عقلِ کُل ٭ توانائی کُل ٭ قوانینِ کُل ٭ خالقِ کائنات، مالکِ کائنات ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جب قُرآن کو سمجھ کر پڑھیں گے ٭ تب ہی منشا ئے قُرآن کو پائیں گے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
میں یہ تو نہیں کہتا میری سوچ سے اتفاق کریں٭ میں تو اپنی سوچ آپ سے شئیر کر رہا ہوں۔(ایم۔ ڈی)۔

Thursday, February 16, 2012

٭ فرقے اور رشتے ٭

منجانب فکرستان پیش ہے : گھر اور خاندان انسان کے لیے اِس دُنیا کی جنّت ہے۔"ایک سچّا واقعہ"۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفرقہ بازی امتِ مسلمہ کو کئی پہلؤں سے نقصان پُہنچا رہا ہے۔ اِس کے نقصان کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ نوجوانوں کے لیے مُناسب "رشتہ تلاش" کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں مثلاً بڑی تگ ودو کرنے کے بعد کسی لڑکے یا لڑکی کا تعلیمی معیار اور طبقاتی معیار ، کے مُطابق میچنگ رشتہ مل جاتا ہے۔ لیکن اِس مُناسب رشتہ میں دیو بندی/ بریلوی دراڑ پڑ جاتی ہے۔ تو پھر دونوں خاندانوں کو نئے سرے سے مارے مارے پھرنا پڑتا ہے چونکہ میچنگ رشتوں کا ملنا آسان بات نہیں ہے ۔ آج کتنے ہی رشتے اس تفرقہ بازی کے بھینٹ چڑ رہے ہیں ۔۔۔۔
 ایک واقف کار کا سچّا  واقعہ لکھ رہاں ہوں  جو  کہ اُنہوں نے مُجھے سُنایا۔۔۔  یہ  میرا رب جانتا ہے کہ میں جھوٹ لکھ رہا ہوں یا کہ سچ ۔۔۔۔۔ میرے واقف کار کی والدہ کا انتقال ہو گیا واقف کار کا جوان بیٹا اپنے باپ سے لڑتا  ہے کہ گھر میں دادی کا سوئم/ چہلم  نہیں ہونا چاہئیے ۔۔۔جس کے جواب میں باپ کے الفاظ یہ ہیں " ماں میری مری ہے کہ تمہاری  میں تو سوئم بھی کروں گا اور چہلم بھی،تمہیں اس گھر میں رہنا رہو یا الگ ہوجاؤ۔۔۔تو اس طرح سے یہ فرقے  باپ بیٹے، بھائی بھائی ، ماں بیٹی، جیسے مُقدس رشتوں میں دراڑیں ڈال رہے ہیں ۔تو کہیں میچنگ رشتوں میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں,اورکہیں۔۔۔ ؟؟؟ یہ سب ہمارے عُلمائے کرام  کی مہربانیوں کا نتیجہ ہے۔۔۔ ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ: آیت۔ 102،103،105،آلِ عمران  / آیت۔ 159الانعام /آیت۔91تا93 ،الحجر میں اللہ تعلیٰ نے صاف صاف لفظوں  میں فرقے بنانے سے منع کیا ہے۔۔۔ یہی پیغام آپ ﷺ نے بھی  حجۃ الوداع پر اُمّت کو دیا ۔۔۔لیکن پھر بھی ہمارےعُلماء نے فرقوں  کو بنا کر ہی دم لیا ۔۔۔اب ان فرقوں کا ختم ہونا بُہت مشکل ہے۔۔۔ چونکہ اب اس میں عُلماء کی "اناؤں" کے ساتھ ساتھ فنڈنگ بھی شامل ہو گئی ہے۔۔۔ جسکا اثر ہر فرقے میں نظر آرہا ہے ۔۔۔ لیکن پھربھی میں نے { آگ بجھانے والی چڑیا کی طرح } اپنی ایک سابقہ پوسٹ بعنوان ٭" ورائٹی  اورفرقے " میں عُلمائے کرام سے درخواست کی تھی کہ تمام فرقوں کو قبول کرتے ہوئے فرقوں کا گُلدستہ بنالیں جس میں ہر فرقہ ایک پھول کے ماند ہو۔۔۔اور یہ فیصلہ کہ کونسا فرقہ یا  فرد جنتی ہے۔۔۔ یہ فیصلہ تو اللہ نے ہی کرنا ہے۔۔۔  تو پھر ہمیں چاہئیے کہ ہم اللہ کے فیصلے کے دن تک  کا انتظار کریں اور آپس میں رنجشیں نہ بڑائیں ،اس دُنیا کو جہنم نہ بنائیں، خاندان کے مقدس رشتوں میں دراڑیں نہ پڑنے دیں اور نہ ہی  گھرکے ماحول کو تکلیف دہ بنائیں ۔۔۔
چونکہ: گھر اور خاندان انسان کے لیے اِس دُنیا کی جنّت ہے۔۔۔(ایم۔ڈی)

Sunday, February 12, 2012

" وڈیو پوسٹ ۔۔۔ "خوبصورت دُھن "

منجانب فکرستان پیش ہے:ایرانی مذہبی جماعتوں نے لگائی موسیقی پر پابندی لیکن پُرانی دُھنوں سےعلاج ہورہا ہے۔
 ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 دلیپ کمار کے پاکستان میں واقع مکان کوقومی ورثہ قرار دیا گیا ہے۔ دلیپ کمار فلموں میں سنجیدہ رول اس قدر ڈوب کر ادا کر تھے کہ یہ رول اُنکی نجی زندگی میں بھی اس حد تک سرایت کرگیا تھا کہ اُنہیں ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنا پڑا ۔ ماہرِ نفسیات نے مشورہ دیا سنجیدہ رول کے اِس چِپکو کمبل کو اُتار پھینکو یہ رول تمہاری زندگی میں زہر گھول رہا ہے ۔۔۔ اسکے بعد"توازن" کیلئے وہ فلموں میں مزاحیہ رول بھی کرنے لگے ۔۔۔جسکی مثال کوہ نور، گنگا جمنا وغیرہ جیسی فلمیں ہیں ۔۔۔ 
 فطرت توازن کو پسند کرتی ہے جبکہ افراط وتفریط پر فطرت سزا دیتی ہے۔۔۔  یہ فطرت کا اٹل قانون ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کا اٹل پن تو دیکھیں  کہ جھوٹ موٹ کی ادا کاری کرنے والے شخص پر بھی یہ قانون لاگو ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔اب آپ  پڑھیں موسیقی سے علاج/دیکھیں وڈیو/ سُنیں خوبصورت موسیقی ،اور مُجھے دیں اجازت ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔( ایم۔ ڈی)  
بشکریہ اردو ٹائمز : 15 جولائی 2011
 تہران: ایران کے میوزک ٹیچر نے موسیقی کی دھنوں سے بیماروں کا علاج کرنا شروع کر دیا۔ جسمانی طور پر مفلوج افراد بے اختیار دھنوں پر تھرکنا شروع کردیتے ہیں۔ ایران میں بعض مذہبی جماعتوں کی جانب سے موسیقی پر پابندی عائد ہے اس کے باوجود تیتیس سالہ موسیقار دھنوں سے بیمار افراد کے علاج کے لیے کوشاں ہے۔ موسیقار کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد کا موسیقی کو سن کر بہتر محسوس کرنا ہی ثابت کرتا ہے کہ یہ علاج ان کے لیے فائدہ مند ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ اس علاج میں پرانے گیتوں کو شامل کیا جائے۔

Monday, February 6, 2012

" دلیل کی دلیل "

منجانب فکرستان پیش ہے: عالمی اُصولی ضابطے  ، طاقتور طبقے نہیں مانتے ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہمارے وفاقی وزیر خزانہ جناب ڈاکٹر  عبدالحفیظ شیخ نے پاکستان کی غریب قوم کو دیا عالمی اصول کا بے وزن دلیل والا مشورہ  وہ یہ کہ پٹرولیم  مصنوعات کی عالمی قیمتوں میں اضافہ کو قوم بالکل اُسی طرح سے قبول کرے جیسے سونے کی قیمتوں میں عالمی اضافہ کو قبول کرتی ہے۔ اگر وزیر خزانہ کا یوں عالمی حوالہ کی دلیل دینا جائز ہے۔۔۔ تو پھر عالمی حوالہ کی دلیل  یہ  بھی تو ہے کہ دُنیا بھرکی حکومتیں ٹیکس  امیروں سے وصول کرتی ہیں ۔۔۔جبکہ پاکستان میں ٹیکس بالواستہ یا بلا واستہ غریب اور متوسط طبقہ سے وصول کیا جاتا ہے ۔۔۔ آپ کا خود فرمانا ہے کہ امیر بااثر  طبقہ ٹیکس  نہیں دیتا ہے۔۔۔ ۔     یعنی  عالم میں رائج ٹیکس کے اُصولی  ضابطے پاکستان کے طاقتور ور طبقے نہیں مانتے ۔۔۔ ہے کوئی اخلاقی جواز ؟  ۔۔۔ایسی صورتِ حال میں جبکہ دولت مند طبقہ ٹیکس نہ دیتا ہو غریب  پاکستانیوں  سے کہنا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں  میں اضافوں کو قبول کریں کتنا جائز ہے  ؟؟؟ اور پھر آپ روز مرہ استعمال کی پیٹرولیم مصنوعات  کا موازنہ سونے جیسی مصنوعات سے کر رہے ہیں جسکی خریداری صرف شادی بیاہ کے موقعوں پر کی جاتی ہے۔آپکا اس طرح پر موازنہ کرنا میرے خیال میں کسی طرح بھی جائز نہیں ہے ۔۔۔ یہ ایک بے وزن دلیل ہے ۔۔۔  بُہت شُکریہ۔ (ایم ۔ڈی)
Daily Express 3 فروری 2012

Saturday, February 4, 2012

٭ خطباتِ رسول سے اقتباس ٭

 منجانب فکرستان پیش ہے : ٭ خطباتِ رسولﷺ سے اقتباس ٭
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
٭اے فاطمہ بنتِ محمد، اے صفیہ بنتِ عبدالمطلب، اے عباس بن عبدالمطلب : میں تمہارے لیے اللہ کی طرف سے کسی چیز کا مختار نہیں ہوں بہ جز اسکے کہ میری تم سے قرابت داری ہے ،سو میں اسکا حق ادا کرتا رہوں گا ،البتہ میرے مال میں سے جتنا چاہو مانگ لو۔۔ (  کوہِ صفا کا خطبہ سے اقتباس) ٭ لوگو: ایسا نہ ہو کہ خدا کے حضور تم اس طرح آؤ کہ تمہاری گردنوں پر تو دنیا کا بوجھ لدا ہو اور دوسرے لوگ سامانِ آخرت لے کر پہنچیں اور اگر ایسا ہُوا تو میں خدا کے سامنے تمہارے کُچھ کام نہ آسکوں گا ٭ اب مجرم خود ہی اپنے جرم کا ذمہ دار ہوگا  ،اب نہ باپ کے بدلے بیٹا پکڑا جائے گا،نہ بیٹے کا بدلہ باپ سے لیا جائے گا ٭نہ کسی عرب کو کسی عجمی پر کوئی فوقیت حاصل ہے نہ کسی عجمی کو کسی عرب پر ، نہ کالا گورے سے افضل ہے نہ گورا کالے سے ۔ ہاں بزرگی اور فضیلت کا کوئی معیار ہے تو وہ تقویٰ ہے ٭ میں تمہارے درمیان ایک ایسی چیز چھوڑے جاتا ہوں کہ اگر تم اس پر قائم رہے تو کبھی گمراہ نہ ہوسکو گے اور وہ ۔۔۔
 ٭خُدا کی کتاب٭ ہے اور ہاں دیکھو دینی معاملات میں غلو سے بچنا کہ تم سے پہلے کے لوگ انھی باتوں کے سبب ہلاک کردیے گئے۔۔۔۔(خطبہ حجۃالوداع سے اقتباس )۔۔۔
نام کتاب: خطباتِ رسول ﷺ ۔۔مرتب: محمد رفیع الدین ہاشمی ۔۔ناشر: منشورات

Monday, January 30, 2012

" اردو بیچاری ٭ تعصب کی ماری "

منجانب فکرستان پیش ہے : اردو ایک ایسی زبان ہے ٭ جو کسی قومیت سے وابستہ نہیں ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 حال ہی میں استنبول یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے سربراہ نے VOA سے انٹرویو میں بتایا کہ  اردو ترکی زبان کا لفظ ہے جسکا صحیح تلفظ ہے "اور دو" ہے۔۔حقیقت بھی کُچھ ایسی ہی لگتی ہے۔مثلاً جب نعیم بخاری نے لفظ" مُک مُکا " اردو کو دیا اُسنے فوراً ہنسی خوشی اپنے سینے سے لگالیا اب یہ لفظ اردو میں بھی استعمال ہونے لگا ہے ۔۔۔ بولی ووڈ والوں کو اپنے کاروبار کیلئے ایسی زبان کی ضرورت تھی جو عوام میں آسانی سے سمجھی جا سکے اُنہوں نے اردو کو اپنا کر دُنیا میں اپنا کاروبار چمکایا ، اس سے  جہاں اردو کی بقا کو فائدہ پہنچا وہیں پر ہندی الفاظوں کی شمولیت سے اردو کو وسعت پزیری بھی ملی ۔۔
اردو لوگوں کو جوڑ نے کیلئے سدا اپنی باہیں کھولے رہتی ہے۔ یہ بیرون ملک  ہندوستانیوں اور پاکستانیوں کو آپس میں مِلادیتی  ہے،یہ تو لوگوں کو جوڑنے والی زبان ہے ، ایسی زبان کی مخالفت سینٹ میں اے این پی والے کر رہے ہیں ، حالانکہ ایک پختون جب ،پنجابی ، سندھی، سرائکی یا کسی بلوچی سے بات کرتا ہے تو اُردو میں بات کرتا ہے ،پھر  بھی اس زبان کی مُخالفت کُھلا تعصب  ہے، وجہ اسکی یہ ہے کہ کراچی میں ایم کیو ایم سے رسّہ کشی چل رہی ہے اور اے این پی والے اردو زبان کو ایم کیو ایم سے جوڑتے ہیں ،  جبکہ حقیقت  تو یہ ہے کہ اردو ایک ایسی زبان ہے جو کسی قومیت سے وابستہ نہیں دیکھیں وکیپیڈیا ٭  یہ تو تمام پاکستانی قومیتوں کو جوڑنے والی زبان ہے، کراچی میں پاکستان کی تمام قومیتوں کےلوگ رہتے ہیں اِن کو آپس میں جوڑنے والی یہی زبان ہے ، اِس لیے اس زبان کو کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں کرنا چاہئیے ،جس طرح انڈیا میں اِس زبان کو مسلمانوں سے وابستہ کرکے اس کو نقصان پہنچایا گیا ، جبکہ اردو سے محبت کرنے والوں میں منشی پریم چند کرشن چندر، خشوت سنگھ، رام لعل ڈاکٹر گوپی چند نارنگ،دیوان سنگھ مفتوں ،اوپندرناتھ اشک، کنور مہندر سنگھ بیدی، وغیرہ جیسے نام شامل ہیں جوکہ مسلمان نہیں تھے لیکن ہندوستان میں  اردو کومسلمانوں کی زبان کہہ کراردو کے ساتھ تعصب برتا گیا اسی طرح  پاکستان میں اردولکھا ریوں پر نظرڈالیں تو اِن میں بمشکل 10٪ ایسے ملیں گے کی جنکی مادری زبان اردو ہوگی بقایا 90٪ لکھا ریوں کی مادری زبان ، پنجابی ، پختون ، سندھی، سرائیکی ،بلوچی، ہندکو وغیرہ ہے، یہ اس بات کی حقیقت ہے کہ اردو پاکستان میں بسنے والی تمام قومیتوں کی مشترکہ زبان ہے۔ اس لیے کہ اردو میں تمام قومتتوں کے الفاظ شامل ہیں۔۔۔اب اجازت دیں آپکا بُہت شُکریہ۔۔ (ایم ۔ڈی ) 
٭

Wednesday, January 25, 2012

" برطانوی جج صاحبہ کا فیصلہ "

 منجانب فکرستان پیش ہے: برطانوی جج صاحبہ کےکئے گئے ایک انوکھے اور بولڈ فیصلہ کی روداد۔۔۔ 
 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 وکیل اکرم شیخ نے منصور اعجاز کی سیکوٹی کے حوالے سے وڈیو کانفرس کی تجویز دی ہے،جبکہ حُسین حقانی کے وکیل زاہد بُخاری نے اس تجویز کی مخالفت کی ہے۔۔۔اسطرح کی خبریں پڑھ کر مُجھے برطانوی جج صاحبہ کا وہ فیصلہ یاد آگیا کہ جس میں آفتاب احمد نامی شخص نے  اپنے آپکو دیوالیہ ظاہر کیا تھا لیکن عدالت میں اپنے آپکو دیوالیہ ثابت کرا نے میں اُسکو مُشکل پیش آرہی تھی ۔۔۔آج اُسکے مقدمہ کا فیصلہ سُنایا جانا تھا۔۔۔ لیکن آفتاب جام ٹریفک میں بُری طرح سے پھنسا ہُواتھا۔۔اُسے عدالت پہنچنے میں دیر ہورہی تھی، اس لیے وہ  کافی جُھنجھلایا ہُوا  تھا کہ   اُسے کال موصول ہوئی دوسری طرف جج صاحبہ تھیں ، آفتاب سہم گیا ۔۔۔جج صاحبہ نے پوچھا۔۔ کہاں ہو ۔۔۔آفتاب نے جواب دیا ٹریفک میں پھنسا ہُوا ہوں ۔۔جج صاحبہ نے پوچھا۔ ڈرائیونگ تو نہیں کر رہے ہو۔۔ آفتاب نے جواب دیا۔ نہیں ۔۔۔جج صاحبہ نے کہا۔اگرتُمہیں اعتراض نہ ہو تو ابھی فون پر ہی فیصلہ سُنادیتی ہوں ۔۔۔آفتاب حیران ہو گیا ،اور کہا ۔۔سُنائیں ۔۔۔ جج صاحبہ نے جرمانے اور کمیونٹی سروس کی سزا سُنادی ۔۔اتنے میں پولیس والے بھی راستہ بناتے ہوئے آفتاب تک پُہنچ گئے تاکہ گرفتار کرکے کمیونٹی سزا پر عمل درآمد کرایا جائے ۔۔۔۔
یہ روداد 15جنوری، ایکسپریس کے سنڈے میگزین سے اخذ کی گئی ہے ، ۔۔۔۔
مُجھے جج صاحبہ کا یہ فیصلہ انوکھا ، دلچسپ اور فکر انگیز لگا۔۔۔اسلیے آپ سے شئیر کر رہا ہوں۔(ایم ۔ڈی)

Monday, January 23, 2012

" پانی سے کار چلانے والے، ڈاکٹر غلام سرور کا وڈیو انٹرویو "

 منجانب فکرستان پیش ہے : بشکریہ تبصرہ نگار محمد عامر کا فراہم کردہ ڈاکٹر غلام سرور کا وڈیو لنک ۔۔
 ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
جب سونے ،تانبے اور کوئلے کے ذخیرہ کی خوشخبریوں سے پاکستان کے مستقبل کے  سُنہری خواب بنُنے لگا تھا کہ ڈاکٹرعبدالقدیر خان کے دو تین  کالم ایسے پڑھنے کو ملے کہ سُنہری خواببن گئے،گو عمران خان سے بھی مستقبل کیلئے اچّھی آس لگائے بیٹھے ہیں ۔۔۔لیکن آج کے اخبار میں پھر ایک ایسی خبر چھپی کہ "دل" اُس خبر کو "انقلاب" کانام دینے کیلئے پرُ جوش ہورہا ہے  ۔۔۔لیکن ذہن کہہ رہا سوچ لو !  :hmm
وجہ اسکی یہ ہے کہ کثرت استعمال  سے لفظ "انقلاب" کے معنی  کو نقصان پہنچا ہے ، اب یہ معمولی معمول تبدلیوں میں بھی استعمال ہونے لگا ہے ۔ لیکن میں جس انقلاب کا ذکر کر رہا ہوں وہ واقعی ایک انقلاب  ہےاس لیے کہ دُنیا بھر میں اسکے اثرات مرتب ہونگے۔۔۔اب آپ ذرا تصور میں لائیں کہ  ۔۔۔اگر گاڑیاں تیل کے بجائے  پانی پانے سے چلنے لگیں ۔۔ کاربن کے بجائے آکسیجن خارج کرنے لگیں تو ۔۔دُنیا۔۔ کیا سے کیا ہوجائے گی؟؟؟ کیا یہ انقلاب نہ ہوگا ؟؟؟ 
 جب میں پاکستان کے اِس جینئس شہری جناب ڈاکٹر غلام سرور  سے مُتاثر ہوکر یہ پوسٹ لکھ رہا تھا  تو  ذہن میں  جینئس "ارفع کریم" کا چہرہ  بھی گُھوم گیا ، دُعا گو ہوں کہ" ربِ کریم " ارفع( جینئس) کریم" کو جنّت میں ارفع واعلیٰ مقام عطا فرمائے(آمین)
اب آپ ذیل کا کاپی پیسٹ تراشہ پڑھیں ، وڈیو دیکھیں اور فیصلہ کریں کہ میں نے لفظ "انقلاب " صحیح استعمال کیا ہے نا / یا میں نےاس لفظ کو نقصان پہنچایا ہے :hmm۔۔۔ اب اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔ (ایم ۔ ڈی)
Daily Express
   23 جنوری 2012