Image result for monument valley
ہر چیز سے عیاں ہے،ہرشے میں نہاں ہے،خالِق کائنات، مالِک کائنات
عقلِ کُل،توانائی کُل، ہمہ جہت، ہمہ صِفت،خالِق کائنات، مالِک کائنات
آنکھیں کہ جِن سے میں دیکھا ہوں میری نہیں، عطائے خُداوندی ہے
  پاؤں کہ جِن سے میں چل تا ہوں میرے نہیں،عطائے خُدا وندی ہے
غرض یہ کہ میرے  وجود کا ذرہ  ذرہ   میرا  نہیں ،عطائے خُداوندی ہے
میرے خالِق میرے مالکِ میرے پروردگارانِ نعمتوں کا بے انتہا شُکریہ  


Saturday, July 28, 2012

متضاد سوچیں ۔۔۔

منجانب فکرستان: دو ایجادیں متضاد سوچوں کی پہچانیں ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جس قوم میں جس طرح کی سوچ پائی جاتی ہے اُس قوم کے جینئس افراد اُسی سمت میں اپنی صلاحیتیں صرف کرکے اُسی سوچ کی حامل ایجادیں کرتے ہیں ،ابھی حال ہی میں دو  متضاد سوچ کی حامل ایجادات کی خبریں  پڑھیں ،متضاد ان معنی میں ہیں کہ ایک ایجاد  کا تعلق اسی موجودہ  دُنیا سے ہے تو دوسری کا تعلق مرنے کے بعد کی دُنیا سے ہے ۔ یہ دو ایجادیں دو الگ الگ سوچوں کی پہچانیں ہیں۔ 
 اِس دنیا کو بہتر بنانے کی سوچ کے حامل ، جنیاتی کوڈ کی کا پی فراہم کر رہے ہیں تا کہ آنے والی نسلیں بیماریوں سے پاک صحت مند  زندگی گُذارسکیں، جبکہ دوسری دنیا کو بہتر بنانے کی سوچ نے ایک ایسی جائے نماز ایجاد کی ہے جو قبلہ کا صحیح رخ بتاتی ہے کہ نماز کی ادائیگی صحیح سمت میں ہو، تاکہ عبادت قبول ہو اور جنت پائیں۔اِس سوچ کے حامل جینئس افراد قُرآن ،حدیث اور عبادات کے حوالے سے آ ئے دن نئی سے نئی ایجادیں کرکے جہاں دوسروں کیلئے جنت کے حصول کیلئے آسانیاں پیدا کرتے ہیں وہیں اس میں اپنے لیے ثواب کمانے کی سوچ بھی شامل ہوتی ہے۔۔۔اس سوچ کے حامل لوگوں کا محور آخرت ہوتا ہے۔۔ 
کیا جن لوگوں  کی سوچ کا "محور" آخرت ہے وہ اِس دنیا کو گذارنے کیلئے  ہمیشہ اُن لوگوں کے محتاج رہیں  گے کہ جن کی سوچ کا "محور" یہ دنیا ہے ،جو اِس دنیا کو بہتر  سے بہتر بنانے کی کوشش میں اپنی سوچ کی انرجی صرف کررہے ہیں ؟؟ کیا ہماری  قسمت میں محتاجی لکھ دی گئی ہے ؟؟ یا ہماری سوچ نے ہماری قسمت کو  محتاج بنادیا ہے ؟؟؟ 
 کیونکہ اللہ تعلیٰ نے تو  تمام انسانوں کیلئے اپنا پیغام النجم آیت  39  میں صاف لفظوں میں دے دیا ہے کہ   وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ﴿٣٩﴾  ترجمہ" ہر انسان کیلئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اُس نے کی " (ترجمہ محمد جونا گڑھی) اسی آیت کو علامہ اقبال نے اپنے  شعرمیں یوں ڈھالا ہے۔
خُدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی ٭ نہ ہو جس  کو خیال خود اپنی حالت بدلنے کا۔ 
دونوں خبروں کی تفصیلات لنک پر ۔۔ اب اجازت دیں۔۔ آپکا بُہت شُکریہ۔۔(ایم۔ڈی)