Image result for monument valley
ہر چیز سے عیاں ہے،ہرشے میں نہاں ہے،خالِق کائنات، مالِک کائنات
عقلِ کُل،توانائی کُل، ہمہ جہت، ہمہ صِفت،خالِق کائنات، مالِک کائنات
آنکھیں کہ جِن سے میں دیکھا ہوں میری نہیں، عطائے خُداوندی ہے
  پاؤں کہ جِن سے میں چل تا ہوں میرے نہیں،عطائے خُدا وندی ہے
غرض یہ کہ میرے  وجود کا ذرہ  ذرہ   میرا  نہیں ،عطائے خُداوندی ہے
میرے خالِق میرے مالکِ میرے پروردگارانِ نعمتوں کا بے انتہا شُکریہ  


Sunday, November 17, 2019

دماغ /ذہن کی "متحرک کھوجی فعلیت" کے سامنے یہ سوال کھڑا ہے ؟

 منجانب فکرستان
کاسہِ سر میں رکھا، جسم کا اہم ترین عضو "دماغ" جِس کی"متحرک کھوجی فعلیت" انسان کو کسی طور چین سے بیٹھنے نہیں دیتی۔
 خیال میں آنے  کی دیر تھی کہ "مادہ"کس چیز سے بنا ہے؟بس پھر کیا تھا مادہ کو کوٹا پیسا جزوِلایتجزیٰ (ایٹم) کو نکالا۔۔خوش ہوگیا کہ میدان مار لیا، کائناتی بنیادی بلڈنگ بلاک ہاتھ آگیا۔
جمعہ جمعہ آٹھ دن گزرنے نہ پائے تھےکہ بے چین کھوجی فعلیات نے پھر سر اُٹھایا ۔۔ہتھوڑا لیکر ایٹم کو توڑنے کے جتن کرنے لگا
 ایٹم ٹوٹا تو جانا کہ انسان سمیت تمام چیزیں بنیادی طور پر اپ کوارک، ڈاؤن کوارک اور الیکٹران ذروں سے مل کر بنی ہیں،گویا یہ ہی تین ذرے کائناتی بلڈنگ بلاک ہیں۔کیا اس سے دماغی کھوجی طبعیت کو کُچھ چین آیا ؟
 چین کیسا ؟ اُڑتا ہُوا یہ خیال ذہن میں آن گُھسا  کہ مقناطیس کو مخالف پولزوں کے قریب لانے پر کیوں محسوس ہوتا ہے کوئی نادیدہ (لیکن) حقیقی فزیکلی قوت موجود ہے جو مخالف پولز کو  دور دھکیل دیتی ہے، مائیکل فیراڈے نے اس قوت کے بارے یہ تصور  دیا تھا کہ کہ الیکٹرک ، میگنیٹک فیلڈ  ہر سو پھیلا ہوا ، میکسویل نے کہا، روشنی کا تعلق بھی اسی فیلڈ سے ہی ہے۔یوں "فیڈ" نے بھی کائنات پر اپنی حُکمرانی کا دعویٰ ٹھوکا۔
تین ذرات، جن کا پہلے ذکر آیا،ان کے علاوہ چوتھا پارٹیکل نیوٹرینو ہے۔ جب سے آپ نے یہ آرٹیکل پڑھنا شروع کیا ہے،کھربوں نیوٹرینو آپ کے جسم کے آرپار ہو کر گزر چکے ہیں۔ 
قدرت میں جتنے بھی پارٹیکل ہیں، ان کی دو اور کاپیاں بھی پائی جاتی ہیں جو ویسی ہی خصوصیات رکھتی ہیں، صرف ان سے بھاری ہیں۔یوں ذرات والے فیلڈز کی تعداد بارہ بن جاتی ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔ 
الیکٹران 
موؤن 
ٹاؤ 
الیکٹران نیوٹرینو 
موؤن نیوٹرینو 
ٹاؤ نیوٹرینو 
اپ کوارک 
سٹرینج کوارک 
بوٹم کوارک 
ڈاؤن کوارک 
چارم کوارک 
ٹاپ کوارک 
اب دماغ /ذہن کی "متحرک کھوجی فعلیت" کے سامنے یہ سوال کھڑا ہے کہ ہر بنیادی ذرہ، اپنی دو بھاری کاپیاں کیوں رکھتا ہے؟ پوسٹ کی تیاری میں مختلف سائیٹس کی مدد شامل ہے ۔۔
نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
اب اجازت دیں
رب مہربان رہے

Tuesday, August 20, 2019

چار 4 بت ؟ ؟ ؟ ؟۔

منجانب فکرستان :غوروفکر کے لئے
 بھارتی وزیرتعلیم رمیش پوکھرل،پوسٹ گریجویشن اور چالیس کتابوں کےمصنف ہیں-
 موصوف کا دہلی میں سائنس دانوں، ماہرین تعلیم سے خطاب ہو کہ آئی آئی ٹی بمبئی کے کنووکیشن سے خطاب، وزیر موصوف مذہبی یقینی دُنیا میں رہتے ہیں ۔ 
 ہندوں کا عقیدہ ہے کہ ویدوں کی سنسکرت زبان مہان رشیوں پر بزریعہ الہام ودیعت کی گئی اسلئیے ہراعتبار سے ابدی،مقدس اور سچّی ہے جسے وزیر موصوف سائنسی زبان بھی کہتے ہیں، زمانہ صدیوں کی مسافت کیوں نہ طے کرلے مذہبی عقیدوں اور مذہبی زبان کو کوئی گزند نہیں پُہنچ سکتی۔۔
جتنی بھی سائنسی ایجادیں ہو رہی ہیں وہ سب کی سب پہلے سے ویدوں میں سنسکرت زبان میں لکھی ہوئیں ہیں،
اسی سبب اپنے خطاب میں وزیرموصوف نے اعلیٰ ترین سائنسی تعلیمی اداروں کے سربراہوں سے اپیل کی کہ ”ہم سنسکرت کی صلاحیت ثابت نہیں کر پائے، اس لیے ہم پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ میں آئی آئی ٹی اور این آئی ٹی کے وائس چانسلروں سے اپیل کرتا ہوں کہہمیں یہ ثابت کرنا چاہیے کہ سنسکرت سے زیادہ سائنسی زبان کوئی نہیں ہے۔"-- 
ایسے میں مُجھے سائنس کے امام جناب فرانسس بیکن کے چار بت یاد آگئے آپ بھی پڑھ لیں اور مجھے اجازت دیں ۔۔۔ 
http://www.sirbacon.org/links/4idols.htm
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
https://www.dw.com/ur/%D8%A8%DA%BE%D8%A7%D8%B1%D8%AA%DB%8C-%D9%88%D8%B2%DB%8C%D8%B1-%D8%AA%D8%B9%D9%84%DB%8C%D9%85-%DA%A9%D8%A7-%D8%AD%DA%A9%D9%85-%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3-%D8%AF%D8%A7%D9%86-%D9%BE%DA%BE%D8%B1-%D9%85%D8%B4%DA%A9%D9%84-%D9%85%DB%8C%DA%BA/a-50070040
نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
{  رب   مہربان  رہے  }  

Monday, July 15, 2019

دل کی زبان، ہونٹوں سے اداہوئی

 منجانب فکرستان 
 کئی سالوں تک لوگوں کے دلوں پر راج کرنے والی سنگر الکایاگنک ایک عرصےسے گمنامی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ 
 بی بی سی  سے انٹرویو میں بتایا کہ آجکل موسیقی کی کوالٹی اچھی نہیں ہے اور دُھنوں میں بھی میلوڈی کی کمی ہے۔ 
 تاہم الکا کےاِس"سچ"پر الکا کے مخالف یہ "ٹیگ" لگا سکتے ہیں کہ الکا کو " گانےنہیں مل رہے ہیں"
کیوں کہ زمانہ اُس فیز میں داخل ہو چُکا ہے کہ جہاں " جُھوٹ سچ "باہم" شیر وشکر" ہو گئے ہیں۔
 14جولائیماسٹرآف میلوڈی"مدن موہن" کی وفات کا دن ہے،بیٹے نے یہ واقعہ شیئر کیا۔ 
"ایک دن پوری فیملی کارمیں جا رہی تھی ہم دونوں بھائی ڈیڈ سے کہہ رہے تھے کار اور تیز چلائیں۔۔ کہ اتنے میں سائرن بجاتی ٹریفک کار پیچھے سے آتی محسوس ہوئی مدن جی نے کار روک دی۔۔
 انسپکٹر نے کہا "میں نے آپ کے پیچھے سائرن بجاتی اسلئے لگائی کہ میں نے آج ہی آپ کا یہ گانا سُنا ہے" آپکی نظروں نے سمجھا پیار کے قابل مُجھے
" کمال گانا ہے " اور ہاتھ ہلاتے چلے گئے۔۔
ڈیڈ نے ماتاجی سے کہا "دِیکھا یہ ہے میرا ایوارڈ" یوں دل کی زبان، ہونٹوں سے ادا ہوئی
آپ نے سابقہ پوسٹ میں مدن جی کو ایوارڈ نہ ملنے کی  تفصیل پڑھ لی ہوگی۔
پوسٹ کی تیاری میں ذیل سائیٹس سے مدد لی ہے ۔
_____________________________________
/
نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
۔اب اجازت۔
{  رب   مہربان  رہے  } 

Wednesday, July 10, 2019

کیا یہ بھی " انّا " کی ایک " قِسم " ہے؟

منجانب فکرستان
Image result for sanjeev kumar free imagesImage result for Music director Madan Mohan free images
"غوروفکرکیلئے"تحت عموماً کوشش ہوتی ہے کہ" کوئی نئی بات " کوئی نئی تحقیق" آپ سے شیئر کروں۔
 آج کی کہانی اداکار "سنجیو کمار اور مدن موہن " کےگرد گھومتی ہے۔۔9جولائی سنجیو کمار کا جنم دن ہے۔
 سنجیو خاندان میں یہ" ذِکر" کہ مرد حضرات 50 سال سے پہلے فوت ہو جاتے ہیں والی اِس بات نے سنجیو کے ذہن پر گہرا اثر ڈالا، ہُوا بھی کُچھ ایسا ہی ۔ 1976 میں سنجیو کو ہارٹ اٹیک ہُوا ،امریکہ میں بائی پاس بھی کرایا، تاہم 6 نومبر 1985کو "47" کی عُمر  میں سنجیو کا انتقال گیا۔
https://twitter.com/sunday77
اب بات میرے پسنددیدہ موسیقار "مدن موہن" کی 1950s, 1960s, 1970s.میں  ماسٹر آف میلوڈی "مدن موہن" کے گانے ہر سو خُوب گونجتے تھے، اسِ کے باوجود کسی ایوارڈ سے نہیں نوازا گیا جِس کا اُنہیں رنج  تھا ۔۔ 
ایک دن محمدرفیع اور مدن موہن ایک دُھن  ترتیب دے رہے کہ  مدن موہن کا بیٹا بھاگ تا ہوا آیا اور باپ کو یہ اطلاع دی کہ فلم " دستک" پر آپ کو بہترین موسیقار کا نیشنل فلم ایوارڈ سے نوازا گیا ہے اور فلم دستک کے ہیرو سانجیوکُمار کو بھی بہترین ہیرو  نیشنل فلم ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔۔۔
مدن موہن نے کہا 
"اب آیا ہے خیال ایوارڈ دینے کا،میں یہ ایوارڈ لینے نہیں جاؤ گا"۔۔۔۔
سانجیوکُمار کو مدن موہن کے اِس دُکھ کا  اندازہ تھا اُس  نے کہا
" اگر آپ ایوارڈ نہیں جائیں گے تو میں بھی ایوارڈ لینے نہیں جائونگا"
 یوں سانجیو نے مدن موہن کو دُکھ سا نکالا اور دوسوٹ سلوائے ایک اپنے لئے اور دوسرا موہن کیلئے۔(یہ واقعہ ریڈیو VBS پر مدن موہن کے بیٹے سُنایا )۔۔۔
نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
۔اب اجازت۔

{  رب   مہربان  رہے  } 

Wednesday, June 5, 2019

" مُلک ایک" عیدیں دو"!! ۔

منجانب فکرستان
Image result for eid mubarak images free
فلپائنی صدر کی  صحتمندی اور
  مُلک ایک عیدیں دو کی ٹویٹ کیلئے
https://twitter.com/sunday77  
اب اجازت
رب مہربان رہے


Sunday, February 17, 2019

۔ " پروپیگنڈے کی شکست " ۔

منجانب فکرستان :غوروفکر کے لئے
------------------------
کہا جاتا ہے کہ موجودہ سائنس نے اتنی ترقی کرلی ہے خود سائنسی  معجزے دکھا رہا ہے۔ یوں سائنس نے غیرسائنسی  معجزات کے لئے کوئی جگہ نہیں چھوڑی ہے ،شاعر عرفان صدیقی نے اس کیفیت کو اس شعر میں ڈھالا ہے ۔
روح کےمعجزوں کا زمانہ نہیں،جسم ہی کچھ کرامات کرتے ہیں۔
اپنے ہونے کا اعلان کرتے رہیں اپنے ہونے کا اثبات کرتے رہیں 
 تاہم آج بھی ایسی غیرسائنسی حقیقتیں نظر آتی ہیں کہ جو انسانی ذہن کو حیرت زدہ کر دیتی ہیں،جس کو بلاشبہ "معجزہ" کے روایتی  زمرے میں داخل  کیے  بغیر کسی طرح کی توضیح ممکن نہیں۔۔۔مثلاً اسلام مخالف فلم  پروڈیوسر "آئرن ڈون ڈوم" کا اسلام قبول کرنا ہے۔ 
اسی طرح جورم وان کلیویرین کا اسلام قبول کرنے کا واقعہ  بھی معمولی واقعہ نہیں ، کیوں کہ وان کلیویرین نے ہر سطح پر اسلام مخالف  اپنا وتیرہ بنایا ہوا تھا ، بیسیوں بار یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ ہالینڈ میں برقعے اور مساجد کے میناروں پر پابندی ہونا چاہیے۔حتیٰ کہ یہ تک کہہ دیا کہ ’’ہم (اپنے ملک میں) اسلام نہیں چاہتے"۔ ایسے شخص کا اسلام لانا "معجزہ" نہیں تو کیا ہے ؟ ۔۔
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں، کچھ نہ دوا نے کام کیا۔۔
آج کی دنیا میں پروپیگنڈا کو سب سے بڑا ہتھیار مانا جاتا ہے، سانحہ نائن الیون کے بعد پوری دُنیا میں اسلام مخالف لوگوں نے اس سانحہ کو بنیاد بنا کر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دنیا بھر میں خوب خوب پروپیگنڈائی عصبیت کا زہر بھرنے کی اپنی سی کوششیں کی گئیں لیکن اِن پروپیگنڈائی  کوششوں کا کُچھ اُلٹا اثر  ہو رہا ہے ۔ ظاہر ہےکہ جورم وان کلیویرین جیسا اسلام مُخالف شخص بھی اسلام قبول کر رہا ہے۔
بی بی سی نیوز کے مطابق آئرش گلوکارہ سینیڈ اکونور نے بھی اسلام قبول کر لیا ہے، جبکہ پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق سن دو ہزار پچاس تک دنیا میں مسلمانوں اکثریت ہوجائے گی ۔۔۔

نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
۔اب اجازت۔
{  رب   مہربان  رہے  }  

Sunday, December 9, 2018

عقیدے اور یقین کی یہ کیسی داستان ؟

منجانب فکرستان:غوروفکرکیلئے"مکمل داستان" لنک پر پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن*دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے ۔
غالب نے اپنا یہ خیال اٹھارہویں صدی میں ظاہر کیا تھا، تاہم گُزرتی اِس بیس ویں صدی  میں یہ خیال کس طور استعمال ہو رہا ہے اِس بارے میں حقیقت پر مبنی اسٹوری گزشتہ ماہ نومبر کے متعدد اخبارات میں شائع ہوئی۔
جنوبی کورین جیراک لی نامی باشندہ نے شہر "سیول" کے مضافات میں  واقع علاقے گورو میں صرف 12 پیروکاروں کے ساتھ چرچ قائم کیا تاہم اپنی چرب زبانی کے  طفیل قرب و جوار کے باشندوں  کے خیالات پر اثر انداز ہُوا، یوں 12 پیروکاروں کی جگہ 130،000 اراکین کا اضافہ ہوا ۔۔
عقیدے اور یقین کی یہ داستان متعدد اخبارات میں شائع ہوئی اُن میں سے ایک درج ذیل ہے تاکہ آپ براہ راست پڑھ سکیں۔
 نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
۔اب اجازت۔{  رب   مہربان  رہے  }             


Thursday, November 29, 2018

اک دھند سے آنا ہے/ اک دھند میں جانا ہے ۔۔۔۔۔

منجانب فکرستان:
Mohammad Aziz,Mohammad Aziz dead,Mohammad Aziz dies
 خبر کے مطابق گلوکار محمدعزیز گزشتہ رات ایک شو کے سلسلے میں کولکتہ میں تھے بعدازاں دوپہر کی فلائٹ سے ممبئی پہنچے اور کیب کے ذریعے اپنی رہائش گاہ جارہے تھے کہ اچانک  اُنہیں سینے میں تکلیف محسوس ہوئی، ناناوتی ہسپتال لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے اُن کی موت کی تصدیق کردی۔
غور و فکرکیلئے)۔۔
سنسار کی ہر شہ کا اتنا ہی فسانہ ہے
اک دھند سے آنا ہے اک  میں جانا ہے 
یہ راہ کہاں سے ہے ، یہ راہ کہاں تک ہے 
یہ راز کوئی راہی سمجھا ہے نا جانا ہے
اک دھند سے آنا ہے اک دھند میں جانا ہے
-----------------------------------------
 محمد عزیز 2جولائی 1954ء کو اسِ دُنیا میں آئے 27 نومبر 2018ء میں 64 سال عمر اِس دُنیا سے چلے گئے ۔۔
 محمد عزیز  سے سرزد لغزشیوں پر رب رحم فرمائے ۔۔۔

 نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
{  رب   مہربان  رہے  }


Tuesday, November 27, 2018

ہنسی بھی آ تی ہے/ دُکھ بھی ہوتا ہے۔

منجانب فکرستان:
کیسا اعتماد، بھروسہ،یقین غور و فکرکیلئے)۔۔
آئے دن، اخبارات کے ذریعے ایسی"داستانِ محبت"کی روداد پڑھنے کو ملتی ہیں کہ جسے پڑھ کر انسانی عقل حیران رہ جاتی ہے۔
ایسی ہی ایک داستانِ محبت جو کہ متعدد برطانوی اخبارات زینت بنی۔
 ماہرینِ نفسیات کہتے ہےکہ چالیس سال کے بعد دِلی جذبات کی آنچ دھیمی اور شعور کی لو بلند ہونے لگتی ہے تاہم اسِ داستانِ محبت کی ہیروئن 60سالہ برطانوی خاتون ہیں جبکہ ہیرو سری لنکن  26سالہ لڑکا ہے۔۔
 رشتہ داروں نےسمجھایا، دوستوں نے مشورے دیے، احباب نے  فراڈ  کی  داستانیں سُنائیں۔ سب کی سب بے سود ثابت ہوئیں ۔۔۔ خاتون نے  مکان بیچ، جمع پونجی بھی ساتھ لئے سری لنکا اپنے ہیرو کے پاس چلے گئیں۔۔۔
خاتون کی تصاویر دیکھ کر ہنسی بھی آ تی ہے / دُکھ بھی ہوتا ہے ۔۔۔
مکمل داستانِ محبت وتصاویر  براہ راست لنک پر ۔۔۔
 نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
۔اب اجازت۔
{  رب   مہربان  رہے  }