Image result for monument valley
ہر چیز سے عیاں ہے،ہرشے میں نہاں ہے،خالِق کائنات، مالِک کائنات
عقلِ کُل،توانائی کُل، ہمہ جہت، ہمہ صِفت،خالِق کائنات، مالِک کائنات
آنکھیں کہ جِن سے میں دیکھا ہوں میری نہیں، عطائے خُداوندی ہے
  پاؤں کہ جِن سے میں چل تا ہوں میرے نہیں،عطائے خُدا وندی ہے
غرض یہ کہ میرے  وجود کا ذرہ  ذرہ   میرا  نہیں ،عطائے خُداوندی ہے
میرے خالِق میرے مالکِ میرے پروردگارانِ نعمتوں کا بے انتہا شُکریہ  


Sunday, December 9, 2018

عقیدے اور یقین کی یہ کیسی داستان ؟

منجانب فکرستان:غوروفکرکیلئے"مکمل داستان" لنک پر پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن*دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے ۔
غالب نے اپنا یہ خیال اٹھارہویں صدی میں ظاہر کیا تھا، تاہم گُزرتی اِس بیس ویں صدی  میں یہ خیال کس طور استعمال ہو رہا ہے اِس بارے میں حقیقت پر مبنی اسٹوری گزشتہ ماہ نومبر کے متعدد اخبارات میں شائع ہوئی۔
جنوبی کورین جیراک لی نامی باشندہ نے شہر "سیول" کے مضافات میں  واقع علاقے گورو میں صرف 12 پیروکاروں کے ساتھ چرچ قائم کیا تاہم اپنی چرب زبانی کے  طفیل قرب و جوار کے باشندوں  کے خیالات پر اثر انداز ہُوا، یوں 12 پیروکاروں کی جگہ 130،000 اراکین کا اضافہ ہوا ۔۔
عقیدے اور یقین کی یہ داستان متعدد اخبارات میں شائع ہوئی اُن میں سے ایک درج ذیل ہے تاکہ آپ براہ راست پڑھ سکیں۔
 نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
۔اب اجازت۔{  رب   مہربان  رہے  }             


Thursday, November 29, 2018

اک دھند سے آنا ہے/ اک دھند میں جانا ہے ۔۔۔۔۔

منجانب فکرستان:
Mohammad Aziz,Mohammad Aziz dead,Mohammad Aziz dies
 خبر کے مطابق گلوکار محمدعزیز گزشتہ رات ایک شو کے سلسلے میں کولکتہ میں تھے بعدازاں دوپہر کی فلائٹ سے ممبئی پہنچے اور کیب کے ذریعے اپنی رہائش گاہ جارہے تھے کہ اچانک  اُنہیں سینے میں تکلیف محسوس ہوئی، ناناوتی ہسپتال لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے اُن کی موت کی تصدیق کردی۔
غور و فکرکیلئے)۔۔
سنسار کی ہر شہ کا اتنا ہی فسانہ ہے
اک دھند سے آنا ہے اک  میں جانا ہے 
یہ راہ کہاں سے ہے ، یہ راہ کہاں تک ہے 
یہ راز کوئی راہی سمجھا ہے نا جانا ہے
اک دھند سے آنا ہے اک دھند میں جانا ہے
-----------------------------------------
 محمد عزیز 2جولائی 1954ء کو اسِ دُنیا میں آئے 27 نومبر 2018ء میں 64 سال عمر اِس دُنیا سے چلے گئے ۔۔
 محمد عزیز  سے سرزد لغزشیوں پر رب رحم فرمائے ۔۔۔

 نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
{  رب   مہربان  رہے  }


Tuesday, November 27, 2018

ہنسی بھی آ تی ہے/ دُکھ بھی ہوتا ہے۔

منجانب فکرستان:
کیسا اعتماد، بھروسہ،یقین غور و فکرکیلئے)۔۔
آئے دن، اخبارات کے ذریعے ایسی"داستانِ محبت"کی روداد پڑھنے کو ملتی ہیں کہ جسے پڑھ کر انسانی عقل حیران رہ جاتی ہے۔
ایسی ہی ایک داستانِ محبت جو کہ متعدد برطانوی اخبارات زینت بنی۔
 ماہرینِ نفسیات کہتے ہےکہ چالیس سال کے بعد دِلی جذبات کی آنچ دھیمی اور شعور کی لو بلند ہونے لگتی ہے تاہم اسِ داستانِ محبت کی ہیروئن 60سالہ برطانوی خاتون ہیں جبکہ ہیرو سری لنکن  26سالہ لڑکا ہے۔۔
 رشتہ داروں نےسمجھایا، دوستوں نے مشورے دیے، احباب نے  فراڈ  کی  داستانیں سُنائیں۔ سب کی سب بے سود ثابت ہوئیں ۔۔۔ خاتون نے  مکان بیچ، جمع پونجی بھی ساتھ لئے سری لنکا اپنے ہیرو کے پاس چلے گئیں۔۔۔
خاتون کی تصاویر دیکھ کر ہنسی بھی آ تی ہے / دُکھ بھی ہوتا ہے ۔۔۔
مکمل داستانِ محبت وتصاویر  براہ راست لنک پر ۔۔۔
 نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
۔اب اجازت۔
{  رب   مہربان  رہے  }

Wednesday, October 31, 2018

۔"فقط" اتنا سا فسانہ ہے !!۔۔

منجانب فکرستان : غوروفکرکے لئے لنک پہ جانا ہوگا
   
 زندگی کا فقط، اِتنا سا تو فسانہ ہے :: جوآیا ہے ،اُسکو جانا ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
 انجم نیاز سے سرزد لغزشیوں پر "رب کا رحم ہوکرم ہو"
٭٭٭٭٭ 
مرحوم صحافی الیاس شاکر کراچی کے نوحہ گر تھے تو انجم نیاز صاحبہ پاکستانی لیڈروں کی  لیڈری کی نوحہ گر تھیں، تاہم شگفتہ کالم بھی لکھے (لنک آخر میں) جس میں معمر خاتون کا تذکرہ کیا ہے کہ جب ان کا حُسن  سا تھ چھوڑ نے لگے تو کیا کرنا چاہیے ؟۔
1948 انجم نیاز صاحبہ کی اسِ دُنیا میں آنے کا سال ہے 20 اکتوبر 2018 سال اسِ دُنیا سے جانے کا ہے۔۔۔
صحافت کاآغاز ڈان نیوز سے شروع ہوکیا دنیا نیوز سے ہوتے ہوئے 92 نیوز پر اختتام کیا ۔ (میری معلومات کے مطابق)
اب اجازت 
 https://universe-zeeno.blogspot.com/2014/01/blog-post_23.html

 نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
{  رب   مہربان  رہے  }

Sunday, September 9, 2018

کراچی کا نوحہ گر۔۔۔

 منجانب فکرستان : غور و فکرکیلئے۔۔
فواد چوہدری کا سینئر صحافی الیاس شاکر کی وفات پر اظہار افسوس
زندگی کیا ہے؟ عناصر میں ظہور ترتیب::موت کیا ہے؟ انہیں اجزا کا پریشاں ہونا۔
سینئر صحافی الیاس شاکر کی زندگی کا آغاز 26 اکتوبر 19951 حیدرآباد سندھ سے ہُوا۔
 جمعہ اور ہفتےکی درمیانی شب اُنہیں دل کا دورہ پڑا،اسپتال لے جایا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے  یوں 7-8ستمبر 2018 کی شب کراچی میں اُنکی زندگی کا اختتام ہُوا۔۔
الیاس شاکر بھی تو اوِلاد آدم تھے اسلئے اُن سے سرزد (دانستہ غیر دانستہ) لغزشیوں پر" رب کا کرم ہو ،رب کا رحم ہو"۔۔۔ 
الیاس شاکر مرتے دم تک اپنے کالموں میں "کراچی" شہر کے ایسے رستے زخم دِکھا تے رہے کہ ورلڈ بینک کی رپورٹ کو بھی  کرہ زمین کے باسیوں کہنا پڑا کہ" کراچی کا مقام دنیا کے ناقابلِ رہائش شہروں میں چوتھے نمبر پر ہے"۔۔۔
کوئی حد ہے، کراچی سے ناانصافیوں کی کہ "کراچی'' وفاقی بجٹ کا 67 فیصد اورسندھ بجٹ کا 97 فیصد فراہم کرتا ہے ۔۔
 پربھی " کراچی کا مقام دنیا کے ناقابلِ رہائش شہروں میں چوتھے نمبر پر ہے"۔۔۔

 نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
۔اب اجازت۔
{  رب   مہربان  رہے  }

Sunday, September 2, 2018

''آب حیات''

 منجانب فکرستان: چیدہ چیدہ جملوں کی شیئرنگ ''غور و فکر کیلئے''
٭: بحر روم کے پانی میں ایسی مچھلی پائی جاتی ہے،جب کسی بیماری  یا موت کے خدشے  میں مبتلا ہوتی ہے، ریورس گئیر لگا کر دوباری طفیلی دور میں پہنچ جاتی ہے، یہ عمل ایک بار نہیں بار بار کرسکتی ہے۔۔۔
گویا ''آب حیات'' پیا ہُوا ہے۔*(بی بی سی لنک پر)
٭:خدا صرف ایک ہے اور وہ ہمارے اندر ہے؛اکشےکمار (گوگل سرچ)
٭:ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بنایا گیا متنازع قانون منسوخ کردیاہے۔۔۔
یاد رہے مہاتیر محمد بھی ان لوگوں میں شامل تھے جن کو اس قانون کے تحت تحقیقات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔(گوگل سرچ)
 ٭:شرجیل میمن کے کمرے سے ملنے والی بوتلوں میں شراب نہیں بلکہ شہد اور زیتون کا تیل تھا۔۔۔پی پی رہنما  سید ناصر حسین شاہ (گوگل سرچ)
٭: جگنو محسن نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں تحریک انصاف کے امیدوار سردار عثمان بزدار کو ووٹ دیا ۔ (گوگل سرچ)

 نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
۔اب اجازت۔
{  رب   مہربان  رہے  }

 





Wednesday, August 22, 2018

'' مبارک ہو ''

منجانب فکرستان
اور مبارک ہو
٭ ''عرفان خان،فیملی عرفان خان،اور لور عرفان خان کو 
عرفان کا زندگی کی جانب لوٹنے کا قدم بہت بہت مبارک ہو '' 
عرفان خان نے بیماری سے پہلے اور دوران علاج  صحت، زندگی اور فطرت، مذہب  اور یقین  کے حوالے سے جنِ خیالات کا اظہار کیا  ''فکرستان'' نے غور و فکر کیلئے پوسٹ زندگی/موت ؟
ایک سوال؟ کی صورت میں بلاگ پر سجایا ہے ۔۔ملاحظہ ہو۔
 http://universe-zeeno.blogspot.com/2018/08/blog-post_18.html 
اب اجازت۔۔تاہم  اگر  دل چاہے تو  زندگی  سے  متعلق   میلوڈی  سونگ   حاضر ہے۔

٭
نوٹ : پوسٹ میں کہی گئی  باتوں سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے ۔
{  رب   مہربان  رہے  }

Saturday, August 18, 2018

زندگی/موت ؟

منجانب فکرستان:عرفان خان کے خیالات 
 بیماری سے پہلے بیماری کے بعد۔
انسانی بیداری شعور نے جب "کائنات اور اپنی ذات" کا سوال اُٹھایا تو وہ دو رویا شاہراہ" دل و دماغ "پر گامزن ہوُا۔
"دل"نے اپنی شاہراہ کو مختلف مذاہب فرقوں سے سجایا تو ''دماغ'' نے اپنی شاہراہ کو حیران کُن ایجادات سے سجایا،
دُنیا گلوبل ولیج بن گئی تو جان پایا کہ ''جس خطہ زمین اورجس گھرانے میں پیدا ہوا '' ،وہاں کا مذہبی ماحول اِس یقین کو پکّا کرتا ہے کہ دُنیا میں صرف  اُسی کا مذہب یا فرقہ ہی سچّا ہے کہ بخشش بھی صرف  اِسی مذہب یا فرقے کے پیروکاروں کی ہوگی اور جنّت کے حقدار بھی صرف یہی ٹھرائے جائیں گے ۔۔اِس تمہید کے بعد آئیں جانیں کہ مذہب کے بارے میں عرفان خان کا نقطہ نظر کیا ہے؟۔۔۔۔
''بیماری سے پہلے عرفان کے "خیالات "
 ہر فرد کو اپنے لئے، اپنے مذہب کو تلاش کرنا چاہئے۔
 دوسرے کی طرف سے بتایا گیا مذہب کوئی مذہب نہیں ہوتا اور جو ایمان لائے ہے وہ صرف اپنی تسلی کے لئے  مانتے ہے۔
 "ہر مذہب میں موت کے بعد کی کہانی بتائی گئی ہے اور ہر مذہبی شخص کو لگتا ہے کہ اس کے مذہب نے صحیح کہا ہے تو دیکھ لیجئے دنیا کتنے بڑے بھلاوے میں جی رہی ہے."۔۔۔
''بیماری کے بعد کے "خیالات'' 

 عرفان خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جب انہیں پہلی بار پتہ چلا کہ انہیں نیورو اینڈوکرائن ٹیومر کا مرض لاحق ہوگیا ہے تو وہ بہت زیادہ پریشان ہوگئے تھے اور وہ ہر وقت یہی سوچتے تھے کہ وہ ٹھیک ہو پائیں گے یا نہیں۔عرفان نے اپنے مداحوں سے دعاؤں کی التجا کی۔  
عرفان خان نے تسلیم کیا کہ بیماری کے ابتدائی دنوں میں وہ بہت ڈر گئے تھے لیکن پھر آہستہ آہستہ ان کے سامنے زندگی کا نیا نظریہ آیا جو پہلے سے بہتر ہے۔۔اس لئے بیماری کو غنیمت قرار دیتے ہوئے اقرار کیا کہ اگر انہیں بیماری نہ ہوتی تو وہ دنیا اور زندگی کو اتنا جلد اس طرح نہیں سمجھ پاتے۔
ان کہنا ہے کہ بیماری کے چند ماہ میں انہوں نے 30 سالہ زندگی کا تجربہ کرلیا، یہ تجربہ انہیں میڈیٹیشن کا علم حاصل کرنے سے بھی نہ ملتا ۔۔۔
 عرفان کی خواہش ہے کہ دنیا کے تمام لوگ قدرت پر یقین رکھیں کیوں کہ اس سے زیادہ قابل بھروسہ اور کوئی چیز نہیں۔

عرفان خان نے اپنی پوسٹ میں آسٹرین ناول نگار اور شاعر رائنر ماریہ رلکے کی انتہائی جذباتی نظم لکھی کہ
’خدا ہم سب سے بات کرتا ہے، جیسا کہ وہ ہم سب کو بناتا ہے، پھر رات کی تاریکی میں خاموشی سے وہ ہمارے ساتھ چلتا ہے، اور ہم اس سفر میں کچھ الفاظ آہستہ آہستہ سن لیتے ہیں‘۔

عرفان خان کہنا کہ "یہاں کچھ بھی مستحکم و مضبوط نہیں، تاہم خود کو کبھی شکست خوردہ نہ سمجھو اور آگے بڑھتے رہو، یہاں خوبصورتی بھی ہے، دہشت بھی ہے، یہاں ایک شعلے کی طرح زندگی گزارو اور چمکنا سیکھو"۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
پوسٹ کی تیاری میں درج ذیل سائیٹس کا شُکریہ ۔۔۔۔
http://www.bbc.com/hindi/entertainment-39771377
www.dawnnews.tv/news/1084335/?preview
 نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
۔اب اجازت۔
{  رب   مہربان  رہے  }

Monday, August 6, 2018

پاکستان کے تناظر میں

فکرستان کی شیئرنگ و تبصرہ ۔۔
محترم افتخار اجمل بھوپال کا سوالیہ مدعا کہ پانچ سات سالوں میں وہ بلاگر کہاں چلے گئے؟ جو ایک دوسرے کی مدد کے لئے تیار رہتے تھے۔
 تبصرہ:- حضور وہ سب "قانونِتبدیلی"کے نذر ہوگئے،جو پوری کائنات میں جاری وہ ساری ہے۔۔ 
چینج کا نعرہ لگا کر"کالاگوروں کا سربراہ بن گیا،ٹرمپ نے امریکی پالیسی تبدیلی کا اندیہ دیا، انتخابی نتیجہ دنیا کو حیرت زدہ کرگیا۔بعض سعودی عرب میں جاری "انقلابی تبدیلیوں" کو امریکی پالیسی تبدیلی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔
موسیقی نہ سننے کے بارے میں "معروف سعودی داعی شیخ عادل الکبانی  کا کہناہے کہ موسیقی کے حوالے سے جو حدیث پیش کی جاتی ہے،وہ حدیث درست نہیں ہے" (دیکھیں گوگل سرچ)۔۔۔
امریکی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ   کا  نتیجہ تمام عوامی جائزوں  کے برعکس آیا،جبکہ پاکستان کے تناظر میں دیکھیں تو حالیہ انتخابات میں عوامی جائزوں کی رائے بٹی ہوئی تھی،تاہم ترازو کے ایک پلڑے کا جھکاؤ کسی حد تک مسلم لیگ (نون) کے حق میں جُھکا ہُوا تھا، نتیجہ قانون تبدیلی کے حق میں یعنی "نیا پاکستان" کے حق میں آیا۔۔۔ 
 نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
۔اب اجازت۔
{  رب   مہربان  رہے  }