Image result for monument valley
ہر چیز سے عیاں ہے،ہرشے میں نہاں ہے،خالِق کائنات، مالِک کائنات
عقلِ کُل،توانائی کُل، ہمہ جہت، ہمہ صِفت،خالِق کائنات، مالِک کائنات
آنکھیں کہ جِن سے میں دیکھا ہوں میری نہیں، عطائے خُداوندی ہے
  پاؤں کہ جِن سے میں چل تا ہوں میرے نہیں،عطائے خُدا وندی ہے
غرض یہ کہ میرے  وجود کا ذرہ  ذرہ   میرا  نہیں ،عطائے خُداوندی ہے
میرے خالِق میرے مالکِ میرے پروردگارانِ نعمتوں کا بے انتہا شُکریہ  


Wednesday, January 25, 2012

" برطانوی جج صاحبہ کا فیصلہ "

 منجانب فکرستان پیش ہے: برطانوی جج صاحبہ کےکئے گئے ایک انوکھے اور بولڈ فیصلہ کی روداد۔۔۔ 
 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 وکیل اکرم شیخ نے منصور اعجاز کی سیکوٹی کے حوالے سے وڈیو کانفرس کی تجویز دی ہے،جبکہ حُسین حقانی کے وکیل زاہد بُخاری نے اس تجویز کی مخالفت کی ہے۔۔۔اسطرح کی خبریں پڑھ کر مُجھے برطانوی جج صاحبہ کا وہ فیصلہ یاد آگیا کہ جس میں آفتاب احمد نامی شخص نے  اپنے آپکو دیوالیہ ظاہر کیا تھا لیکن عدالت میں اپنے آپکو دیوالیہ ثابت کرا نے میں اُسکو مُشکل پیش آرہی تھی ۔۔۔آج اُسکے مقدمہ کا فیصلہ سُنایا جانا تھا۔۔۔ لیکن آفتاب جام ٹریفک میں بُری طرح سے پھنسا ہُواتھا۔۔اُسے عدالت پہنچنے میں دیر ہورہی تھی، اس لیے وہ  کافی جُھنجھلایا ہُوا  تھا کہ   اُسے کال موصول ہوئی دوسری طرف جج صاحبہ تھیں ، آفتاب سہم گیا ۔۔۔جج صاحبہ نے پوچھا۔۔ کہاں ہو ۔۔۔آفتاب نے جواب دیا ٹریفک میں پھنسا ہُوا ہوں ۔۔جج صاحبہ نے پوچھا۔ ڈرائیونگ تو نہیں کر رہے ہو۔۔ آفتاب نے جواب دیا۔ نہیں ۔۔۔جج صاحبہ نے کہا۔اگرتُمہیں اعتراض نہ ہو تو ابھی فون پر ہی فیصلہ سُنادیتی ہوں ۔۔۔آفتاب حیران ہو گیا ،اور کہا ۔۔سُنائیں ۔۔۔ جج صاحبہ نے جرمانے اور کمیونٹی سروس کی سزا سُنادی ۔۔اتنے میں پولیس والے بھی راستہ بناتے ہوئے آفتاب تک پُہنچ گئے تاکہ گرفتار کرکے کمیونٹی سزا پر عمل درآمد کرایا جائے ۔۔۔۔
یہ روداد 15جنوری، ایکسپریس کے سنڈے میگزین سے اخذ کی گئی ہے ، ۔۔۔۔
مُجھے جج صاحبہ کا یہ فیصلہ انوکھا ، دلچسپ اور فکر انگیز لگا۔۔۔اسلیے آپ سے شئیر کر رہا ہوں۔(ایم ۔ڈی)

Monday, January 23, 2012

" پانی سے کار چلانے والے، ڈاکٹر غلام سرور کا وڈیو انٹرویو "

 منجانب فکرستان پیش ہے : بشکریہ تبصرہ نگار محمد عامر کا فراہم کردہ ڈاکٹر غلام سرور کا وڈیو لنک ۔۔
 ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
جب سونے ،تانبے اور کوئلے کے ذخیرہ کی خوشخبریوں سے پاکستان کے مستقبل کے  سُنہری خواب بنُنے لگا تھا کہ ڈاکٹرعبدالقدیر خان کے دو تین  کالم ایسے پڑھنے کو ملے کہ سُنہری خواببن گئے،گو عمران خان سے بھی مستقبل کیلئے اچّھی آس لگائے بیٹھے ہیں ۔۔۔لیکن آج کے اخبار میں پھر ایک ایسی خبر چھپی کہ "دل" اُس خبر کو "انقلاب" کانام دینے کیلئے پرُ جوش ہورہا ہے  ۔۔۔لیکن ذہن کہہ رہا سوچ لو !  :hmm
وجہ اسکی یہ ہے کہ کثرت استعمال  سے لفظ "انقلاب" کے معنی  کو نقصان پہنچا ہے ، اب یہ معمولی معمول تبدلیوں میں بھی استعمال ہونے لگا ہے ۔ لیکن میں جس انقلاب کا ذکر کر رہا ہوں وہ واقعی ایک انقلاب  ہےاس لیے کہ دُنیا بھر میں اسکے اثرات مرتب ہونگے۔۔۔اب آپ ذرا تصور میں لائیں کہ  ۔۔۔اگر گاڑیاں تیل کے بجائے  پانی پانے سے چلنے لگیں ۔۔ کاربن کے بجائے آکسیجن خارج کرنے لگیں تو ۔۔دُنیا۔۔ کیا سے کیا ہوجائے گی؟؟؟ کیا یہ انقلاب نہ ہوگا ؟؟؟ 
 جب میں پاکستان کے اِس جینئس شہری جناب ڈاکٹر غلام سرور  سے مُتاثر ہوکر یہ پوسٹ لکھ رہا تھا  تو  ذہن میں  جینئس "ارفع کریم" کا چہرہ  بھی گُھوم گیا ، دُعا گو ہوں کہ" ربِ کریم " ارفع( جینئس) کریم" کو جنّت میں ارفع واعلیٰ مقام عطا فرمائے(آمین)
اب آپ ذیل کا کاپی پیسٹ تراشہ پڑھیں ، وڈیو دیکھیں اور فیصلہ کریں کہ میں نے لفظ "انقلاب " صحیح استعمال کیا ہے نا / یا میں نےاس لفظ کو نقصان پہنچایا ہے :hmm۔۔۔ اب اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔ (ایم ۔ ڈی)
Daily Express
   23 جنوری 2012
  



Friday, January 20, 2012

" ورائٹی اور فرقے "

منجانب فکرستان:بنی اسرائیل 72 گروہوں میں تقسیم ہو ئے/ میری اُمت 73گروہوں میں بٹے گی۔ترمذی 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کائناتی چیزوں پر نگاہ ڈالی جائے تو ہمیں ہر ایک میں ورائٹی نظر آتی ہے ، اور یوں محسوس  ہوتا ہے کہ جیسے ہر چیز میں ورائٹی کو تشکیل دینا فطرت کا خاصا ہے ۔ نباتات ہوں کہ حیوانات ،انسان ہوں کہ جمادات ، پھول ہوں کہ پتّے ،کیڑے مکوڑے ہوں کہ آبی مخلوق یہاں تک کہ کوئی بیماری ایسی نہیں ہے کہ جسکی اقسام نہ پائی جاتی ہوں ۔ جب ہم مذاہب پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں اِسمیں بھی فطرت کی یہ کار گُذاری نظر آتی ہے ۔ کوئی مذہب ایسا نہیں ہے کہ جس میں فرقے نہ بنے ہوں ۔۔۔۔
اِسی طرح مذہب اسلام میں بھی کئی فرقے بنے ہیں ،اگر ورائٹی کو فطرت کا خاصا سمجھیں تو مذہب میں بھی فرقے ناگزیر لگتے ہیں ، اِس بارے میں اگر ترمذی کی اس حدیث کو صحیح  تسلیم کریں کہ " بلا شُبہ بنی اسرائیل 72 گروہوں میں تقسیم ہو ئے اور میری اُمت 73 گروہوں میں بٹے گی، ایک کے علاوہ سارے آگ میں جائیں گے۔۔۔ صحابہ رض نے عرض کی وہ کونسا گروہ ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا جو اس دین پر ہونگے جس پر میں اور میرے صاحبہ ہیں۔ ترمذی" ۔ اس حدیث کو صحیح  تسلیم کریں تو ۔۔ اسلام میں فرقے ناگزیر ٹہرتے ہیں۔۔۔ اس لیے ۔۔جس طرح ہم ہر چیز کی ورائٹی کو تسلیم کرتے ہیں۔۔۔ اسی طرح ہمیں مذہب کی ورائٹی (فرقوں) کو بھی تسلیم کرنا چاہئے ۔۔۔
 ہر فرقہ کا یہ دعویٰ کہ اُنکا فرقہ آپﷺ کے دین پر قائم ہے۔ ان میں سے  کون سا فرقہ صحیح ہے  اِسکا فیصلہ صدیاں گُذارنے کے بعد بھی ہم طے  نہیں کر پا  رہے ہیں ۔۔۔ البتہ ایکدوسرے کا خون ضرور بہا رہے ہیں ۔۔۔ ہر فرقہ والے کے پاس اپنے اپنے دلائل کی کسوٹی ہے ۔۔۔اس لیے صحیح کون ہے کا فیصلہ خُدا پر چھوڑ کر تمام   فرقے اپنے اپنے فرقہ پر قائم رہتے ہوئے۔۔۔ دوسرے فرقوں کو اس طرح سے دل سے قُبول کریں کہ سب  مسلمان آپس میں باہم شِیروشکر ہوجائیں۔۔۔ تاکہ اغیاروں کی چالیں ناکام ہوں ۔۔۔ یہ کام وہی لوگ کرسکتے ہیں کہ جنہوں نے فرقے بنائے ہیں ۔میری مراد عُلماء کرام سے ہے کہ وہی یہ کام کرسکتے ہیں کوئی اور یہ کام نہیں کرسکتا ہے ۔۔لیکن فرقوں کو گلدستہ بنانے کیلئے علماء کو  اپنی اناؤں کو پُل صراط پر سے گُذارنا ہوگا۔۔۔ تب ہی عُلماء  فرقوں کا گُلدستہ بنانے میں کامیاب ہونگے ۔۔۔ اب اجازت دیں آپ کابُہت شُکریہ ۔۔۔یہ پوسٹ  حالیہ خانپور بم دھماکہ اور آبنائے ہرمز کی صورتِ حال کو پیشِ نظر رکھ کر لکھی گئی ہے ۔۔۔اسکی وجہ ذیل کے دونوں لنک دیکھیں۔ العربیہ/مہر نیوز۔ گو کہ ابھی پروپگنڈہ جنگ ہے۔۔ لیکن؟؟؟
میں یہ تو نہیں کہتا  میری سوچ سےاتفاق کریں٭میں تو اپنی سوچ آپ سے شئیر کر رہا ہوں ۔(ایم ۔ ڈی)
http://www.alarabiya.net/articles/2012/01/18/189079.html

http://www.mehrnews.com/ur/newsdetail.aspx?NewsID=1513753


Tuesday, January 17, 2012

" چند امریکی / برطانوی عدالتی ججوں کے فیصلے "

منجانب فکرستان پیش ہیں:امریکی/برطانوی ججوں کے" توہین عدالت" کے منفرد فیصلے۔ 
 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آج کل پاکستانی میڈیا میں ہونے والی عدالتی بحثوں نے شاید عوام کی سرمیں درد کردیا ہوگا۔۔۔ آئیں دیکھتے ہیں کہ امریکی اور برطانوی ججوں نے کس کس عمل کو توہین عدالت گردانا اور اُس پر کیسے فیصلے دیے۔۔۔۔
۔امریکی ریاست الی نواے میں مسٹر ولیمز اپنے کزن کے مقدمہ کی  کاروائی دیکھنے گئے اور کمرہ عدالت کی اگلی نشستوں میں سے ایک پر جا بیٹھے۔۔۔ جب مقدمہ کا فیصلہ سُنایا جا رہا تھا۔۔ولیمز کو ایک زوردار جماہی آگئی ۔۔جج  نے اُسی وقت اپنی کاروائی روک دی۔۔ ولیمز کی طرف گھور کردیکھا اور "جماہی" کو توہین عدالت قرار دیکر اُسی وقت 6 ماہ کیلئے جیل بھیج دیا ۔۔۔
 جب جماہی کیلئے منہ کُھلا تھا۔۔۔ تو اب جج کے فیصلے پر حیرت سے منہ کُھلے کا کُھلا رہ گیا ۔۔۔۔
  گئے تو تھے بڑی شان سے دوست کے مقدمہ کی کاروائی دیکھنے۔۔۔ اور پُہنچ گئے چھ ماہ کیلئے جیل ۔۔۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
امریکی ریاست اوہا ئیو میں ملزم جج سے بحث کرنے لگا کہ مقدمہ کی پیروی وہ خود ہیکرے گا جبکہ جج  ملزم کو سمجھاتا رہا کہ بغیر وکیل مقدمہ کی کاروائی نہیں ہوسکتی ،لیکن ملزم برابر تکرار کئے جا رہا تھا ، جج نے عدالت میں موجود پولیس اہل کاروں کو حُکم دیا کہ کاروائی مکمل ہونے تک کیلئے ملزم کے منہ پر ٹیپ لگا کر اسکا منہ بند کردیا جائے ۔ پولیس نے فوراً ہی  ملزم کو پکڑ کر منہ پر ٹیپ لپیٹ دیا ۔۔۔
 اسی لئے تو بڑے بُزرگوں نے کہا ہے کہ بحث کرنا اچّھی بات نہیں ۔۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  نیویارک کی ایک عدالت میں مقدمہ کی سماعت کے دوران حاضرین میں سے کسی کا فون بج اُٹھا سب ایکدوسرے کی طرف دیکھنے لگے ۔جج صاحب نے اپنی آنکھوں کے زریعے سے حاضرین میں سے اُس شخص کو تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے جس پر اُنہوں نے حکم دیا کہ جس شخص کا فون بجا ہے وہ فوراً فون کو عدالت کے حوالے کرے ۔۔46 حاضرین میں سے کسی نے بھی نہیں کہا کہ اُسکا فون بجا ہے ۔۔جس پر جج کو غُصہ آگیا  اور اُسنے پولیس اہل کاروں کو حُکم دیا کہ تمام حاضرین کو جیل میں بند کردو اور پولیس   نے فوراً 46 افراد کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا ۔۔۔لیکن اس بے تُکے غُصیلے فیصلے پر جج کو اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا ۔۔۔۔اسی لیے تو غُصہ کو حرام کہا جاتا ہے ۔۔۔
درج بالا تمام مقدمات: اخبار ایکسپریس کے سنڈے میگزین سے اخذ کئے گئے ہیں ۔۔۔دلچسپ  لگے اس لیے آپ سے شئیر کر رہا ہوں ۔۔ اب اجازت دیں آپکا بُہت شُکریہ  ۔ (ایم ۔ ڈی ) 





Saturday, January 14, 2012

" اسٹیفن ھاکنگ کا یہ کہنا ہے/عورت کائنات کا پیچیدہ معمہ ہے "

 منجانب فکرستان:یورپی محققین کا یہ دعویٰ ہے۔مرد عورت کے درمیان فرق، سوچ سے بھی زیادہ ہے۔
 ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عورت معمہ ہے/سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔۔یہ بات اُس شخص نے کہی جو کائناتی معمہ حل کرتا ہے،میری مُراد اسٹیفن ہاکنگ سے ہے،پہلی عورت "جین" اُنکی زندگی میں آئی شادی کرکے عورت (بیوی) کی سائکی  کو 23 سال تک سمجھنے کی کوشش کرتے رہے لیکن نہیں سمجھ سکے/ نہ نبھی تو طلاق ہوگئی ۔ پھر اُنہوں نے  ایک نرس سے شادی کی۔۔۔ اور ایک بار پھرنئے سرے سے  عورت (بیوی) کی سائکی  کوسمجھنے کی  کوشش کی۔۔۔ تا کہ اُسکے مطابق زندگی گُزار سکیں ۔۔۔اسلئیے کہ اب وہ دوبارہ طلاق جیسی صورت حال کو برداشت کرنے کے قابل نہیں رہے تھے ۔۔۔ لیکن اس باربھی پروفیسر صاحب  بُری طرح ناکام رہے۔۔ ۔صرف 11 سال بعد ہی نوبت طلاق تک پہنچ گئی  ۔ ۔۔2 عورتیں 34 سالہ تجربہ کا حاصل ۔۔۔وہ  یہ کہنے پر مجبور ہوئے       کہ۔عورت کائنات کا پیچیدہ معمہ ہے                                                                                                                                      
جس طرح عورت مرد کیلئے معمہ ہے بالکل اسی طرح مرد بھی عورت کیلئے ایک ایساہی معمہ ہے ۔۔ یقین نہ آئے تو کسی بھی شادی شُدہ عورت سے پوچھ کر دیکھ لیجئے۔۔ وہ یہ ہی جواب دے گی کہ۔۔مرد نہ حل پزیر معمہ ہے۔۔۔ میں آم کہتی ہوں، وہ املی سمجھتا ہے ۔۔۔ اسی لیے تو آئے دن طلاقیں ہوتی رہتی ہیں ،جہاں نہیں ہوتی وہاں سمجھوتے ہوتے ہیں ۔۔۔مرد  عورت جسمانی کشش /  ذہنی اختلاف کی وجہ   یہ بھی تو ہوسکتی ہے کہ زمین پر دونوں جنسوں کا  مادہ الگ yippie.gifالگcheerleader.gifسیارہ سے آیا  ہو۔۔۔۔۔۔۔۔اور زمین نے دونوں جنسوں کو خوش آمدید کہا ہو۔۔۔۔۔۔۔  دونوں جنسوں میں  جہاں جسمانی کشش موجود ہے، وہیں پر دونوں جنسوں میں ایک دوسرے کیلئے ذہنی مذاہمت بھی موجود ہے۔۔۔
 لیکن دونوں دل کے رشتے جوڑ تے ہیں  فطرت کا یہی حُکم ہےکہ 
زمین کی گود   بھری  رہے۔۔۔۔۔
میں یہ تو نہیں کہتا میرے خیال سے متفق ہوں ٭ میں تو اپنا خیال آپ سے شئیر کرہا ہوں ۔(ایم ۔ ڈی)۔
    دونوں تراشے 6جنوری کے ہیں۔ Close
  

Tuesday, January 10, 2012

" میری طرح آپکو بھی / یقین نہیں آئے گا "

منجانب فکرستان:انسان کی ترقی/انسانیت کی پست سطح کس درجہ پر پُہنچ گئی ہے اُسکی ایک جھلک لنک وڈیو پر۔  
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 چین میں 2 سالہ بچّی بازار میں ماں سے بچھڑ کر۔۔ماں کوڈھونڈتی روڈ پر آنکلی اور روڈ کے درمیان کھڑی ہوگئی  چند لمحے بعد ایک وین بچّی کو کچلتی ہوئی چلی گئی، دُکاندار ،آنے جانے والے لوگ جن میں ،موٹر سائیکل سوار ، پیدل سب ہی شامل تھے بچّی کے قریب سے ایسے دیکھتے ہوئے گُزرتے جارہے تھے جیسے کوئی بات ہی نہ ہوئی ہو۔۔۔  بچّی ایسی ہی زخمی حالت میں پڑی رہی ۔۔۔کچھ دیر بعد ایک اور وین آئی وہ بھی اِس معصوم بچّی کو مزید  کُچلتے  ہوئے گُذر گئی پھر بھی دیکھنے والے دُکانداروں یا بچّی کے قریب سے گُذرنے والوں کے ضمیر نہ جاگے ،آخرِ کار ایک کچرا چننے والی خاتون نے بچّی کو اُٹھایا اور دُکانداروں سے پوچھنے لگی کہ یہ کس کی بچّی ہے جس پر دُکانداروں نے جواب دیا "اپنے کام سے کام رکھو" ۔۔۔ البتہ ایک نے  ایمبولنس کو فون کیا۔۔ بچّی دو ہفتہ تک موت و زندگی کی کشمکش میں مبتلا  رہی پھر  زندگی ہار  گئی ۔یہ واقعہ میں نے سنڈے ایکسپریس میگزین میں پڑھا تو مُجھے یقین نہیں آیا  سمجھا کہ یہ میڈیا کی کارستانی ہے جس نے واقعہ کو بڑا چڑھا کر لکھا ہوگا۔ لیکن خبر میں یہ بھی لکھا تھا کہ بازار کی ایک دُکان میں لگے سیکورٹی وڈیو کیمرے کے زریعے یہ پورا واقعہ ریکارڈ ہوگیا جوکہ یو ٹیوب پر موجود ہے ۔۔۔۔۔۔ جب خود اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا تو یقین آیا کہ انسانیت حد سے زیادہ پست  ترین سطح پر پہنچ  گئی ہے ۔۔۔۔
  بچّی کی وڈیو ذیل لنک پر ہے ۔۔۔اب اجازت دیں کہ دل میں دُکھ  اور  آنکھ میں پانی ہے ۔۔۔
آپکا بُہت شُکریہ ۔۔(ایم ۔ڈی)
http://www.youtube.com/watch?v=6htx6TaNiPY&feature=related



Monday, January 9, 2012

" وقت اور لیڈر "

منجانب فکرستان پوسٹ ٹیگز : کمیونسٹ پارٹی /جسٹس اینڈ ڈیولیپمنٹ  پارٹی/UMNO پارٹی/چوائس ہے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
"وقت" تبدیلی کا خوگر ہے۔۔ وہ منفی مثبت دونوں طرح کی تبدیلی لاتا ہے ، وہ یہ کام بڑی لگن کے ساتھ دُنیا کی ہر چیز میں کرتا رہتا ہے۔۔ وہ ملکوں میں تبدیلیاں لانے کیلئے لیڈر مہیا کرتا ہے ۔۔ لیکن پاکستان کے ساتھ معملہ یہ ہے کہ سرمایا داروں، وڈیروں ، جاگیر داروں نے پاکستان کے گرد ایسا حصار کھینچ رکھا ہے کہ وقت کو  پاکستان کےعوام کو نجات دلانے والا لیڈر مہیا کرنے میں  دقت پیش آرہی ہے۔۔۔
جبکہ پاکستان کے بعد آزاد ہونے والے مُلک" چین  کی کمیونسٹ پارٹی کو وقت نے  ماؤزے تنگ  مہیا کیا جنکی پرُ اثر شخصیت نے افیونی چینیوں کی زندگی کو بدل کر رکھ دیا ۔۔۔ اسکے علاوہ ملائشیا کی UMNO پارٹی کو وقت نے مہاتیر محمد دیا  جنکی پالیسیوں نے ملائشیا کو بلندی پر پہنچادیا۔۔۔ ترکی کی جسٹس اینڈ ڈیو لیپمینٹ پارٹی کو وقت نے عبداللہ گل مہیا کیا  انکی  شخصیت کی وجہ سے ترکی بھی تیزی سے ترقی کے منزلیں  طے کررہا ہے ۔۔۔ انضمام الحق کی کپتانی میں اُنکی شخصیت کے زیرِ اثر بے نمازی کھلاڑی بھی باجماعت نماز پڑھتے تھے ۔۔۔ کہنے کا مقصد یہ ہےکہ لیڈر کیشخصیت کا جماعت پر اثر پڑتا ہے ۔۔۔ ۔ویسے توقائداعظم کو بھی  یہ گلاِ تھا کہ اُنکی پارٹی میں کھوٹے  سکے ہیں ۔۔۔۔کھوٹے سکے ہر پارٹی میں ہوتے ہیں ۔  
   ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نے اپنے آج کے کالم میں موجودہ حکومت کی بُرائیاں گنوائیں اور پھر اِن بُرائیوں میں نواز شریف کو بھی برابر کے ذمہ دار ٹھرایا۔۔۔آپنے لکھا ہے کہ" ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئیے کہ میاں نواز شریف جو اَب خود کو مسیحا کے طور پر پیش کر نے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔۔۔ ان چار سالہ مُصیبتوں کے ذمہ دار ہیں ۔۔۔ انکے تکبّر اور عقل وفہم کی کمی نے ہم پر یہ نا اہل و راشی حکمراں نازل کئے ہیں" ۔۔۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ ملک اورقوم کو اس حالت میں پہنچانے میں دونوں  پارٹیاں برابر کی ذمہ دار ہیں ۔۔۔اس لیے میرے خیال میں ہمارے پاس عمران خان کے علاوہ کوئی چوائس نہیں ہے۔۔۔۔ڈاکٹر صاحب کے کالم کی تفصیل کیلئے لنک پر جائیں ۔۔۔اور مُجھے دیں اجازت آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔
میں یہ تو نہیں کہتا میرے خیال سے متفق ہوں لیکن میرے خیال کا پوسٹ مارٹم ضرورکریں ۔(ایم ۔ ڈی) 


Wednesday, January 4, 2012

" چار سو ایک ہی آواز گونج رہی ہے "

منجانب فکرستان پیش ہے پوسٹ ٹیگز: لاڈلے/ صراطِ مستقیم/ آوازیں  /لزت/تیسری دنیا/خالی صفحہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ڈیلفی کے مندر کے دیوتا سے لوگوں نے پوچھا کے کہ رات کو تارے ٹوٹ کر زمین کی طرف آتے ہیں ،لیکن کوئی غیبی طاقت زمین پر گرنے سے پہلے اُنہیں جلا کربھسم کرد یتی ہے ۔۔۔جواب آیا کہ جو تارے سیدھا راستہ چلنا چھوڑ دیتے ہیں دیویاں اُنکا پیچھا کرتی ہیں ،اور  غلط راستہ چلنے کی پاداش میں اُنہیں جالا کر بھسم کردیتی ہیں ۔۔۔صد شُکر کہ ہمارا خالق تو ہم پر بڑا مہر بان ہے، اس لیے کہ خالق نے جو راستہ ہمیں بتایا ہم اُس پر نہیں چلتے ۔۔۔ بلکہ ہم اُن راہوں پر چلتے ہیں جن سے خالق نے منع کیا ہے ۔۔۔۔ لیکن وہ ہمیں  جلاکر بھسم نہیں کرتا ۔۔۔۔وہ رحمان ہے ۔۔۔۔وہ رحیم ہے ۔۔۔۔ہم اُسکے لاڈلے ہیں۔۔۔۔ وہ ہمیں کُچھ بھی نہیں کہتا ۔
۔ ۔ مگر۔۔۔ مگر میرے دائیں کان میں یہ کیسی آوازیں آرہی ہیں ،یہ کون کہہ رہا کہ خالق کے اسی لاڈ نے انسان کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔۔۔۔ غلط راستہ چلنے والے انسان کو اُسی وقت جلا کر بھسم کردیتا تو آج دُنیا کی یہ حالت نہ ہوتی۔۔۔ سب انسان صراط مستقیم پر چلتے ، دُنیا مثلِ جنّت بن جاتی ۔۔۔مگر۔۔۔ مگر یہ کیا   میرے بائیں کان میں تو کُچھ دوسری طرح  کی آوازیں آرہی ہیں ۔۔۔کوئی کہہ رہا ہے ایمانداری سے بتاؤ اگر سب کے سب صراط مستقیم پر چلنے لگیں ۔۔۔دُنیا سے بُرائی ختم ہوجائے۔۔۔ سب مومن ہوجائیں ۔۔۔کوئی بھی بُرا نہ رہے۔۔  تو کیا  جینے میں مزا باقی  رہے گا اخبار اُٹھا کر دیکھ لیں پورا اخبار اس بات سے بھرا  ہُوا ہےکہ ہرکوئی دوسرے کو بُرا کہہ رہا ہے ، جب کوئی بُرا نہیں رہے گا تو اخبار کا صفحہ خالی رہے گا ۔۔۔ پھر ہم وہ لزت کیسے حاصل کریں گے جو ہم دوسرے کو بُرا کہہ کر حاصل کرتے ہیں ،جب میں دوسرے کو جاہل کہتا ہوں تو میری" انا " موٹی ہوجاتی کیونکہ میں دوسرے سےاعلیٰ ہوجاتا ہوں، دوسرے سے اعلیٰ ہونا دُنیا کی سب سے بڑی لزت ہے۔ ہر شخص کسی نہ کسی کو خراب،بےوقوف ، کافر، غیر مہذب ، جاہل ،کم عقل جیسے الفاظ کہہ کر اپنی "انا" موٹی کررہا ہے ۔۔۔  پہلی دُنیا تیسری دُنیا کو جاہل ، جنگلی، غیر مہذب کہتی ہے جبکہ تیسری دُنیا والے پہلی دُنیا والوں کو ، مکّار، بے حیا، روحانی سکون سے عاری، عنقریب تباہ  ہونے والے کہہ کر لزت حاصل کرتی ہے۔۔۔
جب سب اعلیٰ بن جائیں گے تو پھر پادری ، ربی، پنڈت،مولوی، اُس لزت  کو کیسے حاصل کریں گےجو وہ اپنے آپ کو دوسروں سے اعلیٰ سمجھ کر حاصل کرتے ہیں ۔۔  دنیا میں کہیں بھی، کوئی بھی جھگڑا ہو چاہے وہ گھریلو ہو کہ ملکوں کے مابین۔۔ فریقین سے  پوچھنے پر جواب یہی ملے گا کہ دوسرا خراب ہے۔۔۔ امریکی خراب ہیں، ایرانی خراب ہیں،سعودی خراب ، بھارتی خراب، پاکستانی خراب ۔اسرائیلی خراب ، فلسطینی خراب ،فرانسیسی خراب، جرمن خراب ،رشین خراب ، مسلمان خراب  ،عیسائی خراب ، ہندوخراب  ، یہودی خراب ،شعیہ خراب ،سُنی خراب ،بریلوی خراب،دیوبندی خراب،کیتھولک خراب،پروٹیسٹ خراب، عربی خراب، عجمی خراب، عورت خراب ، مرد خراب، ساس خراب ، بہو خراب ، شوہر خراب ،بیوی خراب، زرداری خراب، نواز شریف خراب۔الطاف حسین خراب، عمران خان خراب ۔ پنجابی خراب ہوتے ہیں،سندھی خراب ہوتے ہیں، پختون خراب ہوتے ہیں ۔ مہاجر خراب ہوتے ہیں، بلوچی خراب ہوتے ہیں،افغانی خراب ہوتے ہیں ، اب میں کہاں تک گنواؤں غرض کہ پوری دُنیا میں چار سو یہ ہی ایک آوازگونج رہی ہے کہ ۔۔۔ میں اچّھا ہوں/ ہم اچّھے ہیں ۔۔۔ دوسرا خراب ہے/ دوسرے بُرے ہیں۔۔۔۔ اب سوال پیدا ہوتا ہےکہ جب سب ہی اچّھے ہوجائیں گےتو پھراتنی بڑی دوزخ کو کون بھرے گا۔ ۔۔اور جنّت کیلئے آزمائش والے فلسفہ کو کیسے اپلائی کریں  گے  ۔۔۔ خُدا کیلئے ۔۔۔ خُداکیلئے  ۔۔۔ یہ شوربند کرو۔۔۔کون ہو تم لوگ۔۔۔  چپُ ہوجاؤ۔۔۔۔ایسی باتیں نہ کرو ۔۔۔ یہ آوازیں بند کرو۔۔اس لیے کہ۔۔۔
 رب کی باتیں رب ہی جانے۔ ۔۔اُسکی حکمت ،ہم کیا سمجھیں۔۔۔۔ اُسکی مصلحت   ،ہم کیا جانیں ۔۔۔۔ ۔۔۔۔بھاڑ میں جائے یہ ڈیلفی کامندر اور  اُسکا دیوتا۔۔۔ خوامخواہ ہم کو بہکا رہا ہے ۔۔۔ ذلیل۔۔ کمینے ۔۔لعنت ہو تُجھ پر۔۔۔ ہم سیدوں ،پیروں ،گدی نشینوں کو بہکا رہا ہے۔۔۔ہم تیرے بہکاوے میں کبھی نہیں آئیں گے ۔۔۔ہم تُجھ پر تُھوکتے ہیں ۔۔۔آخ تُھو ۔۔۔تُھوک سیدھا ۔۔۔۔ میرے منہ پر گرتا ہے اور میری آنکھ کُھل جاتی ہے ۔۔۔۔۔اب اجازت دیں ۔۔آپ کا بُہت شُکریہ  (ایم ۔ ڈی)