیاد پر اُنہیں آئندہسالوں کیلئے وزیراعلیٰ بنادیا  گیا۔۔۔ کر لو جو کرنا ہے !! ۔
میرٹ کا قانون انسانوں کا نہیں قدرت کا بنایا ہُوا ہے۔۔ اس لیے قدرت نے قانون توڑنے والوں کیلئے اِس میں سزا بھی رکھی ہوئی ہے۔ ۔ ۔سزا کا ثبوت: آکسفورڈ درسگاہ والی خبر اور پاکستان آپکے سامنے ہیں۔۔۔
میرٹ کا تناسبی  معیار ہی کسی ملک کی ترقی /تنزلی کا گراف ہوتا ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں۔۔ آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔
نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Tuesday, August 27, 2013

کوؤں کی ذہانت !!!۔

منجانب فکرستان: ذہانت؛آسمان؛ مثالیں: دوستی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آپنے کوّے کی ذہانت کی علامتی کہانی "پیاسا کوّا " پڑھی ہوگی۔۔شاید آپنے کوّے کی وہ ذہانت بھی دیکھی ہو کہ جس میں وہ تنکوں کی مدد سے درختوں کے تنوں کے سوراخوں میں سے کیڑے نکال کر کھاتا ہے۔۔ اور شاید یہ بھی دیکھا ہو کہ گِدھوں کے دُموں میں ٹھونگیں مارکر گوشت کا ٹکڑا لے اُڑتا ہے۔۔تاہم ممکن ہے کوّے کی جس ذہانت کا ذکر میں کر رہا ہوں وہ شاید آپکی نظر سے نہ گُذری ہوں ۔۔
ہوتا یہ ہے کہ جب میں آزاد کبوتروں (جنگلی کبوتروں) کو باجرہ ڈالتا ہوں تو کچھ دیر بعد ایک دو کوّے بھی آجاتے ہیں۔۔اور پھر کبوتروں کو بھگا کر باجرے کے دانے منہ میں بھر لیتے ہیں اور پھر آسمان کی طرف منہ کرکے باجرے کے دانے اپنے پیٹ میں اُتار لیتے ہیں ۔کیا آپنے کبھی کوّؤں کو باجرہ کھاتے دیکھا ہے ؟؟
اِس کے علاوہ کوّؤں کے ذہانت کی ایک اور مثال یہ ہے کہ سوکھی روٹی کا ٹکڑا کہیں سے ڈھونڈ کر لاتے ہیں اور پھر  پانی کے اُس برتن میں ڈال دیتے  ہیں جو پرندوں کے پینے کیلئے رکھا  ہُوا ہے۔۔ پھر اِدھر اُدھر چلے جاتے ہیں ۔اور کچھ دیر بعد آکر جب سوکھی روٹی کاٹکڑا پانی میں پڑے پڑے نرم ہوجاتا ہے تو مزے لیکر کھاتے ہیں۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
"تراشہ" بشکریہ  جنگ اخبار 
 واقعی کوّے بُہت ذہین ہوتے ہیں۔ ۔ آپکا کیا خیال ہے؟؟۔۔
اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }         



Sunday, August 25, 2013

زمرد ہو کہ سکندر !!۔

 منجانب فکرستان:لو لیٹر: معاوضہ: ڈاکومینٹری
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ڈرامہ سیریز "ساس بھی کبھی بہو تھی " سے شہرت پانے والی فنکارہ سمرتی ایرانی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ :
بیوی شوہر کی آدھی ماں ہوتی ہے۔ ۔ یہ جملہ یوں یاد آیا کہ :مشہور مصنف سارتر کی لائف پارٹنر  مصنفہ سیمون ڈی بیووئیر (دونوں نے اکھٹے زندگی گُذاری لیکن شادی کا ٹھپہ نہیں لگوایا) نے اپنے لو لیٹر میں لکھا کہ:
 میرے پیارے محبوب : میں تمہاری اچّھی طرح دیکھ بھال کروں گی ۔ ۔ 
 سیمون ڈی کے اس جملے میں مامتا کی جھلک صاف نظر آرہی ہے ۔۔ اب سمرتی ایرانی کے جملے کا موازنہ کریں کہ : بیوی شوہر کی آدھی ماں ہوتی ہے ۔۔
عورتوں میں مامتا کا جذبہ ہوتا ہےاس سے انکار نہیں ۔۔ لیکن  کیا مردوں میں بھی سدا بچّہ رہنے  اور مامتا کی طلب رہتی ہے ؟؟؟ اس سلسلے میں جاپان کی ایک ڈاکومینٹری فلم دیکھی تھی کہ جس میں دکھایا گیا تھا کہ وہاں ایسے ادارے قائم  ہیں کہ جہاں معاوضہ کے عیوض  مردوں سے عورتیں مامتا بھرا سلوک (اداکاری) کرتی ہیں جس سے وہ بُہت سکون حاصل کرتے ہیں ۔۔یہاں تک دکھایا گیا ہے کہ بعض مرد حضرات بچّوں والی چوسنی چوسنا  تک پسند کرتے ہیں ۔۔
 سچ ہے کہ :ہر فرد اپنے آپ میں ایک منفرد جہاں لئے پھر رہا ہے چاہے وہ۔۔۔زمرد ہو یا کہ سکندر۔۔۔
اب مجھے اجازت دیں،آپکا بُہت شُکریہ۔لولیٹر کا لنک۔http://magazine.jang.com.pk/detail_article.asp?id=20587
نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }    

Friday, August 23, 2013

اعتراف

منجانب فکرستان:اکثریت: احمقانہ جراءت 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
واشنگٹن کی ایک فوجی عدالت میں بیان دیتے ہوئے امریکی فوجی سارجنٹ  رابرٹ بیلز نے کہا " میں سچے دل سے تمام خاندانوں سے معذرت خواں ہوں جن کے پیارے لوگوں کو میں نے چھین لیا ۔میں نے ان کے خاندان کے لوگوں کو قتل کیا مزید کہنا تھا کہ " جو کچھ میں نے کیا وہ خوف کے پردے کے پیچھے بزدلی کا اقدام تھا جوانتہائی فضول اور احمقانہ جراءت تھی" ۔۔
امریکی فوجی سارجنٹ رابرٹ بیلز نے مارچ 2012 میں افغان صوبہ قندھار میں رات کے وقت مختلف گھروں پر حملے کرکے 16 افراد کو قتل کردیا تھا جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی تھی ۔۔۔
خبر کی مکمل تفصیل کیلئے درج ذیل لنک پر جائیں ۔۔۔اور مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }    

Wednesday, August 21, 2013

" خطِ غُربت "

 منجانب فکرستان ::10 فیصد: آثار: پاکستان
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بھارتی حکومت 80کروڑ افراد کو چاول 3، گندم 2 اور باجرہ ایک روپئے کلو قیمت پر فراہم کرے گی (ایک خبر)
 خبر پڑھنے پر دماغ نے اِس خیال کو کِلک کیا کہ:
 سیاستدانوں کی نااہلی اور کرپشن کے طُفیل خطِ غربت سے نیچے افراد کا اضافہ ہونا بھی سیاستدانوں کے مفاد میں ہے، چونکہ الیکشن کے قریب غُربت کے مارے لوگوں کو لُبھانا آسان ہوتا ہے، مُلک میں غریبوں کی تعداد جتنی زیادہ ہو اُتنا اچّھا ہے۔ ۔
 بھارت میں الیکشن ہونے والے ہیں، 80 کروڑ غریب ووٹروں کو سستے اناج کے بہانے لُبھایا جا رہا ہے ۔ ۔ جیسے پاکستانی الیکشن میں کسی نے انکم سپورٹ تو کسی نے لیپ ٹاپ اور میٹرو بس کے زریعے غریبوں کو لُبھایا تھا۔ ۔ ۔               
بھارت میں 70فیصد اور پاکستان میں 60فیصد عوام  خطِ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گُذار رہے ہیں،پاکستان میں یہ جو 10 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے ،اسکی وجہ فوجی حکومتیں (ایوب خان،پرویز مشرف دور)ہیں، اگر پاکستان میں بھی 66 سال تک سیاسی حکومتیں ہوتیں تو پاکستان خطِ  غربت افراد کے معاملے میں  بھارت کو پیچھے چھوڑ دیتا۔ ۔
 اِس بات کا ثبوت یہ ہے کہ پاکستان  کی سابقہ سیاسی حکومت نے افراد کی ایک بڑی تعداد  کو خطِ غربت کے نیچے پُہنچایا ہے۔ ۔ امید واثق ہے کہ موجودہ حکومت بھی سابقہ حکومت کے نقشے قدم پر چلتے ہوئے۔ ۔ ۔  کم نہیں بلکہ کچھ زیادہ ہی افراد کو خطِ غُربت کے نیچے دھکیل دے گی ۔ ۔ ۔جس کےآثار ابھی سے نمایاں ہونے لگے ہیں ۔ ۔ ۔ اب مُجھے اجازت دیں ۔ 
"آپ کا بُہت شُکریہ"  
نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }    


Monday, August 19, 2013

بیچارہ کیسے ثابت کرے گا ؟؟

منجانب فکرستان:: مولانا فضل الرحمان:منشور: نئی اصطلاح
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مصری عوام کے ٹکروں پر پلنے والی مصری فوج کے جنرل جناب عبدالفتح اپنی نہتی عوام کو تشدد کے زریعے فتح کرنا چاہتے ہیں۔ اور چور مچائے شور کے مصداق جنرل صاحب پوری دُنیا کی آنکھوں میں ناقابلِ قبول دُھول جھونکنے کی کوشش میں  یہ شرم ناک لطیفہ سُنا  رہے ہیں کہ فوج  مزید تشدد برداشت نہیں کرے گی،(گویا اب تک فوج تشدد برداشت کرتی رہی ہے) ۔ ۔ جنرل صاحب کے اِس بے شرمانہ لطیفے پر داد نہ دینا بد ذوقی کہلائے گی ۔ ۔
 پاکستان کی سیاسی جماعتیں منشور میں جو باتیں لکھتی ہیں وہ عوام کو دھوکہ دینے کیلئے لکھتی ہیں ، اسکی واضع مثال مسلم لیگ ن کا بلدیاتی الیکشن غیر جماعتی بنیاد  کرانے کا اعلان ہے جبکہ مسلم لیگ ن کے منشور میں بلدیاتی الیکشن جماعتی بنیاد پر کرانے کا لکھا ہے ۔۔یہ ہے مسلم لیگ ن کے قول و فعل کا کھلا تضاد،گویا کہی ہوئی باتوں کو تو چھوڑیں ، یہ تو لکھی ہوئی باتوں پر بھی عمل پیرا نہیں ہیں، تو پھر عوام اِن سے آئندہ کے بارے میں کیا توقع رکھیں ؟؟؟
مولانا فضل الرحمان نے لیڈر ہونے  کیلئے  لازمی شرط کی ایک بالکل ہی  نئی اصطلاح وضع کی ہے، وہ یہ ہے کہ لیڈر کیلئے ضروری ہے کہ وہ ایک اچّھا شوہر ہو، لیکن اُنہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ایک کنوارہ لیڈر بیچارہ اپنے آپ کو ایک اچّھا شوہر کیسے ثابت کرے گا ؟؟؟
"آپ کا بُہت شُکریہ"  
نوٹ : رائے سے اختلاف/ اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }    


Monday, August 12, 2013

" ہولی پیچھے ٹر "

منجانب فکرستان: ہولی : کہانی: لندن
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 محاورہ عید پیچھے ٹر سُنا ہوگا، ہولی پیچھے ٹر لندن والوں کی ایجاد ہے، جس میں لندن کی خواتین اِس بات کو  سچ ثابت کرکے دِکھا  رہی ہیں کہ:
 "وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ"  ۔۔اور اگر کسی "سپائی نوزا " ٹائپ شخص کو اِس بات پر شک ہے تو یقین کریں کہ تصاویر کو دیکھ کر وہ بھی ایمان لے آئے گا۔۔ 
ہولی "ہولیکا" کے جل مرنے کی کہانی  ہے، جس میں بادشاہ " ہرنا کشیپ " اپنے آپکو پر ماتما (خُدا ) متعارف کرواتا ہے جس پر ایک بڑی تعداد ایمان لے آتی ہے ۔۔لیکن بیٹا "بھگت پر ہلاد" ایمان نہیں لاتا ہے اسلئیے بیٹے کو جلاکر مارنے کی ترکیب سوچی جاتی ہے ۔ 
بادشاہ کی بہن" ہولیکا " کو یہ شکتی ملی ہوئی تھی کہ آگ اُسے جلا نہیں سکتی تھی  فیصلہ ہُوا کہ "ھولیکا "  بھگت پر ہلاد " کو گود میں لیکر دھکتی آگ میں بیٹھے گی ہولیکا پر آگ اثر نہیں کرے گی اور "بھگت پر ہلاد " جل کر خاک ہوجائے گا۔ ۔ ۔
مگر ہُوا یہ کہ ھولیکا ہی جل مری اور "بھگت پر ہلاد" زندہ  صحیح سلامت آگ میں سے نکل آیا ۔۔گویا حق صحیح سلامت رہا اور باطل جل مرا ۔۔۔اسی روایت کی یاد میں ہولی کا تہوار رسمی طور پر پھاگن کے مہینے میں منایا جاتا ہے، پہلے دن " ہولیکا " کو جلایا جاتا ہے اور دوسرے  دن ہولیکا کے جل مرنے کی خوشی میں ایک دوسرے پر رنگ اُچھالتے ہیں ۔ہندوستان کا یہ تہوار ہندوستان میں مارچ کے مہینے میں منایا جا چُکا ہے ۔۔لیکن ہولی پیچھے ٹر کے طور پر لندن میں گوریوں نے اگست کے مہینے میں اس تہوار کو خوب انجوائے کیا، جسکی تصاویر لنک پر موجود ہیں ۔۔۔اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ 
نوٹ :رائے سے اختلاف / اتفاق کرنا ہر ایک کا حق ہے۔۔
{ ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }    

Saturday, August 10, 2013

" سُہاگ رات کا ٹیبو "

 منجانب فکرستان :: جاپانی دولہا : ٹیبو زدہ تصویر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دوستو:شادیوں کا مُوسم شروع ہوچُکا ہے۔۔
ممکن ہے میرے کئی شادی شُدہ قارئین دوست ( خواتین و حضرات ) اِس ٹیبو سے واقف ہی نہ ہوں۔۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ کئی دوست حضرات۔۔خواتین کے ہاتھوں اِس ٹیبو کو بُھگت چُکے ہوں۔ چونکہ برصغیر میں یہ خواتین کا ٹیبو ہے ۔۔
اپنے کنوارے قارئین دوستوں کو اُنکی ہونے والی دُلہنوں سے ہوشیار کرنے کیلئے بلاگ کا سہارا لے رہا ہوں۔۔۔ البتہ یہ اور بات  ہے کہ تصویر میں موجود جاپانی دولہے کے طرح وہ خود ہی اِس ٹیبو  کا شکار ہونے کیلئے تیار بیٹھے ہوں ۔۔۔
اِس ٹیبو تفصیل یہ ہے کہ: اگر سہاگ رات کو دُلہن کسی بھی بہانے سے اپنی سینڈل شوہر سے اُٹھوا کر پہنے گی تو وہ تمام عُمر  اپنے شوہر پر حکمرانی کرے گی ۔ ۔ ۔اور شوہر نامدار گھر کے باہر چاہے کتناہی طرم خان کیوں نہ ہو لیکن بیوی کے سامنے ہمیشہ یہ ہی گُنگُناتا رہے گا ۔۔
 جو تم کو ہو پسند وہی بات کریں گے:تم دن کو اگر رات کہو رات کہیں گے!!
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 جاپان میں یہ ٹیبو ذرا مختلف انداز لئیے ہوئے ہے، وہ یوں کہ سہاگ رات کو شوہر جتنی مضبوتی سے دُلہن کے سینڈل پکڑے گا، شادی کا بندھن اتناہی مظبوط ثابت ہوگا۔۔۔
خُدا جانے یہ ٹیبو  کب ،کہاں اورکس ذہن نے ایجاد کیاجو ہر بات کی طرح یہ بھی زمانے کے تھپیڑے کھاتے ہوئے مختلف صورتوں میں مختلف علاقوں میں رواج پاگیا ہے۔۔ ویسے سچّی بات یہ ہے کہ سُہاگ رات تو خود بھی اپنے آپ میں قدرت کا ایک بُہت ہی پُر اسرار ٹیبو ہے۔۔ 
یہ پوسٹ لکھنے کا خیال ایسے آیا کہ سونی کی انعام یافتہ تصاویر دیکھ رہا تھا کہ اُن میں اس تصویر کو بھی انعام ملا ہے کہ جِس میں سہاگ رات کا  ٹیبو دِکھایا گیا ہے ۔۔ممکن ہے تصویر میں موجود ٹیبو ہی کی وجہ سے یہ تصویر انعام یافتہ قرار پائی ہو ۔۔تصویر دیکھنے لنک پر جائیں اور دیکھیں کہ جاپانی دولہا میاں  نے کس مضبوطی سے دُلہن کے سینڈل پکڑے ہوئے ہے ۔۔۔
  نوٹ:: رائے سے اختلاف /  اتفاق  کرنا  ہر ایک  کا حق ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }


Friday, August 2, 2013

"غلطیاں "

 منجانب فکرستان: خبر کے لنکس
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تبصرہ کا آپشن بند  ہونے کی وجہ سے بعض دوستوں کی تبصرہ ای میل آجاتی ہیں جن میں" جناب افتخار اجمل بھوپال" بھی شامل ہیں۔سابقہ پو سٹ "اصول پرستی لچک پرستی" پر اُنکی جو ای میل ملی اُس سے مجھے ایسا تاثر ملا کہ شاید میری سابقہ پوسٹ نے ایسا تاثر قائم کیا ہو کہ جیسے میں عمران خان سے مایوس ہوگیا ہوں ۔۔
تو عرض ہے کہ میں عمران خان سے بالکل بھی مایوس نہیں ہُوا  ہوں، مایوس ہونے کا میرے پاس آپشن نہیں ہے،اس لیے کہ عمران خان کے علاہ میری نظر میں کوئی دوسرا عوامی لیڈر نہیں ہے ۔۔
 البتہ میں اُنہیں ایک انسان سمجھتے ہوئے سمجھتا ہوں کہ وہ غلطیاں بھی کررہے ہیں۔۔مثلاً میرے خیال میں ممتاز بھٹو کو پی ٹی آئی  میں شمولیت کی دعوت دینا، ایک بڑی غلطی ہے، اس سے پارٹی کو فائدے کے بجائے نقصان ہوگا۔۔بس اتنی سی بات ہے ۔۔
"ممتاز بھٹو شمولیت دعوت کی خبر کیلئے لنکس پر جائیں "

  نوٹ:: رائے سے اختلاف /  اتفاق  کرنا  ہر ایک  کا حق ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔
ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }

Thursday, August 1, 2013

" اصول پرستی " لچک پرستی "

منجانب فکرستان : جیل: منشور : متصادم 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انسانی شخصیت بھی بڑی عجیب ہے۔۔ کبھی تو اُصول پرستی پر سب کچھ بھسم کرنے پر اڑ جاتی ہے ۔۔تو کبھی لچک پرستی پر ،اُصول پرستی کو خاک میں ملا نے تیار  رہتی ہے، اِسکی بہترین مثال  پی ٹی آئی کے سربراہ جناب عمران خان صاحب کی شخصیت ہے جو ایک طرف تو کہہ رہے ہیں کہ:
 توہینِ عدالت نوٹس پر معافی نہیں مانگوں گا، چاہے جیل  ہی جانا کیوں نہ پڑ جائے، یعنی لچک نہیں دِکھاؤں گا، تو دوسری طرف ممتاز بھٹو کے بارے میں اپنی اصول پرستی کو خاک میں ملا کر لچک پرستی دکھا رہے ہیں۔۔پی ٹی آئی منشور سے متصادم خیالات کے حامل جناب ممتاز بھٹو کو پارٹی میں شمولیت کے لیئے دعوت  دی جا رہی ہے،  پی ٹی آئی منشور  بڑے زمینداروں پر ٹیکس کی بات کرتا ہے جبکہ ممتاز بھٹو صاحب اِس ٹیکس کے سخت خلاف ہیں۔۔
"اگر مزید تفصیل پڑھنا چاھیں تو لنک پر جائیں"
  نوٹ:: رائے سے اختلاف /  اتفاق  کرنا  ہر ایک  کا حق ہے۔۔ اب مجھے اجازت دیں ۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔
{ ہمیشہ رب کی مہربانیاں رہیں }