Saturday, March 17, 2012

'' تبصرے اور تراشہ ''

منجانب فکرستان پیش ہے:- تبصرے :0-16_angry:  ( ایم ۔ ڈی )کے :0-16_angry:
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
٭عاصمہ جہانگیر نے بلوچستان مسئلہ پر کہا کہ لوگوں کو زبردستی ساتھ نہیں رکھا جاسکتا ہے۔۔۔ اور نہ ہی کسی جگہ کو کالونی سمجھا جا سکتا ہے۔۔۔لیکن پنجابیوں کا رویہ اور سوچ یہ ہی رہی ہے ۔۔۔ تبصرہ۔ اسطرح لیبل چسپاں کرنے کا رویہ کبھی میری سمجھ میں نہیں آیا فرانسیسی، برطانوی پر،امریکی، روسیوں پر،چینی، جاپانیوں پر،مسلمان، ہندؤں پر، ھندو، عیسائیوں   پر عیسائی، یہودی پر، کالے گوروں پر اور انکا الٹ بھی ایک دوسرے پر بُرے لیبل لگاتے ہیں غرض کہ یہ لیبل نسلی ،جغرافیائی علاقائی ،مذہبی، جسمانی رنگت اور فرقہ پرستی کی بنیاد پر لگائے جاتے ہیں ، یہ لیبل نہ صرف غیرتعلیم یافتہ بلکہ تعلیم یافتہ بھی لگاتے ہیں ۔اس وجہ  سےیہ کبھی بھی میری سمجھ میں نہیں آئے، شاید مذہبی عقیدوں  کی طرح  یہ لیبلز بھی ایک یقین کی صورت اختیار کر گئے ہیں ۔۔۔٭ تحریکِ انصاف کے چار ٹکڑے ہونے والے ہیں راناثناءاللہ۔۔۔ تبصرہ : سچ ہے کہ/ پیسہ بڑی طاقت ہے ۔۔۔٭ کراچی میں بھتہ ، پرچی مافیا کا راج ہے ۔۔۔۔
 تبصرہ : یہ مفاہمتی بیج کےثمرات ہیں۔۔۔۔
میرے تبصروں سے آپ کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔( ایم ۔ڈی )
 درج ذیل تراشہ جنگ 14مارچ سے لیا گیا ہے۔
 

Thursday, March 15, 2012

'' فوجی ایسا کیوں کرتے ہیں ؟؟ ایک جائزہ ''

منجاب فکرستان پیش ہے:افغانی ہمارے ملکوں پر حملہ آور نہیں ہوئے،پھر ہم افغانیوں سے کیوں لڑرہے ہیں؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
امریکی فوجی نے بلا وجہ9 بچوں، خواتین سمیت 16افراد کو ہلاک کردیا ،اس سے پہلے قُرآن جلانےاورلاشوں پر پیشاب کرنے کے واقعے پیش آچُکے ہیں۔فوجی ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ میرے خیال میں اسکی وجہ یہ ہے کہ نیٹو، امریکی فوجیوں کی دل میں یہ خیال آرہا ہو کہ سیاست دانوں نے ہمیں بلاوجہ/ بے مقصد کی جنگ میں جھونک دیا ہے۔ افغانیوں سے ہماری کیا دشمنی ہے ؟ افغانی ہمارے ملکوں پر حملہ آور نہیں ہوئے ہیں ،پھر ہم افغانیوں سے کیوں لڑرہے ہیں ؟؟؟ افغانیوں سے لڑنے کا کیا جواز ہے ؟؟؟ ہم  بلا وجہ،  بے مقصد،  اور  لاحاصل جنگ کیوں لڑرہے ہیں/ہم کیوں اپنے ملک سے، خاندان سے دور ہیں ، ہم کیوں خوف کے سائے میں اذیت ناک زندگی گذار رہے ہیں۔۔۔۔  اس طرح کی سوچ سخت فرسٹریشن پیدا کرتی ہے، نتیجہ سیاست دانوں کا غصہ وہ معصوم بچوں ، عورتوں اور نہتے لوگوں کو مار کر/ قُرآنی نسخے جلاکر/لاشوں کی بے حرمتی کرکے اُتارتے ہیں۔۔۔امریکہ اور نیٹو ممالک کے سیاست دانوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ ایسی بلاوجہ/ بے جواز جنگوں سے اُنکے فوجی ہمیشہ فرسٹریشن میں مبتلا ہونگے۔۔۔ چونکہ ایسی بلا جواز جنگوں میں لڑنے والے فوجیوں میں لڑنے کیلئے جن جذبات کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔۔ وہ جذبات  جنگ کے جواز اور مقصد سے نتھی ہوتے ہیں ۔۔۔ جہاں جنگ کا جواز اور مقصد ہی نہ ہو وہاں فوجیوں میں جنگی جذبات کی جگہ فرسٹریشن ہوگا ۔۔۔اور فرسٹریشن میں مبتلا فوجیوں سے کچھ بھی حرکت سرزد ہوسکتی ہے ،جوشرمندگی کا باعث ہوتی ہے ۔ بلا جواز جنگی جذبات سے عاری جنگیں چھیڑنے والوں کو شکست کا منہ  بھی دیکھنا پڑتا ہے ۔۔۔ اب اجازت دیں آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔
میرے خیالات سےمتفق ہونا ضروری نہیں ہے، میں تو اپنے خیالات آپ سے شئیر کر رہا ہوں(ایم۔ ڈی)  

Saturday, March 10, 2012

'' کراچی وال چاکنگ ''

منجانب فکرستان پیش ہے : کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے ؟؟؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
محترم جناب افتخار اجمل بھوپالی صاحب نے پوسٹ '' محبت'' پر تبصرہ میں اپنی والدہ ماجدہ کی محبت کا تذکرہ کیا ، اُسے شائع ہونا چاہئیے تھا، لیکن پبلشنگ کی بندش کی وجہ سے شائع نہ ہوسکا،ایسے تبصروں کی اشاعت کیلئے گنجائش نکالنی ہوگی۔۔۔کراچی میں مہاجر صوبے کیلئے نہ صرف وال چاکنگ ہوئی ہے بلکہ پوسٹر بھی لگائے گئے ہیں، جس پر سندھ اسمبلی میں ایک متفقہ قرارداد منظور ہوئی ہے جس میں وال چاکنگ کی مذمت کی گئی ہے اور سندھ حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس عمل کے پسِ پشت عناصر کو بے نقاب کیا جائے ۔۔۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کراچی کے تمام علاقوں میں وال چاکنگ ہوگئی، پوسٹر لگ گئے، اتنا سب کچھ ہوگیا لیکن حکومتِ وقت کو یہ تک معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ کن لوگوں کی کارستانی ہے ؟یہاں تک کہ اسمبلی  میں حکومت سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ایسے عناصر کو بے نقاب کیا جائے۔کیا یہ حیرت کی بات نہیں ہے ؟؟؟
 نوٹ : بحث کی راہ دکھانے والے تبصرے شائع نہیں ہونگے ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔ (ایم ۔ ڈی)

Friday, March 9, 2012

'' محبت ''

منجانب فکرستان پیش ہے: ڈاکٹر جاوید اقبال کے مقالہ سے ماخوز پوسٹ " محبت0-heartbeat.gif"   
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ڈاکٹر جاوید اقبال  کہتے ہیں کہ '' کئی بار خیال آیا کہ میں اپنے والدین  کا حقیقی بیٹا نہیں ہوں، بلکہ انہوں نے مجھے کسی سے لے کر پالا ہے  ''اسطرح کی  سوچ پیدا ہونے کی وجہ کے بارے میں وہ بتاتے ہیں کہ'' علامہ نے کبھی ایسا موقع نہیں دیا جس سے میں انکی شفقت ،الفت یا محبت کا اندازہ لگا سکوں ،والدین اپنے بچوں کو اکثر پیار سے بھینچا کرتے ہیں ،اُنہیں گلے لگاتے ہیں ،اُنہیں چومتے ہیں، مگر مجھے انکے خدوخال سےکبھی اس قسم کی شفقت پدری کی موجودگی کا احساس نہیں ہُوا  ( علامہ نے میری پیدائش کیلئے حضرت مجدد کی درگاہ میں حاضر ہوکر اللہ سے بیٹے کی عطا کی دُعا مانگی تھی )،ان باتوں سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ اُنہیں مجھ سے محبت نہیں تھی سرا سر غلط ہے ۔انکی محبت کے اظہار میں ایک قسم کا ضبط محبت تھا ، گہری خاموشی تھی، اس محبت کی نوعیت فکری یا تخیلی تھی جس تک میرا ذہن نارسا پہنچنے کی اہلیت اُس عُمر میں نہ رکھتا تھا ۔۔۔۔۔ 
یہ پوسٹ مقالہ "اقبال ایک باپ کی حیثیت سے " سے ماخوذ ہے۔ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
دنیا میں ایسے بُہت سے والد ہیں جو علامہ کی طرح اپنے بچوں سے دل میں محبت رکھتے ہیں مگر جس کا وہ اظہار نہیں کرتے ممکن ایسے مفکر قسم کے لوگوں کو اظہار محبت کرنے میں عامیانہ پن محسوس ہوتا ہو۔1-think.gif
میری رائے سے آپکا متفق ہونا ضروری نہیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔(ایم ۔ ڈی )
تبصروں کی پبلشنگ بند ہے۔۔۔

Thursday, March 8, 2012

" خبروں پر تبصرے "

منجانب فکرستان پیش ہے: ایم۔ڈی کے تبصرے ٭کتنے اچّھےgud.gif کتنے بُرے 1-think.gif   ؟؟؟؟؟
 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1#: واشنگٹن ریپبلیکن صدارتی امید وار رون پائول نے دُنیا پر حُکمرانی کی امریکی پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے  امریکی حکمرانوں سے کہا ہے کہ  اگر تم توقع کرتے ہوکہ دُنیا پر اپنی حکمرانی جاری رکھ سکو گے تو یاد رکھو کہ ایسا نہیں کر پاؤ گے ۔۔۔ امریکی عوام ایران یا شام پر جنگ مسلط کرنے کے متحمل نہیں ہیں ۔۔۔ امریکی عوام کے مسائل کی اصل وجہ فوجی اخراجات ہیں ۔۔۔ وہ اقتدار میں آکر فوجی اخراجات میں کمی کریں گے۔۔۔امن اور خوشحالی کو فروغ دینا ہے تو جنگ کی پالیسی کو ترک کرنا ہوگا ۔۔۔ تبصرہ: پائول بھائی آپ کے منہ میں گھی شکر۔۔۔ کاش آپ کی طرح دُنیا کے تمام حُکمراں  فوجی اخراجات میں کمی کرنے کا سوچ لیں تو دُنیا کے انسان بھوک، جہالت اور بیماریوں پر قابو پا سکتے ہے ۔۔۔  #2: افغانستان میں 6 برطانوی فوجیوں کی ہلاکت پر وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا آج کا دن انتہائی افسوس ناک ہے۔۔۔ تبصرہ: ڈیوڈ کیمرون صاحب آپکے فوجیوں نے بیشمار بے گناہ انسانوں کو مار دیا۔۔ایک انسان ہونے کے ناتے کیا کبھی اس پر بھی افسوس ہُوا ؟؟؟   نواز شریف نے شمولیت پریس کانفرس میں ماروی میمن کا 15 بار شکریہ ادا کیا ۔۔۔تبصرہ: بھائی کاؤنٹر  15 بار کا اندازہ ایسے ہی ٹھوک دیا  ہے یا ہاتھ میں کاؤنٹر بھی تھا   ویسے قوم اچھی طرح جاتنی ہے کہ ماروی میمن نے  ن لیگ میں شمولیت کا فیصلہ خالصتاً قومی مفاد میں کیا ہے۔قومی مفاد زندہ باد  #3:  وحیدہ شاہ 2 سال کیلئے نا اہل تبصرہ: میرے خیال میں میڈیا نے تھپڑ کو بار بار دِکھا کر وحیدہ شاہ کو جو رسوائی دی وہ ایسی سزا ہے جو ہمیشہ انکے ساتھ رہے گی،  ۔۔۔تبصروں کی پبلشنگ بند ہے ۔۔۔
میرے تبصروں سے آپکا متفق ہونا ضروری تو نہیں ۔۔۔ بُہت شُکریہ۔ (ایم ۔ڈی)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

Friday, March 2, 2012

کیا آپ بدھ مذہب کے پیروکار ہیں ؟؟؟

منجانب فکرستان پیش ہے پوسٹ ٹیگ: قادیانی/اے این پی/حضرت علی/شیعہ/ٹیبل ٹاک۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 پوسٹ "عبدالماجددریابادی" پر تبصرہ آیا، کیا آپ بدھ مذہب کے پیروکار ہیں؟ وجہ اسکی یہ ہے کہ یہ پوسٹ "انسانی سوچ" کے حوالے سے لکھی گئی ہے۔ اس پوسٹ میں حالیہ گلگت واقعہ اور بامیان میں بُدھا مجسمہ کی تباہی کے واقعہ کو ایک ہی سوچ کا شاخسانہ لکھا تھا ، اسی طرح ایک پوسٹ میں حوالے کیلئے ڈاکٹر عبدالسلام کا نام لکھا تو تبصرہ آیا تھاکہ کیا آپ قادیانی ہیں ؟ اسی سے جُڑا ہُوا ایک سیاسی واقعہ بھی یاد آگیا ہے کراچی میں اردو بولنے والوں اور پشتو بولنے والوں کے درمیان جھگڑے ہورہے تھے خون بہنا شروع ہوگیا تھا کہ پشاور سے اے این پی کے سربراہ ولی خان آگئے پٹھانوں کے علاقے قائدآباد میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ جھگڑوں کا حل ایکدوسرے خون بہانا نہیں اسکا حل ٹیبل ٹاک ہے۔۔۔ میں نے اپنے حلقہ احباب میں ولی خان کے بیان کی تعریف کی تو مجھ سے کہا گیا ۔۔کیا آپ اے این پی میں شامل ہوگئے ہیں ؟؟ جبکہ حضرت علی کا قول ہے کہ یہ مت دیکھو کون کہہ رہا ہے۔۔ بلکہ یہ دیکھو کہ کیا کہہ رہا ہے ۔۔۔مگر یہ کیا میرے کان میں تو ابھی سے یہ آواز آنا شروع ہوگئی ہے ۔۔۔ کیا آپ شیعہ ہوگئے ہیں ؟؟؟۔۔۔۔افسوس ہم کتنے تنگ نظر ہیں کہ کسی کی کہی ہوئی اچھی بات کی تعریف بھی نہیں کرسکتے ہیں ۔۔۔محترم اس پوسٹ سے آپ کو اپنے تبصرہ کا جواب بھی مل گیا ہوگا۔۔۔ اب اجازت دیں آپکا بُہت شُکریہ( ایم ۔ڈی) 
نوٹ : تبصروں کی پبلشنگ بند ہے     

'' انسانی ذہن کی اثر پزیری صفت''

منجانب فکرستان پیش ہے:بات ہے یہ انسانی ذہن کی آپ بیتی عبدالماجددریابادی کی !!! 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ایک وضاحت اس پوسٹ کے بارے میں یہ ہے کہ عبدالماجد دریابادی  کی آپ بیتی کو اپنی بات کہنے کیلئے بطور حوالہ استعمال کیا ہوں ، باقی ساری خیال آرائی میرے ذہن کی پیداوار ہے۔جبکہ مکمل آپ بیتی کی تلخیص خاتون بلاگر قسط وار پیش کر رہی ہیں  اُنہوں نے  کتاب کا لنک بھی فراہم کیا ہے ،جس سے فائدہ اُٹھا کر عبدالماجد کی آپ بیتی پڑھ ڈالی، جسکا حا صل یہ  نِکلا کہ انسانی ذہن میں حد درجہاثر پزیری  کی صفت پائی جاتی ہے جس کی جسکی وجہ سے برسوں سے ذہن میں موجودمقدس عقیدوں کی ٹوٹ پھوٹ ہو جاتی ہے ۔۔۔  
عبدالماجددریابادی کی پیدائش مذہبی گھرانے میں ہوئی اور تربیت دینی موحول میں  گھر میں والدین بھائی بہن سب پابند صوم وصلوٰۃ تھے خود بھی باجماعت نماز کے پابند تھے   مطالعہ میں مذہبی کتابیں تھیں، مسیحوں اور نیچریوں کے خلاف مضامین بھی لکھتے تھے غرض کہ اسلام سے حد درجہ عقیدت تھی ۔۔۔پھر ہُوا یہ کہ ایک عزیز کے پاس  "ایلیمنٹس آف سوشل سائنس" نامی کتاب دیکھی پڑھنے کا چسکا تو تھا پوری کتاب پڑھ ڈالی یہ کتاب مذہبیات کی نہیں عقلیات پر تھی،پڑھنے کے بعد  انکے ذہن میں عقلیات اور مذہبی عقیدوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی  جس کے اثر کا نتیجہ خود انکی زبانی { مذہب کی حمایت ونصرت میں ابتک جوقوت جمع کی تھی وہ اتنی شدید بمباری کی تاب نہ لاسکی ۔۔۔ شک بدگمانی تخم ریزی مذہب و اخلاقیات کے خلاف خاصی ہوگئی ،لاحول ولا قوۃ اب تک کس دھوکے میں پڑے رہے، تقلیداً اب تک جن چیزوں کو جزوایمان بنائے ہوئے تھے۔ وہ عقل و تنقید کی روشنی میں کیسی بودی کمزور اور بے حقیقت نکلیں}۔۔۔
اسکے بعد مذہبی کتابوں کی جگہ بیکن،لاک، ہیوم، ہیگل، ڈارون اور مل کی کتابوں نے لے لیں انکے اثر کے طفیل ماجد صاحب اب پکے ملحد بن گئے ۔۔۔
ماجد صاحب پر 10سال تک الحاد کا رنگ چڑھا رہا پھر ہوسٹل کے پُرانے  ساتھی ڈاکٹر محمد حفیظ کے رغبت دلانے پر تصوف پر مبنی لٹریچر  کنفوشس ،بدھ مت،جین مت ، تھیا سوفی  ، اور ہندو تصوف  اوربھگوت گیتا  نے تو گویا انکو روحانیت میں ڈبودیا پھر رومی، جامی، عطار، وارث کے لٹریچر نے ماجد صاحب کو اسلامی تصوف کی جانب موڑ دیا،  ایک بار پھر ذہن میں مادیت اور روحانیت کے درمیان جنگ چھڑ گئی جس کے اثر کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں  { مادیت، لاادریت و تشکیک کی جو سر بفلک عمارت برسوں میں تعمیر ہوئی تھی وہ دھڑام سے زمین پر آرہی}۔۔۔
 اب مادیت کی جگہ تصوف کا رنگ چڑھ گیا  پھر حیدرآباد دکن میں اُنہیں محمد علی لاہوری احمدی کیانگریزی میں لکھی قُرآن مجید کی تفسیر پڑھنے کو ملی جس کے اثر کے  بارے کہتے ہیں کہ {انگریزی قُرآن کو ختم کرکے دل کو ٹٹولا تو اپنے آپ کو مسلمان پایا ۔اور اب اپنے ضمیر کو دھوکہ دیے بغیر کلمہ شہادت بلا تامل پڑھ چُکا تھا }۔۔۔
ابھی ہم نے عبدالماجد دریابادی کی صورت میں ذہنِ انسانی کی اثر پزیریت کی صفت کو دیکھا کہ مورثی اعتقادات جسکی آبیاری 16/15سال تک مسلسل ہوتی رہی پھر انِ اعتقادات کو گھر کا ماحول ، خاندان،مسلم معاشرہ اور اسلامی لٹریچر برابر تقویت دیتا رہا لیکن  پھر بھی یہ اعتقادات عقلیات کی ایک کتاب "ایلیمنٹس آف سوشل سائنس" کے آگے ٹہر نہ سکے وجہ اسکی یہ ہے کہ  ماجدصاحب نے مذہبی اعتقادات کو عقل کی کسوٹی سےپرکھنے کی کوشش تھی۔۔۔
تمام مذاہب مذہبی عقیدوں پر استوار ہوتے ہیں اور یہ بے ضرر ہوتے ہیں،اِن میں رواری، اور بھائی چارہ ہوتا ہے ۔ مثال کیلئے کسی بھی مذہب  کےبانی  کی سیرت کو دیکھ لیں اس  میں رواداری اور بھائی چارہ ملے گا، اسلام سے مثال محمدﷺ کی سیرت ہے ۔۔۔
ہوتا یہ ہےکہ ان بے ضرر مذاہب میں مذہبی عالم اپنی عقل داخل کرتا ہے اور پھر اس میں سے اپنی عقل سے میچ کھاتا فرقہ برآمد کرتا ہے ، اس طرح مختلف مذاہب کے مذہبی عالم مذاہب سے اپنی اپنی عقل سے میچ کھاتے فرقے برآمد کرتے ہیں  چونکہ فرقے انسانی عقلی دلائل پر کھڑے ہوتے ہیں، اس لیے انِ میں انانیت، تنگ نظری،مذہبی تعصب، عدم برداشت، پایا جاتا ہے۔ ہر مذہب کے عُلما انسانی ذہن کی اثرپزیریت کی صفت کو اپنے فائدے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ یہ چرب زبان مذہبی عُلما اپنے پیرو کاروں کے ذہنوں یہ بات راسخ کرادیتے ہیں کہ صرف اُنکا فرقہ ہی حقانیت پر قائم ہے دوسرے تمام فرقے مذہب دشمن فرقے ہیں ۔اور یہ فرقے  مذہب میں گند پھیلا رہے ہیں اس لیے اِن کو مارنا ثواب ہے،یوں بے ضرر عقائد پر مبنی مذاہب میں عقلی دلیوں پر قائم فرقوں کے  ضرر کاری  داخل ہو جاتی ہے ۔جسکی مثال حالیہ گلگت کا واقعہ ہے۔یہ بس والا واقعہ تصور میں لائیں تو رونگتے کھڑے ہوجاتے ہیں ،ایسے واقعات سے مُجھے داتا دربار کی وہ وڈیوبھی یاد آجاتی ہے جس میں دو مولوی ثواب کمانے ،جنّت میں جانے کیلئے داتا دربار کو انسانی خون سے نہلادیا ۔۔۔   
گلگت کا واقعہ ہو یاکہ بامیان میں بدھا کا مجسمہ گرانے کا واقعہ ان سب میں انسان دشمن فرقہ پرست علما کا پھیلایا ہوا زہر ملے گا۔ چونکہ ہم نے عبدالماجددریابادی کی صورت میں انسانی ذہن کی اثرپزیریت کی صفت کو دیکھ چُکے ہیں کہ کس طرح ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ذہن کو انسانی تحریروں نےاس حد تک مُتاثر کیا  کہ برسوں کے قائم  مورثی  خاندانی مذہبی عقائد سب بے معنی ہوگئے۔۔۔
میں گاہے بہ گاہے فرقہ پرستی کے خلاف اس لیے بھی لکھتا ہوں کہ میری تحریر  سے کسی ایک فرقہ پرست انسان کے ذہن سے فرقہ پرستی کی لعنت  ( یعنی دوسرے فرقوں یا  مذاہب سے نفرت) ختم ہوجائے، تو شاید میری بخشش ہوجائے ۔۔۔اب اجازت دیں آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔(ایم ۔ ڈی)
ایک اور وضاحت:میں چاہتا تھا کہ خاتون بلاگر اپنی قسطیں ختم کریں تو پھر میں یہ پوسٹ لکھوں ۔۔دریافت کرنے پر خاتون بلاگر نے کہا کہ آپ پوسٹ لکھیں اسی بہانے ممکن ہے کُچھ تبصرے آجائیں  ۔  
 نوٹ :ایک بار پھر مُجھے تبصروں کی پبلشنگ بند کرنی پڑ رہی وجہ اسکی یہ کہ ہمارے بلاگر ساتھی کا ایک تبصرہ شائع کردیا اور کہہ دیا کہ دیکھیں ایسا تبصرہ نہ کریں جس سے بحث کا پہلو نکلتا ہو چونکہ بحث سے سوائے رنجشوں کے کچھ حاصل نہیں ہوتا یہ میرا تجربہ ہے۔۔۔اسکے  جواب  میں اُنہوں نے دوسرا تبصرہ بھی بحث کی راہ دکھانے والا کیا جسے میں نے ڈلیٹ کردیا ساتھ میں ان سے معذرت  کی"انا" کوبھی آڑے آنے نہیں دیا ۔۔۔لیکن اسکے باوجود اُنہوں نے "مکالمہ"  کے عنوان سے میرے خلاف پوسٹ لکھ ڈالی افسوس کہ مجھے بھی وضاحت دینی پڑی لیکن یہ کوئی اچھی بات نہیں ہوئی ۔۔۔اب میں اپنے قارئین کو گواہ بناکر اُن سے وعدہ کرتا ہوں کہ وہ میرے بارے میں جو چاہیں لکھیں میں اُنکے بارے میں کچھ نہیں لکھوں گا ۔۔۔ 

Wednesday, February 22, 2012

٭ ضمنی اثرات کے بارے میں ٭

منجانب فکرستان پیش ہے:ایکسپریس سنڈے میگزین میں شائع شُدہ اسپیشل رپورٹ سے چیدہ چیدہ باتیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
امریکہ میں ہر سال 20 تا 25 لاکھ افراد ضمنی اثرات کے زد میں آتے ہیں ،اِن میں سے کم وبیش ایک لاکھ مر جاتے ہیں ۔ مشہور گلوکار مائیکل جیکسن کو نیند کی شکایت تھی  ڈاکٹر " کونارڈ مرے" کی خدمات حاصل کیں لیکن" مرے "نے تو اُسے مار ہی دیا  ڈاکٹر مرے نیند کیلئے  "پروپوفل"  نامی دوا دینے لگا جبکہ مائیکل جیکسن ڈیپریشن کو بھگانے والی  دوا " لورازپام اور میڈازولم" بھی کھا رہا تھا۔۔۔ تینوں دواؤں کے ملاپ سے ایسا مضر صحت مواد پیدا ہُوا  کہ ہارٹ اٹیک کا باعث بنا اِس طرح لاکھوں افراد  کا محبوب فنکار اُن سے ہمیشہ کیلئے جُدا ہو گیا ۔۔۔
58 سالہ" لیری" لندن کا باسی پیٹ کی بیماری" باؤل سائنوڈریم" میں مبتلا ہُوا لندن کے  ڈاکٹر نے  سٹیلا زائن نامی دوا تجویز کی جبکہ پیٹ کی اس بیماری میں یہ دوا نہیں دی جاتی ہے ۔۔۔ اس دوا کے6 ماہ کے استعمال کے ضمنی اثرات سے لیری ایک نئے مرض   پارکنسونزم میں بھی مبتلا ہوگیا اس بیماری میں پٹھے اکڑ جاتے ہیں ،چلنے پھرنے، اُٹھنے بیٹھنے میں تکلیف ہوتی ہے ، اناڑی  ڈاکٹر کو اس  نئی بیماری کی دوا معلوم تھی لہٰذا اس مرض کی دوا" لیووڈوپا "بھی دی جانے لگی  مزید6 ماہ گُذر گئے لیری کو آرام نہ آیا تو اُس نے ڈاکٹر بدلنے کافیصلہ کیا اور وہ مرض پارکنسونزم کے اسپشلسٹ کے پاس گیا یہ تجربہ کار ڈاکٹر تھا مریض کی ہسٹری لینے پر وہ سمجھ گیا کہ بیماری دوا سٹیلا زائن کے ضمنی اثرات کی پیداوار ہے۔چُناچہ اسنے فوراً  دوا سٹیلا زائن کو بند کرا دیا اور اگلے 6 ماہ میں آہستہ آہستہ لیووڈوپا بھی روک دی چونکہ لیری اب صحت یاب ہوچُکا تھا ۔۔۔
جب ترقی یافتہ ممالک میں ڈاکٹروں کا یہ حال ہے تو ترقی پزیر اور پسماندہ ممالک کے ڈاکٹروں کیا حال ہوگا ؟؟؟۔۔۔ اب اجازت دیں آپکا بُہت شُکریہ۔۔۔( ایم ۔ ڈی)
  





Sunday, February 19, 2012

٭ مسلمان لفظوں کی جنگ لڑ رہے ہیں ٭

منجانب فکرستان پیش ہے: مسلمان اِسی میں مست ہیں، مسلمانوں کے احداف یہی ہیں !!!
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اقوامِ عالم کے درمیان (مسلمانوں کو چھوڑکر) سائنسی  میدان میں ترقی کے نئے سے نئے احداف حاصل کرنے کی ایک دوڑ لگی ہوئی  ہے خاص کر مائکرو چپ یا جادوئی چپ میں قومیں نتِ نئے جادوئی احداف حاصل کرکے  اپنی قومی برتری ثابت کر رہی ہیں مثلاً کوئی  قوم انسانی ذہن جیسی کاکردگی دکھانے والی چپ کی تیاری میں لگی  ہوئی ہے۔   تو کوئی قوم ایسی چپ تیار کررہی ہے  جو انسانی جسم میں موجود بیماری کی نشان دہی کردے اور کو ئی تو ایسی چپ تیار کر رہی ہے جو رموٹ کنٹرول کےزریعہ مریض کے جسم میں بر وقت  دوا  اُنڈیل دے، غرض کہ دُنیا کی قومیں اسی طرح کی سائنسی کارنامے انجام دینے پر اپنی ذہنی انر جی صرف کر رہی  ہیں۔۔۔ جبکہ مسلمان قوم آپس میں اس طرح لفظوں کی جنگ لڑ رہی ہے کہ ایک گروہ کہتا ہے" عید میلادالنبی " منانا صحیح ہے۔۔۔ جبکہ دوسرا گروہ کہتا ہے"عید میلادالنبی" نہ صرف منانا غلط ہے بلکہ عیدمیلادالنبی کہنا بھی غلط ہے۔۔۔غرض کہدو نوں گروہوں کی جانب سے صحیح / غلط ثابت کرنے کیلئے دلائل پر دلائل دیے جا رہے ہیں جس پر دو نوں گروہوں کے چاہنے والے دلائل فراہم  کنندہ کی مداح سرائی جزاک اللہ ،سبحان اللہ کہہ کر کر تے  ہیں ۔۔۔اور ساتھ میں دوسرے گروہ کے حق میں یہ دُعا بھی کرتے ہیں کہ خُدا انہیں عقل دے ۔۔۔اِس دُعا میں نفس کی یہ بڑائی پوشیدہ ہے کہ ہم تم سے بہتر ہیں ۔۔۔مسلمان اسی طرح کی بحثوں میں اُلجھے ہوئے ہیں اور اسی طرح کی بحثوں میں اپنی ذہنی انرجی  کوصرف کر رہے ہیں۔۔۔چونکہ ہمارے احداف یہی ہیں۔۔
خبر کےمُطابق آندھرا پردیش مسلم وقف بورڈ سے قادیانیوں کی جائدادیں خارج کرنے کی قرار داد منظور ہونے پر مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی  اور مسلمانوں نے بورڈ کےحق میں جبکہ قادیانیوں کے خلاف خوب نعرے بازی کی ۔۔۔ مسلمان      نعرے بازی سے دُنیا فتح  کریں گے ۔۔۔۔
ہم مسلمان اِسی میں مست ہیں ۔۔۔چونکہ ہمارے احداف یہی ہیں ۔۔۔اب اجازت دیں آپ کا بُہت شُکریہ۔
میں یہ تو نہیں کہتا میری سوچ سے اتفاق کریں ٭ میں تو یہ کہتا ہوں کہ میری سوچ یہ ہے۔(ایم ۔ ڈی) 

Thursday, February 16, 2012

٭ فرقے اور رشتے ٭

منجانب فکرستان پیش ہے : گھر اور خاندان انسان کے لیے اِس دُنیا کی جنّت ہے۔"ایک سچّا واقعہ"۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفرقہ بازی امتِ مسلمہ کو کئی پہلؤں سے نقصان پُہنچا رہا ہے۔ اِس کے نقصان کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ نوجوانوں کے لیے مُناسب "رشتہ تلاش" کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں مثلاً بڑی تگ ودو کرنے کے بعد کسی لڑکے یا لڑکی کا تعلیمی معیار اور طبقاتی معیار ، کے مُطابق میچنگ رشتہ مل جاتا ہے۔ لیکن اِس مُناسب رشتہ میں دیو بندی/ بریلوی دراڑ پڑ جاتی ہے۔ تو پھر دونوں خاندانوں کو نئے سرے سے مارے مارے پھرنا پڑتا ہے چونکہ میچنگ رشتوں کا ملنا آسان بات نہیں ہے ۔ آج کتنے ہی رشتے اس تفرقہ بازی کے بھینٹ چڑ رہے ہیں ۔۔۔۔
 ایک واقف کار کا سچّا  واقعہ لکھ رہاں ہوں  جو  کہ اُنہوں نے مُجھے سُنایا۔۔۔  یہ  میرا رب جانتا ہے کہ میں جھوٹ لکھ رہا ہوں یا کہ سچ ۔۔۔۔۔ میرے واقف کار کی والدہ کا انتقال ہو گیا واقف کار کا جوان بیٹا اپنے باپ سے لڑتا  ہے کہ گھر میں دادی کا سوئم/ چہلم  نہیں ہونا چاہئیے ۔۔۔جس کے جواب میں باپ کے الفاظ یہ ہیں " ماں میری مری ہے کہ تمہاری  میں تو سوئم بھی کروں گا اور چہلم بھی،تمہیں اس گھر میں رہنا رہو یا الگ ہوجاؤ۔۔۔تو اس طرح سے یہ فرقے  باپ بیٹے، بھائی بھائی ، ماں بیٹی، جیسے مُقدس رشتوں میں دراڑیں ڈال رہے ہیں ۔تو کہیں میچنگ رشتوں میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں,اورکہیں۔۔۔ ؟؟؟ یہ سب ہمارے عُلمائے کرام  کی مہربانیوں کا نتیجہ ہے۔۔۔ ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ: آیت۔ 102،103،105،آلِ عمران  / آیت۔ 159الانعام /آیت۔91تا93 ،الحجر میں اللہ تعلیٰ نے صاف صاف لفظوں  میں فرقے بنانے سے منع کیا ہے۔۔۔ یہی پیغام آپ ﷺ نے بھی  حجۃ الوداع پر اُمّت کو دیا ۔۔۔لیکن پھر بھی ہمارےعُلماء نے فرقوں  کو بنا کر ہی دم لیا ۔۔۔اب ان فرقوں کا ختم ہونا بُہت مشکل ہے۔۔۔ چونکہ اب اس میں عُلماء کی "اناؤں" کے ساتھ ساتھ فنڈنگ بھی شامل ہو گئی ہے۔۔۔ جسکا اثر ہر فرقے میں نظر آرہا ہے ۔۔۔ لیکن پھربھی میں نے { آگ بجھانے والی چڑیا کی طرح } اپنی ایک سابقہ پوسٹ بعنوان ٭" ورائٹی  اورفرقے " میں عُلمائے کرام سے درخواست کی تھی کہ تمام فرقوں کو قبول کرتے ہوئے فرقوں کا گُلدستہ بنالیں جس میں ہر فرقہ ایک پھول کے ماند ہو۔۔۔اور یہ فیصلہ کہ کونسا فرقہ یا  فرد جنتی ہے۔۔۔ یہ فیصلہ تو اللہ نے ہی کرنا ہے۔۔۔  تو پھر ہمیں چاہئیے کہ ہم اللہ کے فیصلے کے دن تک  کا انتظار کریں اور آپس میں رنجشیں نہ بڑائیں ،اس دُنیا کو جہنم نہ بنائیں، خاندان کے مقدس رشتوں میں دراڑیں نہ پڑنے دیں اور نہ ہی  گھرکے ماحول کو تکلیف دہ بنائیں ۔۔۔
چونکہ: گھر اور خاندان انسان کے لیے اِس دُنیا کی جنّت ہے۔۔۔(ایم۔ڈی)

Monday, February 6, 2012

" دلیل کی دلیل "

منجانب فکرستان پیش ہے: عالمی اُصولی ضابطے  ، طاقتور طبقے نہیں مانتے ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہمارے وفاقی وزیر خزانہ جناب ڈاکٹر  عبدالحفیظ شیخ نے پاکستان کی غریب قوم کو دیا عالمی اصول کا بے وزن دلیل والا مشورہ  وہ یہ کہ پٹرولیم  مصنوعات کی عالمی قیمتوں میں اضافہ کو قوم بالکل اُسی طرح سے قبول کرے جیسے سونے کی قیمتوں میں عالمی اضافہ کو قبول کرتی ہے۔ اگر وزیر خزانہ کا یوں عالمی حوالہ کی دلیل دینا جائز ہے۔۔۔ تو پھر عالمی حوالہ کی دلیل  یہ  بھی تو ہے کہ دُنیا بھرکی حکومتیں ٹیکس  امیروں سے وصول کرتی ہیں ۔۔۔جبکہ پاکستان میں ٹیکس بالواستہ یا بلا واستہ غریب اور متوسط طبقہ سے وصول کیا جاتا ہے ۔۔۔ آپ کا خود فرمانا ہے کہ امیر بااثر  طبقہ ٹیکس  نہیں دیتا ہے۔۔۔ ۔     یعنی  عالم میں رائج ٹیکس کے اُصولی  ضابطے پاکستان کے طاقتور ور طبقے نہیں مانتے ۔۔۔ ہے کوئی اخلاقی جواز ؟  ۔۔۔ایسی صورتِ حال میں جبکہ دولت مند طبقہ ٹیکس نہ دیتا ہو غریب  پاکستانیوں  سے کہنا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں  میں اضافوں کو قبول کریں کتنا جائز ہے  ؟؟؟ اور پھر آپ روز مرہ استعمال کی پیٹرولیم مصنوعات  کا موازنہ سونے جیسی مصنوعات سے کر رہے ہیں جسکی خریداری صرف شادی بیاہ کے موقعوں پر کی جاتی ہے۔آپکا اس طرح پر موازنہ کرنا میرے خیال میں کسی طرح بھی جائز نہیں ہے ۔۔۔ یہ ایک بے وزن دلیل ہے ۔۔۔  بُہت شُکریہ۔ (ایم ۔ڈی)
Daily Express 3 فروری 2012

Wednesday, January 25, 2012

" برطانوی جج صاحبہ کا فیصلہ "

 منجانب فکرستان پیش ہے: برطانوی جج صاحبہ کےکئے گئے ایک انوکھے اور بولڈ فیصلہ کی روداد۔۔۔ 
 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 وکیل اکرم شیخ نے منصور اعجاز کی سیکوٹی کے حوالے سے وڈیو کانفرس کی تجویز دی ہے،جبکہ حُسین حقانی کے وکیل زاہد بُخاری نے اس تجویز کی مخالفت کی ہے۔۔۔اسطرح کی خبریں پڑھ کر مُجھے برطانوی جج صاحبہ کا وہ فیصلہ یاد آگیا کہ جس میں آفتاب احمد نامی شخص نے  اپنے آپکو دیوالیہ ظاہر کیا تھا لیکن عدالت میں اپنے آپکو دیوالیہ ثابت کرا نے میں اُسکو مُشکل پیش آرہی تھی ۔۔۔آج اُسکے مقدمہ کا فیصلہ سُنایا جانا تھا۔۔۔ لیکن آفتاب جام ٹریفک میں بُری طرح سے پھنسا ہُواتھا۔۔اُسے عدالت پہنچنے میں دیر ہورہی تھی، اس لیے وہ  کافی جُھنجھلایا ہُوا  تھا کہ   اُسے کال موصول ہوئی دوسری طرف جج صاحبہ تھیں ، آفتاب سہم گیا ۔۔۔جج صاحبہ نے پوچھا۔۔ کہاں ہو ۔۔۔آفتاب نے جواب دیا ٹریفک میں پھنسا ہُوا ہوں ۔۔جج صاحبہ نے پوچھا۔ ڈرائیونگ تو نہیں کر رہے ہو۔۔ آفتاب نے جواب دیا۔ نہیں ۔۔۔جج صاحبہ نے کہا۔اگرتُمہیں اعتراض نہ ہو تو ابھی فون پر ہی فیصلہ سُنادیتی ہوں ۔۔۔آفتاب حیران ہو گیا ،اور کہا ۔۔سُنائیں ۔۔۔ جج صاحبہ نے جرمانے اور کمیونٹی سروس کی سزا سُنادی ۔۔اتنے میں پولیس والے بھی راستہ بناتے ہوئے آفتاب تک پُہنچ گئے تاکہ گرفتار کرکے کمیونٹی سزا پر عمل درآمد کرایا جائے ۔۔۔۔
یہ روداد 15جنوری، ایکسپریس کے سنڈے میگزین سے اخذ کی گئی ہے ، ۔۔۔۔
مُجھے جج صاحبہ کا یہ فیصلہ انوکھا ، دلچسپ اور فکر انگیز لگا۔۔۔اسلیے آپ سے شئیر کر رہا ہوں۔(ایم ۔ڈی)

Monday, January 23, 2012

" پانی سے کار چلانے والے، ڈاکٹر غلام سرور کا وڈیو انٹرویو "

 منجانب فکرستان پیش ہے : بشکریہ تبصرہ نگار محمد عامر کا فراہم کردہ ڈاکٹر غلام سرور کا وڈیو لنک ۔۔
 ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
جب سونے ،تانبے اور کوئلے کے ذخیرہ کی خوشخبریوں سے پاکستان کے مستقبل کے  سُنہری خواب بنُنے لگا تھا کہ ڈاکٹرعبدالقدیر خان کے دو تین  کالم ایسے پڑھنے کو ملے کہ سُنہری خواببن گئے،گو عمران خان سے بھی مستقبل کیلئے اچّھی آس لگائے بیٹھے ہیں ۔۔۔لیکن آج کے اخبار میں پھر ایک ایسی خبر چھپی کہ "دل" اُس خبر کو "انقلاب" کانام دینے کیلئے پرُ جوش ہورہا ہے  ۔۔۔لیکن ذہن کہہ رہا سوچ لو !  :hmm
وجہ اسکی یہ ہے کہ کثرت استعمال  سے لفظ "انقلاب" کے معنی  کو نقصان پہنچا ہے ، اب یہ معمولی معمول تبدلیوں میں بھی استعمال ہونے لگا ہے ۔ لیکن میں جس انقلاب کا ذکر کر رہا ہوں وہ واقعی ایک انقلاب  ہےاس لیے کہ دُنیا بھر میں اسکے اثرات مرتب ہونگے۔۔۔اب آپ ذرا تصور میں لائیں کہ  ۔۔۔اگر گاڑیاں تیل کے بجائے  پانی پانے سے چلنے لگیں ۔۔ کاربن کے بجائے آکسیجن خارج کرنے لگیں تو ۔۔دُنیا۔۔ کیا سے کیا ہوجائے گی؟؟؟ کیا یہ انقلاب نہ ہوگا ؟؟؟ 
 جب میں پاکستان کے اِس جینئس شہری جناب ڈاکٹر غلام سرور  سے مُتاثر ہوکر یہ پوسٹ لکھ رہا تھا  تو  ذہن میں  جینئس "ارفع کریم" کا چہرہ  بھی گُھوم گیا ، دُعا گو ہوں کہ" ربِ کریم " ارفع( جینئس) کریم" کو جنّت میں ارفع واعلیٰ مقام عطا فرمائے(آمین)
اب آپ ذیل کا کاپی پیسٹ تراشہ پڑھیں ، وڈیو دیکھیں اور فیصلہ کریں کہ میں نے لفظ "انقلاب " صحیح استعمال کیا ہے نا / یا میں نےاس لفظ کو نقصان پہنچایا ہے :hmm۔۔۔ اب اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔ (ایم ۔ ڈی)
Daily Express
   23 جنوری 2012
  



Tuesday, January 17, 2012

" چند امریکی / برطانوی عدالتی ججوں کے فیصلے "

منجانب فکرستان پیش ہیں:امریکی/برطانوی ججوں کے" توہین عدالت" کے منفرد فیصلے۔ 
 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آج کل پاکستانی میڈیا میں ہونے والی عدالتی بحثوں نے شاید عوام کی سرمیں درد کردیا ہوگا۔۔۔ آئیں دیکھتے ہیں کہ امریکی اور برطانوی ججوں نے کس کس عمل کو توہین عدالت گردانا اور اُس پر کیسے فیصلے دیے۔۔۔۔
۔امریکی ریاست الی نواے میں مسٹر ولیمز اپنے کزن کے مقدمہ کی  کاروائی دیکھنے گئے اور کمرہ عدالت کی اگلی نشستوں میں سے ایک پر جا بیٹھے۔۔۔ جب مقدمہ کا فیصلہ سُنایا جا رہا تھا۔۔ولیمز کو ایک زوردار جماہی آگئی ۔۔جج  نے اُسی وقت اپنی کاروائی روک دی۔۔ ولیمز کی طرف گھور کردیکھا اور "جماہی" کو توہین عدالت قرار دیکر اُسی وقت 6 ماہ کیلئے جیل بھیج دیا ۔۔۔
 جب جماہی کیلئے منہ کُھلا تھا۔۔۔ تو اب جج کے فیصلے پر حیرت سے منہ کُھلے کا کُھلا رہ گیا ۔۔۔۔
  گئے تو تھے بڑی شان سے دوست کے مقدمہ کی کاروائی دیکھنے۔۔۔ اور پُہنچ گئے چھ ماہ کیلئے جیل ۔۔۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
امریکی ریاست اوہا ئیو میں ملزم جج سے بحث کرنے لگا کہ مقدمہ کی پیروی وہ خود ہیکرے گا جبکہ جج  ملزم کو سمجھاتا رہا کہ بغیر وکیل مقدمہ کی کاروائی نہیں ہوسکتی ،لیکن ملزم برابر تکرار کئے جا رہا تھا ، جج نے عدالت میں موجود پولیس اہل کاروں کو حُکم دیا کہ کاروائی مکمل ہونے تک کیلئے ملزم کے منہ پر ٹیپ لگا کر اسکا منہ بند کردیا جائے ۔ پولیس نے فوراً ہی  ملزم کو پکڑ کر منہ پر ٹیپ لپیٹ دیا ۔۔۔
 اسی لئے تو بڑے بُزرگوں نے کہا ہے کہ بحث کرنا اچّھی بات نہیں ۔۔۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  نیویارک کی ایک عدالت میں مقدمہ کی سماعت کے دوران حاضرین میں سے کسی کا فون بج اُٹھا سب ایکدوسرے کی طرف دیکھنے لگے ۔جج صاحب نے اپنی آنکھوں کے زریعے سے حاضرین میں سے اُس شخص کو تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے جس پر اُنہوں نے حکم دیا کہ جس شخص کا فون بجا ہے وہ فوراً فون کو عدالت کے حوالے کرے ۔۔46 حاضرین میں سے کسی نے بھی نہیں کہا کہ اُسکا فون بجا ہے ۔۔جس پر جج کو غُصہ آگیا  اور اُسنے پولیس اہل کاروں کو حُکم دیا کہ تمام حاضرین کو جیل میں بند کردو اور پولیس   نے فوراً 46 افراد کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا ۔۔۔لیکن اس بے تُکے غُصیلے فیصلے پر جج کو اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا ۔۔۔۔اسی لیے تو غُصہ کو حرام کہا جاتا ہے ۔۔۔
درج بالا تمام مقدمات: اخبار ایکسپریس کے سنڈے میگزین سے اخذ کئے گئے ہیں ۔۔۔دلچسپ  لگے اس لیے آپ سے شئیر کر رہا ہوں ۔۔ اب اجازت دیں آپکا بُہت شُکریہ  ۔ (ایم ۔ ڈی ) 





Saturday, January 14, 2012

" اسٹیفن ھاکنگ کا یہ کہنا ہے/عورت کائنات کا پیچیدہ معمہ ہے "

 منجانب فکرستان:یورپی محققین کا یہ دعویٰ ہے۔مرد عورت کے درمیان فرق، سوچ سے بھی زیادہ ہے۔
 ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عورت معمہ ہے/سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔۔یہ بات اُس شخص نے کہی جو کائناتی معمہ حل کرتا ہے،میری مُراد اسٹیفن ہاکنگ سے ہے،پہلی عورت "جین" اُنکی زندگی میں آئی شادی کرکے عورت (بیوی) کی سائکی  کو 23 سال تک سمجھنے کی کوشش کرتے رہے لیکن نہیں سمجھ سکے/ نہ نبھی تو طلاق ہوگئی ۔ پھر اُنہوں نے  ایک نرس سے شادی کی۔۔۔ اور ایک بار پھرنئے سرے سے  عورت (بیوی) کی سائکی  کوسمجھنے کی  کوشش کی۔۔۔ تا کہ اُسکے مطابق زندگی گُزار سکیں ۔۔۔اسلئیے کہ اب وہ دوبارہ طلاق جیسی صورت حال کو برداشت کرنے کے قابل نہیں رہے تھے ۔۔۔ لیکن اس باربھی پروفیسر صاحب  بُری طرح ناکام رہے۔۔ ۔صرف 11 سال بعد ہی نوبت طلاق تک پہنچ گئی  ۔ ۔۔2 عورتیں 34 سالہ تجربہ کا حاصل ۔۔۔وہ  یہ کہنے پر مجبور ہوئے       کہ۔عورت کائنات کا پیچیدہ معمہ ہے                                                                                                                                      
جس طرح عورت مرد کیلئے معمہ ہے بالکل اسی طرح مرد بھی عورت کیلئے ایک ایساہی معمہ ہے ۔۔ یقین نہ آئے تو کسی بھی شادی شُدہ عورت سے پوچھ کر دیکھ لیجئے۔۔ وہ یہ ہی جواب دے گی کہ۔۔مرد نہ حل پزیر معمہ ہے۔۔۔ میں آم کہتی ہوں، وہ املی سمجھتا ہے ۔۔۔ اسی لیے تو آئے دن طلاقیں ہوتی رہتی ہیں ،جہاں نہیں ہوتی وہاں سمجھوتے ہوتے ہیں ۔۔۔مرد  عورت جسمانی کشش /  ذہنی اختلاف کی وجہ   یہ بھی تو ہوسکتی ہے کہ زمین پر دونوں جنسوں کا  مادہ الگ yippie.gifالگcheerleader.gifسیارہ سے آیا  ہو۔۔۔۔۔۔۔۔اور زمین نے دونوں جنسوں کو خوش آمدید کہا ہو۔۔۔۔۔۔۔  دونوں جنسوں میں  جہاں جسمانی کشش موجود ہے، وہیں پر دونوں جنسوں میں ایک دوسرے کیلئے ذہنی مذاہمت بھی موجود ہے۔۔۔
 لیکن دونوں دل کے رشتے جوڑ تے ہیں  فطرت کا یہی حُکم ہےکہ 
زمین کی گود   بھری  رہے۔۔۔۔۔
میں یہ تو نہیں کہتا میرے خیال سے متفق ہوں ٭ میں تو اپنا خیال آپ سے شئیر کرہا ہوں ۔(ایم ۔ ڈی)۔
    دونوں تراشے 6جنوری کے ہیں۔ Close
  

Tuesday, January 10, 2012

" میری طرح آپکو بھی / یقین نہیں آئے گا "

منجانب فکرستان:انسان کی ترقی/انسانیت کی پست سطح کس درجہ پر پُہنچ گئی ہے اُسکی ایک جھلک لنک وڈیو پر۔  
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 چین میں 2 سالہ بچّی بازار میں ماں سے بچھڑ کر۔۔ماں کوڈھونڈتی روڈ پر آنکلی اور روڈ کے درمیان کھڑی ہوگئی  چند لمحے بعد ایک وین بچّی کو کچلتی ہوئی چلی گئی، دُکاندار ،آنے جانے والے لوگ جن میں ،موٹر سائیکل سوار ، پیدل سب ہی شامل تھے بچّی کے قریب سے ایسے دیکھتے ہوئے گُزرتے جارہے تھے جیسے کوئی بات ہی نہ ہوئی ہو۔۔۔  بچّی ایسی ہی زخمی حالت میں پڑی رہی ۔۔۔کچھ دیر بعد ایک اور وین آئی وہ بھی اِس معصوم بچّی کو مزید  کُچلتے  ہوئے گُذر گئی پھر بھی دیکھنے والے دُکانداروں یا بچّی کے قریب سے گُذرنے والوں کے ضمیر نہ جاگے ،آخرِ کار ایک کچرا چننے والی خاتون نے بچّی کو اُٹھایا اور دُکانداروں سے پوچھنے لگی کہ یہ کس کی بچّی ہے جس پر دُکانداروں نے جواب دیا "اپنے کام سے کام رکھو" ۔۔۔ البتہ ایک نے  ایمبولنس کو فون کیا۔۔ بچّی دو ہفتہ تک موت و زندگی کی کشمکش میں مبتلا  رہی پھر  زندگی ہار  گئی ۔یہ واقعہ میں نے سنڈے ایکسپریس میگزین میں پڑھا تو مُجھے یقین نہیں آیا  سمجھا کہ یہ میڈیا کی کارستانی ہے جس نے واقعہ کو بڑا چڑھا کر لکھا ہوگا۔ لیکن خبر میں یہ بھی لکھا تھا کہ بازار کی ایک دُکان میں لگے سیکورٹی وڈیو کیمرے کے زریعے یہ پورا واقعہ ریکارڈ ہوگیا جوکہ یو ٹیوب پر موجود ہے ۔۔۔۔۔۔ جب خود اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا تو یقین آیا کہ انسانیت حد سے زیادہ پست  ترین سطح پر پہنچ  گئی ہے ۔۔۔۔
  بچّی کی وڈیو ذیل لنک پر ہے ۔۔۔اب اجازت دیں کہ دل میں دُکھ  اور  آنکھ میں پانی ہے ۔۔۔
آپکا بُہت شُکریہ ۔۔(ایم ۔ڈی)
http://www.youtube.com/watch?v=6htx6TaNiPY&feature=related



Monday, January 9, 2012

" وقت اور لیڈر "

منجانب فکرستان پوسٹ ٹیگز : کمیونسٹ پارٹی /جسٹس اینڈ ڈیولیپمنٹ  پارٹی/UMNO پارٹی/چوائس ہے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
"وقت" تبدیلی کا خوگر ہے۔۔ وہ منفی مثبت دونوں طرح کی تبدیلی لاتا ہے ، وہ یہ کام بڑی لگن کے ساتھ دُنیا کی ہر چیز میں کرتا رہتا ہے۔۔ وہ ملکوں میں تبدیلیاں لانے کیلئے لیڈر مہیا کرتا ہے ۔۔ لیکن پاکستان کے ساتھ معملہ یہ ہے کہ سرمایا داروں، وڈیروں ، جاگیر داروں نے پاکستان کے گرد ایسا حصار کھینچ رکھا ہے کہ وقت کو  پاکستان کےعوام کو نجات دلانے والا لیڈر مہیا کرنے میں  دقت پیش آرہی ہے۔۔۔
جبکہ پاکستان کے بعد آزاد ہونے والے مُلک" چین  کی کمیونسٹ پارٹی کو وقت نے  ماؤزے تنگ  مہیا کیا جنکی پرُ اثر شخصیت نے افیونی چینیوں کی زندگی کو بدل کر رکھ دیا ۔۔۔ اسکے علاوہ ملائشیا کی UMNO پارٹی کو وقت نے مہاتیر محمد دیا  جنکی پالیسیوں نے ملائشیا کو بلندی پر پہنچادیا۔۔۔ ترکی کی جسٹس اینڈ ڈیو لیپمینٹ پارٹی کو وقت نے عبداللہ گل مہیا کیا  انکی  شخصیت کی وجہ سے ترکی بھی تیزی سے ترقی کے منزلیں  طے کررہا ہے ۔۔۔ انضمام الحق کی کپتانی میں اُنکی شخصیت کے زیرِ اثر بے نمازی کھلاڑی بھی باجماعت نماز پڑھتے تھے ۔۔۔ کہنے کا مقصد یہ ہےکہ لیڈر کیشخصیت کا جماعت پر اثر پڑتا ہے ۔۔۔ ۔ویسے توقائداعظم کو بھی  یہ گلاِ تھا کہ اُنکی پارٹی میں کھوٹے  سکے ہیں ۔۔۔۔کھوٹے سکے ہر پارٹی میں ہوتے ہیں ۔  
   ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نے اپنے آج کے کالم میں موجودہ حکومت کی بُرائیاں گنوائیں اور پھر اِن بُرائیوں میں نواز شریف کو بھی برابر کے ذمہ دار ٹھرایا۔۔۔آپنے لکھا ہے کہ" ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئیے کہ میاں نواز شریف جو اَب خود کو مسیحا کے طور پر پیش کر نے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔۔۔ ان چار سالہ مُصیبتوں کے ذمہ دار ہیں ۔۔۔ انکے تکبّر اور عقل وفہم کی کمی نے ہم پر یہ نا اہل و راشی حکمراں نازل کئے ہیں" ۔۔۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ ملک اورقوم کو اس حالت میں پہنچانے میں دونوں  پارٹیاں برابر کی ذمہ دار ہیں ۔۔۔اس لیے میرے خیال میں ہمارے پاس عمران خان کے علاوہ کوئی چوائس نہیں ہے۔۔۔۔ڈاکٹر صاحب کے کالم کی تفصیل کیلئے لنک پر جائیں ۔۔۔اور مُجھے دیں اجازت آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔
میں یہ تو نہیں کہتا میرے خیال سے متفق ہوں لیکن میرے خیال کا پوسٹ مارٹم ضرورکریں ۔(ایم ۔ ڈی) 


Wednesday, January 4, 2012

" چار سو ایک ہی آواز گونج رہی ہے "

منجانب فکرستان پیش ہے پوسٹ ٹیگز: لاڈلے/ صراطِ مستقیم/ آوازیں  /لزت/تیسری دنیا/خالی صفحہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ڈیلفی کے مندر کے دیوتا سے لوگوں نے پوچھا کے کہ رات کو تارے ٹوٹ کر زمین کی طرف آتے ہیں ،لیکن کوئی غیبی طاقت زمین پر گرنے سے پہلے اُنہیں جلا کربھسم کرد یتی ہے ۔۔۔جواب آیا کہ جو تارے سیدھا راستہ چلنا چھوڑ دیتے ہیں دیویاں اُنکا پیچھا کرتی ہیں ،اور  غلط راستہ چلنے کی پاداش میں اُنہیں جالا کر بھسم کردیتی ہیں ۔۔۔صد شُکر کہ ہمارا خالق تو ہم پر بڑا مہر بان ہے، اس لیے کہ خالق نے جو راستہ ہمیں بتایا ہم اُس پر نہیں چلتے ۔۔۔ بلکہ ہم اُن راہوں پر چلتے ہیں جن سے خالق نے منع کیا ہے ۔۔۔۔ لیکن وہ ہمیں  جلاکر بھسم نہیں کرتا ۔۔۔۔وہ رحمان ہے ۔۔۔۔وہ رحیم ہے ۔۔۔۔ہم اُسکے لاڈلے ہیں۔۔۔۔ وہ ہمیں کُچھ بھی نہیں کہتا ۔
۔ ۔ مگر۔۔۔ مگر میرے دائیں کان میں یہ کیسی آوازیں آرہی ہیں ،یہ کون کہہ رہا کہ خالق کے اسی لاڈ نے انسان کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔۔۔۔ غلط راستہ چلنے والے انسان کو اُسی وقت جلا کر بھسم کردیتا تو آج دُنیا کی یہ حالت نہ ہوتی۔۔۔ سب انسان صراط مستقیم پر چلتے ، دُنیا مثلِ جنّت بن جاتی ۔۔۔مگر۔۔۔ مگر یہ کیا   میرے بائیں کان میں تو کُچھ دوسری طرح  کی آوازیں آرہی ہیں ۔۔۔کوئی کہہ رہا ہے ایمانداری سے بتاؤ اگر سب کے سب صراط مستقیم پر چلنے لگیں ۔۔۔دُنیا سے بُرائی ختم ہوجائے۔۔۔ سب مومن ہوجائیں ۔۔۔کوئی بھی بُرا نہ رہے۔۔  تو کیا  جینے میں مزا باقی  رہے گا اخبار اُٹھا کر دیکھ لیں پورا اخبار اس بات سے بھرا  ہُوا ہےکہ ہرکوئی دوسرے کو بُرا کہہ رہا ہے ، جب کوئی بُرا نہیں رہے گا تو اخبار کا صفحہ خالی رہے گا ۔۔۔ پھر ہم وہ لزت کیسے حاصل کریں گے جو ہم دوسرے کو بُرا کہہ کر حاصل کرتے ہیں ،جب میں دوسرے کو جاہل کہتا ہوں تو میری" انا " موٹی ہوجاتی کیونکہ میں دوسرے سےاعلیٰ ہوجاتا ہوں، دوسرے سے اعلیٰ ہونا دُنیا کی سب سے بڑی لزت ہے۔ ہر شخص کسی نہ کسی کو خراب،بےوقوف ، کافر، غیر مہذب ، جاہل ،کم عقل جیسے الفاظ کہہ کر اپنی "انا" موٹی کررہا ہے ۔۔۔  پہلی دُنیا تیسری دُنیا کو جاہل ، جنگلی، غیر مہذب کہتی ہے جبکہ تیسری دُنیا والے پہلی دُنیا والوں کو ، مکّار، بے حیا، روحانی سکون سے عاری، عنقریب تباہ  ہونے والے کہہ کر لزت حاصل کرتی ہے۔۔۔
جب سب اعلیٰ بن جائیں گے تو پھر پادری ، ربی، پنڈت،مولوی، اُس لزت  کو کیسے حاصل کریں گےجو وہ اپنے آپ کو دوسروں سے اعلیٰ سمجھ کر حاصل کرتے ہیں ۔۔  دنیا میں کہیں بھی، کوئی بھی جھگڑا ہو چاہے وہ گھریلو ہو کہ ملکوں کے مابین۔۔ فریقین سے  پوچھنے پر جواب یہی ملے گا کہ دوسرا خراب ہے۔۔۔ امریکی خراب ہیں، ایرانی خراب ہیں،سعودی خراب ، بھارتی خراب، پاکستانی خراب ۔اسرائیلی خراب ، فلسطینی خراب ،فرانسیسی خراب، جرمن خراب ،رشین خراب ، مسلمان خراب  ،عیسائی خراب ، ہندوخراب  ، یہودی خراب ،شعیہ خراب ،سُنی خراب ،بریلوی خراب،دیوبندی خراب،کیتھولک خراب،پروٹیسٹ خراب، عربی خراب، عجمی خراب، عورت خراب ، مرد خراب، ساس خراب ، بہو خراب ، شوہر خراب ،بیوی خراب، زرداری خراب، نواز شریف خراب۔الطاف حسین خراب، عمران خان خراب ۔ پنجابی خراب ہوتے ہیں،سندھی خراب ہوتے ہیں، پختون خراب ہوتے ہیں ۔ مہاجر خراب ہوتے ہیں، بلوچی خراب ہوتے ہیں،افغانی خراب ہوتے ہیں ، اب میں کہاں تک گنواؤں غرض کہ پوری دُنیا میں چار سو یہ ہی ایک آوازگونج رہی ہے کہ ۔۔۔ میں اچّھا ہوں/ ہم اچّھے ہیں ۔۔۔ دوسرا خراب ہے/ دوسرے بُرے ہیں۔۔۔۔ اب سوال پیدا ہوتا ہےکہ جب سب ہی اچّھے ہوجائیں گےتو پھراتنی بڑی دوزخ کو کون بھرے گا۔ ۔۔اور جنّت کیلئے آزمائش والے فلسفہ کو کیسے اپلائی کریں  گے  ۔۔۔ خُدا کیلئے ۔۔۔ خُداکیلئے  ۔۔۔ یہ شوربند کرو۔۔۔کون ہو تم لوگ۔۔۔  چپُ ہوجاؤ۔۔۔۔ایسی باتیں نہ کرو ۔۔۔ یہ آوازیں بند کرو۔۔اس لیے کہ۔۔۔
 رب کی باتیں رب ہی جانے۔ ۔۔اُسکی حکمت ،ہم کیا سمجھیں۔۔۔۔ اُسکی مصلحت   ،ہم کیا جانیں ۔۔۔۔ ۔۔۔۔بھاڑ میں جائے یہ ڈیلفی کامندر اور  اُسکا دیوتا۔۔۔ خوامخواہ ہم کو بہکا رہا ہے ۔۔۔ ذلیل۔۔ کمینے ۔۔لعنت ہو تُجھ پر۔۔۔ ہم سیدوں ،پیروں ،گدی نشینوں کو بہکا رہا ہے۔۔۔ہم تیرے بہکاوے میں کبھی نہیں آئیں گے ۔۔۔ہم تُجھ پر تُھوکتے ہیں ۔۔۔آخ تُھو ۔۔۔تُھوک سیدھا ۔۔۔۔ میرے منہ پر گرتا ہے اور میری آنکھ کُھل جاتی ہے ۔۔۔۔۔اب اجازت دیں ۔۔آپ کا بُہت شُکریہ  (ایم ۔ ڈی)


یاد داشت کے جھروکوں سے (قسط # 19)۔۔

  منجانب فکرستان :  غوروفکر کے لئے [ رَبِّ  زِدْنِيْ عِلْمًا] ، تفسیرابن کثیر ، سُپر پاور/ V2 Power۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ...