Image result for monument valley
ہر چیز سے عیاں ہے،ہرشے میں نہاں ہے،خالِق کائنات، مالِک کائنات
عقلِ کُل،توانائی کُل، ہمہ جہت، ہمہ صِفت،خالِق کائنات، مالِک کائنات
آنکھیں کہ جِن سے میں دیکھا ہوں میری نہیں، عطائے خُداوندی ہے
  پاؤں کہ جِن سے میں چل تا ہوں میرے نہیں،عطائے خُدا وندی ہے
غرض یہ کہ میرے  وجود کا ذرہ  ذرہ   میرا  نہیں ،عطائے خُداوندی ہے
میرے خالِق میرے مالکِ میرے پروردگارانِ نعمتوں کا بے انتہا شُکریہ  


Monday, August 6, 2018

پاکستان کے تناظر میں

فکرستان کی شیئرنگ و تبصرہ ۔۔
محترم افتخار اجمل بھوپال کا سوالیہ مدعا کہ پانچ سات سالوں میں وہ بلاگر کہاں چلے گئے؟ جو ایک دوسرے کی مدد کے لئے تیار رہتے تھے۔
 تبصرہ:- حضور وہ سب "قانونِتبدیلی"کے نذر ہوگئے،جو پوری کائنات میں جاری وہ ساری ہے۔۔ 
چینج کا نعرہ لگا کر"کالاگوروں کا سربراہ بن گیا،ٹرمپ نے امریکی پالیسی تبدیلی کا اندیہ دیا، انتخابی نتیجہ دنیا کو حیرت زدہ کرگیا۔بعض سعودی عرب میں جاری "انقلابی تبدیلیوں" کو امریکی پالیسی تبدیلی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔
موسیقی نہ سننے کے بارے میں "معروف سعودی داعی شیخ عادل الکبانی  کا کہناہے کہ موسیقی کے حوالے سے جو حدیث پیش کی جاتی ہے،وہ حدیث درست نہیں ہے" (دیکھیں گوگل سرچ)۔۔۔
امریکی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ   کا  نتیجہ تمام عوامی جائزوں  کے برعکس آیا،جبکہ پاکستان کے تناظر میں دیکھیں تو حالیہ انتخابات میں عوامی جائزوں کی رائے بٹی ہوئی تھی،تاہم ترازو کے ایک پلڑے کا جھکاؤ کسی حد تک مسلم لیگ (نون) کے حق میں جُھکا ہُوا تھا، نتیجہ قانون تبدیلی کے حق میں یعنی "نیا پاکستان" کے حق میں آیا۔۔۔ 
 نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے۔
۔اب اجازت۔
{  رب   مہربان  رہے  }

Wednesday, July 18, 2018

خدا جانتا ہے۔۔۔

فکرستان کی شیئرنگ و تبصرہ ۔۔۔
عمران خان لوگوں کوبیوقوف بنانے کی کوشش کرتے ہیں:سعد رفیق
لیڈراں کے بارے میں یہ بات "افلاطون"بھی کہہ چُکے ہیں۔۔
مثلاً: فلپائن کے صدر روڈریگوڈوٹرٹے کا یہ کہنا کہ ۔" اگر کوئی ثابت کر دے کہ خدا موجود ہے تو میں صدارت سے استعفیٰ دے دوں گا "، لوگوں کو بیوقوف بنانے کی کوشش نہیں تو کیا ہے؟۔۔۔"روٹی کُپڑا مکان" کا نعرہ ہو کہ قرض اوتارو ملک سنوارو کا سلوگن یا کشکول توڑنے کی باتوں کو کیا نام دیں گے ؟ ۔۔
محترم جناب افتخار اجمل بھوپال صاحب کا شُکریہ کہ اُنہوں نے  ووٹ سے متعلق "شرعی فتوٰی" کی آگہی دی، اِسکی روشنی میں  میرے حلقے سے جو امید واران الیکش میں حصّہ لے رہے ہیں، انِ میں سے میں کسی کو نہیں جانتا ۔۔۔شرعی فتوے کی روشنی میں،میں ووٹ کے ذریعے کسی کے کردار کی گواہی نہیں دے سکتا ۔۔۔یوں  خُدا جانتا ہے کہ میں اپنا ووٹ کسی کو نہیں دوں گا ۔۔۔۔۔
 نوٹ: پوسٹ میں کہی گئی  باتوں   سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے ۔اب اجازت۔۔
{  رب   مہربان  رہے  }

Saturday, June 16, 2018

منجانب فکرستان

منجانب فکرستان


 رب ہمیشہ مہربان رہے
 ایم۔ڈی۔نور 
ـــــــــــــــــــــــ

Sunday, April 29, 2018

کیا شوپن ہار کا سکّہ کبھی خیرات ہو سکے گا؟؟؟۔

منجانب فکرستان :غوروفکر کیلئے 
 نیٹ کا ٭بنجارہ، ہر گُزرتے لمحے کے ساتھ گاؤں گاؤں قریہ قریہ ، چیزیں ہوں کہ خیالات سب کو نئے نئے معنی نئے نئے پیرہن  پہناتا جا رہا ہوں۔۔
"میرا جسم میری مرضی " جیسے جملے  تراش تا جا رہا ہے تو دوسری جانب " دیدوں کا پانی مر گیا/ڈھل گیا " جیسے محاورں کو "طاق نسیان" میں بِٹھاتا جا رہا ہے ۔۔ایسے ناپائیدار عالم میں میری نظروں سے ایسی تحریر گزری کہ یقین ہوچلا کہ فلسفی شوپن ہار کے سکّے پر زمانوں کے دُھول تک نہیں پڑی۔۔۔ 
"ول ڈیورانٹ " کی وجہ سے شوپن ہار کے سکے نے شہُرت حاصل کی  ۔ اس سکے سے وابستہ روداد اس طرح سے ہے کہ " شوپن ہار بیرے کو کھانے کا آڈر دینے کے بعد جیب میں سے سونے کا سکہ نکال کر میز پر رکھ دیتا اور پھر اپنے کانوں کو اپنی میز سے ملحق میزوں پر بیٹھے افراد کی گفتگو سننے کے کام پر لگا دیتا،جسکا مقصد  کہ جس دن بھی لوگوں کی گفتگو کا محور گھوڑوں، کتوں اور عورتوں ذکر سے خالی ہوگا،اُس دن اِس سکے خیرات کر دے گا ۔۔۔کیا شوپن ہار کا یہ سکّہ کبھی خیرات ہو سکے گا ؟؟؟۔
دُنیا کے طاقتور ترین صدور کے مابین گفتگو کا  محور !!!
میمو کے مطابق" صدر ٹرمپ نے کہا ’جسم فروش خواتین والی بات فضول ہے لیکن صدر پوتن نے مجھ سے کہا تھا کہ ہمارے پاس دنیا کی خوبصورت ترین جسم فروش خواتین ہیں"۔۔۔۔۔
---------------------------------------------
پوسٹ کی تیاری میں بی بی سی نیوز سے مدد لی ہے 
----------------------------------------------
٭بنجارے ایک قوم جو خانہ بدوش ہے اور بیوپار بھی کرتی ہے
http://www.urduinc.com/english-dictionary/%D8%A8%D9%86%D8%AC%D8%A7%D8%B1%D8%A7-meaning-in-urdu

نوٹ : پوسٹ میں کہی گئی  باتوں سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے ۔اب جازت۔۔
{  رب   مہربان  رہے  }

Tuesday, February 27, 2018

زندگی کا،بس اتنا سا فسانہ ہے، جو آیا ہے،اُسے جانا ہے ۔۔۔

منجانب فکرستان :غوروفکر کیلئے 
شاعر "اندیور"نے  27 فروری1997 کو اِس دُنیا کو خُدا حافظ کہہ دیا، تاہم اِس دُنیا سے جاتے ہوئے فلم "سفر" کیلئے زندگی اورموت کے بارے میں کُچھ ایسا فلسفیانہ گیت لکھ دیا کہ جو انسان کو غوروفکر کی دُنیا میں پُہنچا کے دم لیتا ہے ۔۔۔ 
INDEEVAR
سینئرصحافی عبدالواحد نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں نیو ائیر 2018۔نائٹ کے ہنگامے میں حصہ لیا، خوشی خوشی گھر پہنچے اچانک طبیعت میں خلل واقع ہُوا یوں سال 2018۔ کو پہلے ہی دن خُدا حافظ کہہ دیا۔۔
پھر تو 2018 کو خُدا حافظ کہنے والوں کیلائن لگ گئی،4 جنوری زبیدہ آپا5 جنوری اصغر خان19 جنوری منو بھائی یکم فروری میر ہزار خان بجارانی اُنکی اہلیہ11 فروری عاصمہ جہانگیر11 فروری قاضی واجد17فروری مُنا لاہوری المعروف ''زکوٹا جن''25 فروری سری دیوی
زندگی کی سفر ہے یہ کیسا سفر
کوئی سمجھا نہیں،کوئی جانا نہیں
ہے یہ کیسی ڈگر،چلتے ہیں سب مگر 
کوئی سمجھا نہیں،کوئی جانا نہیں
زندگی کو بہت پیار ہم نے کیا
موت سے بھی محبت نبھائیں گے ہم
روتے روتے زمانے میں آئے مگر
 ہنستے ہنستے زمانے سے جائیں گے ہم
جائیں  پر کدھر ہے کسے  یہ خبر 
کوئی سمجھا نہیں،کوئی جانا نہیں
ایسے جیون بھی ہیں جوجئے ہی نہیں
جنکو جینے سے پہلے ہی موت آگئی
پھول ایسے بھی ہیں جو کھِلے ہی نہیں
جِنکو کھلنے سے پہلے خزاں کھا گئی
ہے پریشان نظر تھک گئے چارہ گر
کوئی سمجھا نہیں،کوئی جانا نہیں
https://www.youtube.com/watch?v=SPhJvvHw1_k
نوٹ : پوسٹ میں کہی گئی  باتوں سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے ۔اب جازت۔۔

{  رب   مہربان  رہے  }

Friday, February 16, 2018

شاید ذہن کی ساخت ہی ایسی ہو !!۔

منجانب فکرستان
برائے غور و فکر
 کسان کا قدیم ذہن اپنی فصل کو نظِر بد سے بچانے کیلئے فکرمند تھا اور کوئی  ٹوٹکا چاہتا تھا ایسے میں کسان کے جدید ذہن نے  ٹوٹکا فراہم کیا کہ اپنی فصل کے قریب زیادہ سرچ کی جانے والی ماڈل کی بڑی سی نیم عُریاں تصویر لگاؤ، تُمہاری فصل کی طرف کوئی آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھےگا۔۔
یوں قدیم ذہن ، جدید ذہن کا شاندار ملاپ ظہور پزیر ہُوا ۔

ہر مذہب والے آئے دن اپنے مذہب  کے احیاء کی بات کرتے ہیں۔ محسوس یوں ہوتا ہے کہ انسانی ذہن میں جو امیج یا بات پڑ جائے اُسے جدیدیت کے تقاضے بھی نہیں مِٹاسکتے ۔۔۔۔۔
نوٹ : پوسٹ میں کہی گئی  باتوں سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے ۔اب جازت۔۔
{  رب   مہربان  رہے  }

Wednesday, January 10, 2018

جبکہ قُرآن کے مُطابق ۔۔۔۔

منجانب فکرستان (جبکہ قُرآن کے مُطابق
کیا یہ غوروفکر کا مُقام نہیں ہے کہ اسرائیلی پارلیمان نے"سبت "(ہفتہ) کے دن بھی کام/ کاروبار جاری رکھنے کی منظوری دے رہی ہے۔
جبکہ تورات کی کتاب خروج میں احکاماتِ عشرہ کا پانچواں حُکم یوں ہے۔
٭ 5:سبت کے دِن کو یاد سے پاک رکھنا۔ (خروج 20:8) چھ دِن تک تُو محنت سے اپنا سارا کام کاج کرنا۔ (خروج 20:9)۔۔ساتواں دِن خداوند تیرے خدا کا سبت ہے۔ اُس دِن نہ تُو کوئی کام کرنا نہ تیرا بیٹا یا بیٹی، نہ تیرا نوکر یا نوکرانی، نہ تیرے چوپائے اور نہ ہی کوئی مسافر جو تیرے یہاں مقیم ہو۔ (خروج 20:10) کیونکہ چھ دِن میں خداوند نے آسمانوں کو، زمین کو، سمندر کو اور جو کچھ اُن میں ہے، وہ سب بنایا۔ لیکن ساتویں دِن آرام کیا اِس لیے خداوند نے سبت کے دِن کو برکت دِی اور اُسے مقدس ٹھہرایا۔ (خروج 20:11)۔
(سورة البقرة) پھرتمہیں اپنی قوم کے اُن لوگوں کا قصہ تو معلوم ہی ہے جنہوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ہم نے انہیں کہہ دیا کہ بندر بن جاؤ اور اس حال میں رہو کہ ہر طرف سے تم پر دھتکار پھٹکار پڑے (65) ابو الاعلیٰ مودودی۔
----------------------------------------------
http://www.dw.com/ur/%DB%8C%D9%88%D9%85-%D8%A7%D9%84%D8%B3%D8%A8%D8%AA-%D9%BE%D8%B1-%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D9%88%D8%A8%D8%A7%D8%B1-%D8%A7%D8%B3%D8%B1%D8%A7%D8%A6%DB%8C%D9%84%DB%8C-%D9%BE%D8%A7%D8%B1%D9%84%DB%8C%D9%85%D8%A7%D9%86-%DA%A9%D8%A7-%D9%86%DB%8C%D8%A7-%D9%82%D8%A7%D9%86%D9%88%D9%86/a-42083150
٭
https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AF%D8%B3_%D8%A7%D8%AD%DA%A9%D8%A7%D9%85
{  رب   مہربان  رہے  }

Thursday, November 30, 2017

انسانی شعور صدیوں سے سرگراں ہے۔۔

منجانب فکرستان 
برائے غور و فکر
امجد اسلام امجد کی زندگی کا  ناقابل فراموش واقعہ "سُرخاب" میں  جِس کسی نے پڑھا ہوگا، اُسکے ذہن نے دعوتِ فکر دی ہوگی۔
اُنکا یہ واقعہ کائناتی مظہراور انسانی زندگی کے بارے میں ایسا سوال اُٹھاتا ہے کہ جس کے حل کیلئے انسانی شعور صدیوں سے سرگراں ہے۔۔
اُن دوستوں کیلئے واقعے کا اقتباس حاضر ہے کہ جنکی نظروں سے یہ واقعہ نہ  گُزرا ہو۔  حسبِ روایت آخر میں اصل سائٹ کا لنک  اِسکے علاوہ واقعے کو مزید نمایاں کرتے وڈیو کے بول ۔۔ 
 امجد اسلام امجد "شیزان" میں دوستوں کے ساتھ تبالہ خیال میں  مصروف  تھے کہ اچانک کسی خیال میں کھوکر خاموش سے ہوگئے، ایسے میں اُنہوں نے دیکھا کہ سامنے سے ایک بیرا ٹرے میں چائے کی پیالیاں و دیگر برتن تھامے چلا آرہا تھا کہ وہ لڑکھڑاگیا ،ٹرے ہاتھوں سے ِپھسل کر فرش پر جا گری یوں برتن کرچی کرچی ہوگئے، بیرا کرچیاں سمیٹنے لگا،اتنے میں امجد صاحب کی نگاہ باہر کی جانب اُٹھی تو دیکھتے کیا ہیں کہ فریدہ خانم نیلے رنگ کی ساڑی میں ملبوس سیڑھیاں چڑھتی چلی آرہی تھیں۔کہ اچانک امجد صاحب اس خیالی تصور سے باہر نکل آئے ۔ انہوں نے جو کچھ دیکھا تھا وہ  سب واہمہ تھا ۔نہ  بیرا سامنے سے آیا تھا،نہ ہی  برتن ٹوٹے تھے  نہ ہی فریدہ خانم  آئی تھیں۔۔۔
تاہم امجد صاحب ابھی اس خیال سے بمشکل باہر نکل ہی پائے تھے کہ دیکھتے کیا ہیں کہ سامنے سے وہی بیرا اُسی طرح سے ٹرے میں چائے کی پیالیاں و دیگر برتن تھامے چلا آرہا تھا کہ وہ لڑکھڑاگیا ، اُسی  طرح سے ٹرے ہاتھوں سے ِپھسل کر فرش پر جا گری برتن کرچی کرچی ہوگئے، بیرا کرچیاں سمیٹنے لگا،اتنے میں امجد صاحب کی نگاہ باہر کی جانب اُٹھی تو دیکھتے کیا ہیں کہ فریدہ خانم وہی نیلے رنگ کی ساڑی میں ملبوس اُسی طرح سیڑھیاں چڑھتی چلی آرہی تھیں، جیسا کہ امجد صاحب نے تصور میں دیکھا تھا،بالکل ویسا ہی حقیقی زندگی میں بھی ہُوا ۔ گویا ( ایکشن ری پلے) ۔۔۔
نوٹ : پوسٹ میں کہی گئی  باتوں سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے ۔اب جازت۔۔
{  رب   مہربان  رہے  }
http://e.jang.com.pk/11-12-2017/karachi/mag13.asp

Thursday, November 9, 2017

بہتے دریا میں سے ۔۔۔

منجانب فکرستان 
 9نومبرمحمداقبال ؒکا140واں یوم ولادت
سچّی بات یہ ہے کہ علامہ اقبال کی  فکر نے میری بصیرت میں اتنا اضافہ نہیں کیا  کہ جتنا کہ اضافہ  اُنکی ہمہ جہت فکر کے بارے میں  لکھے مضامین نے کیا،اِسکا بنیادی سبب  یہ ہے کہ دانشورانہ فکر کے بارے میں رائے بھی وہی  شخص دے سکتا ہے کہ جو کہ صاحبِ بصیرت ہو۔یہ مضامین چاہے علامہ کی فکر کی موافقت میں  ہوں میں کہ مُخالفت میں، پڑھنے والوں کو اِن میں بصیرت ملتی ہے کیونکہ یہ مضامین علامہ کی شاعری و خُطبات میں موجود  جہتوں کو حوالہ  بنا کر  لکھے گئے ہیں، اِن مضامین میں میرے خیال کے موجب دانشوروں نے گویا علم و بصیرت کے دریا  بہائے ہیں ۔۔۔ اِس بہتے  دریا میں سے میں نے بھی  جہاں تک ممکن ہوسکا اپنی علم کی پیاس بجھائی ہے۔۔
دانشوروں نے علامہ کی ہمہ جہت فکر  کے حوالے سے اِس قدر کہ زیادہ مضامین لکھے گئے  ہیں کہ شاید اسکی  مثال  برصغیر  میں ملنا مشکل ہے ۔
نوٹ : پوسٹ میں کہی گئی  باتوں سے  اتفاق کرنا نہ کرنا  آپ کا  حق  ہے ۔
{  رب   مہربان  رہے  }